نئی دہلی :(ایجنسی)
کیرالہ کے گورنر عارف محمد خان نے کرناٹک کے حجاب تنازع پر بات کی ہے۔ انہوں نے کہا،’مذہب کوتقسیم نہیں کرنا چاہیے بلکہ لوگوں کو متحد کرنا چاہیے۔ ڈریس کوڈ کسی بھی ادارے سے جڑا مسئلہ ہے۔ اس میں شامل لووں کو مقررہ نظم و ضبط پر عمل کرنا چاہیے۔‘
انہوں نے نیوز 18 سے بات چیت میں کہا کہ ماضی میں شمالی ہندوستان میں پردہ حملہ آوروں کی وجہ سے آیا تھا۔ لیکن اب شمالی ہندوستان میں خواتین بہتلمبے گھونگھٹ نہیں لگاتی ہیں ۔ اور وہ نقاب پہننے کے لئے مجبور بھی نہیں کیا جاتا ہے۔ وقت بدلنے کے ساتھ رسم و رواج بھی بدلتے رہتے ہیں۔
عارف خان نے کہا کہ پچھلی حکومتیں ان لوگوں کے سامنے جھک گئیں جنہوں نے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کی، لیکن موجودہ حکومت ایسا نہیں کر رہی ہے۔ ایسی تبدیلیوں سے ہم آہنگ ہونے میں وقت لگے گا۔ کیرالہ کے گورنر نے کہا کہ لڑکیوں اور خواتین کو اب پہلے سے زیادہ آزادی ملی ہے۔ پہلے انہیں گھونگھٹ اور تین طلاق جیسے طریقوں کے تحت دبایا جاتا ہے۔
حجاب کے تنازع کے درمیان عارف محمد خان نے کہا کہ طالبات ڈریس کوڈ سے واقف تھیں۔ اس کے بعد بھی انہوں نے جان بوجھ کر تعلیمی اداروں میں داخلہ لیا۔ اس کے خلاف اچانک بغاوت نہیں کر سکتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ طلباء کو کچھ سیاسی، خفیہ مقاصد کے حصول کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
بتادیں کہ ایک دن پہلے کرناٹک ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں اسکول کالج میں مذہبی لباس پہننے پر پابندی لگا دی تھی اور اسکول کالج کھولنے کا حکم دیا تھا۔ ساتھ ہی یوتھ کانگریس کے صدر سرینواس بی بی نے اس کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضی داخل کرتے ہوئے فوری سماعت کی مانگ کی ہے۔










