رام پور :(آر کے بیورو)
سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو جمعہ کومسلم چہرہ رہے قد آور لیڈر اور ابھی جیل میں بند اعظم خاں کی انتخابی تشہیر کےلیے رام پور پہنچے۔یہاںتحصیل آباد میں پارٹی امیدوار وجے سنگھ کے لیے منعقدہ انتخابی میٹنگ میں اکھلیش یادو نے اعظم خاں کے لیے اپنا درد ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ انھیں بھینس اور کتاب چوری کے الزام میں جیل میں رکھا گیا ہے، جب کہ کسانوں کو روندنے والوں کو ضمانت دے دی گئی ہے۔ان کا اشارہ لکھیم پور کھیری سانحہ میں ضمانت پانے والے مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ اجے مشرا کے بیٹےآشیش مشرا کی جانب تھا۔
اکھلیش یادو نے کہا کہ’’ ویہ ووٹ ڈالنے کا حق ہمیں ملا ہے ۔ آپ کا ایک ایک ووٹ تبدیلی لائے گا۔ جب ہم لوگ انتخاب لڑرہے ہیں، عبداللہ تو آگئےہمارے درمیان میں، دوس سال انہیں پریشانی اٹھانی پڑی۔ جھوٹے مقدمات میں رہنا پڑا۔ محمداعظم خاں صاحب، ان کے بغیر ہمارا انتخاب چل رہاہے ۔ وہ ہوتے تو الیکشن دوسرے طریقے سے ہوتا۔ جھوٹے مقدمات میں جیل چلے گئے۔ جھوٹے مقدامات کی عمر زیادہ نہیں ہوتی ۔

سماجوادی پارٹی کے قومی صدر و سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو کے رام پور پہنچنے پر سیتاپور جیل میں بند سماجوادی پارٹی کے قدآور لیڈر محمد اعظم خاں کے صاحبزادے عبداللہ اعظم خاں جو سوار ٹانڈہ اسمبلی حلقہ سے سماجوادی پارٹی کے امیدوار ہیں کی قیادت میں سماجوادی کارکنان نے زبردست استقبال کیا۔ اکھلیش یادو کی آمد کے موقع پر شہر کو دلہن کی طرح سجایا گیا تھا، حالانکہ کچھ مقامات پر پولیس نے رخنہ ڈالنے کی پوری کوشش کی لیکن سماجوادی کارکنان کا حوصلے کو پست نہیں کر پائی۔ ’تخت بدل دو تاج بدل دو، ملائم سنگھ زندہ باد، اعظم خاں زندہ باد، اکھلیش یادو زندہ باد، عبداللہ اعظم زندہ باد، سماجوادی پارٹی زندہ باد‘ کے فلک شگاف نعروں کے درمیان اکھلیش یادو کا وجے رتھ باب علم سے شہر میں داخل ہوا۔ جو گاندھی مال، سماجوادی پارٹی کے صدر دفتر دارالعوام، موتی مسجد، بزریہ ملا ظریف، مدرسہ کہنہ کے راستے جیل روڈ کے قریب پہنچا۔ جیل تراہہ پر اکھلیش یادو نے عوام سے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ پہلے مرحلے میں لوگوں نے اپنے ووٹ کے ذریعے یوگی حکومت کے خاتمے کی بنیاد رکھ دی ہے۔ اور اب دوسرے دور میں سہارنپور سے لے کر رامپور تک ووٹ ڈالے جائیں گے۔ یہاں کے لوگ بھارتیہ جنتا پارٹی کا مکمل صفایا کر دیں گے۔
سماجوادی سپریمو نے بی جے پی پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ لیپ ٹاپ چلانا نہیں جانتے وہ اچھی سرکار کیسے چلا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی حکومت میں عوام بے روزگاری، مہنگائی، خواتین اور دلتوں کے خلاف بڑھتے جرائم، غربت کے مسائل سے دوچار ہے ۔ سماجوادی پارٹی کی حکومت بننے پر 300 یونٹ تک بجلی مفت دی جائے گی اور نیتا جی ( ملائم سنگھ) کے دور حکومت کی طرح کسانوں کو آب پاشی کے لئے مفت بجلی دستیاب کرائی جائے گی جس کا کوئی پیسہ نہیں دینا ہوگا۔
اکھلیش یادو نے کہا کہ سرکاری ملازمین کی دیرینہ خواہش کا احترام کرتے ہوئے ہم نے پرانی پنشن اسکیم بحالی کو اپنی ترجیحات میں شامل کیا ہے۔ اکھلیش یادو نے کہا کہ پچھلے سالوں میں سماجوادیوں پر بہت ظلم کیا گیا ہے، آپ کے شہر میں تو ظلم کی انتہا ہوئی ہے۔ سماج وادی سپریمو نے اشارہ دیا ہے کہ یوپی میں سماجوادی -آر ایل ڈی سرکار بننے پر اعظم خاں کے صاحبزادے عبداللہ اعظم کو کابینہ میں جگہ دی جائے گی۔ عبداللہ اعظم سوار ٹانڈہ سیٹ سے پارٹی امید وار ہیں ۔ اعظم خاں شہر سیٹ سے پارٹی امیدوار ہیں ۔اکھلیش نے کہا ہے کہ ان پر جھوٹے مقدمات ہیں اور ان کی کوئی عمرنہیں ہوتی ۔ان کا کہنا ہے کہ ایسے مقدمات واپس لیے جائیں گے ۔اس سے قبل اکھلیش یادو نے شاہ آباد اور کیمری میں عوامی جلسوں کو خطاب کیا۔ اکھلیش یادو کا وجے رتھ رامپور شہر میں روڈ شو اور خطاب کے بعد کھود کے لئے روانہ ہو گیا۔
اکھلیش یادو نے کہا، ’جھوٹے مقدمات کا صفایا ہو گا۔ ان کے خلاف تو جھوٹے مقدمات لگے اور وہ جانتے ہوں گے ، کیسے کیسے مقدمے ہیں۔ پیڑ چوری، بھینس چوری، بکری چوری، کتاب چوری، شراب کی بوتل کامقدمہ، پتہ نہیں کتنے کیس ہیں۔ انہیں جیل میں رہنا پڑ رہا ہے ، جنہوں نے اخبار پڑھا ہوگا آج کا جیپ سے کچلنے والا جیل سے باہر آگیا۔ ان پر مقدمات ہیں بھینس چوری کے انہیں جیل رہنا پڑ رہاہے ۔ جن کو ہم نے ٹی وی پر دیکھا کہ جیپ سے کسانوںکو کچل دیا، وہ جیل سے باہر ہے، یہی نیو انڈیا ہے۔ جو ترقی پسند ہوگا ، یونیورسٹی بنائے گا، آپ کے حق اور احترام کے لئے لڑے گا ،اسے جیل ہوگی اور جو کسانوں کو کچلے گا اسے جیل سے باہر کردیا جائے گا۔ یہ ہے نیو انڈیا بی جے پی کا۔‘
کسانوں کی تحریک کا ذکر کرتے ہوئے اکھلیش یادو نے کہا کہ یہ ناانصافی اور جھوٹی حکومت ہے۔ اکھلیش یادو نے ایک بار پھر اپنے انتخابی وعدوں کو دہراتے ہوئے کہا کہ جب بجلی کا بل آتا ہے تو کرنٹ لگتا ہے کہ نہیں؟ کچھ لوگوں کے خلاف مقدمات ہیں، انہیں ہراساں بھی کیا جاتا ہے۔
ایس پی کارکنان کا انتظامیہ پر زیادتیوں کا الزام

اترپردیش اسمبلی انتخابات کے دوسرے دور میں 14 فروری کو رامپور میں ووٹ ڈالے جائیں گے۔جمعہ کے روز سماجوادی پارٹی کے قومی صدر و سابق وزیر اعلی اکھلیش یادو رامپور شہر سمیت ضلع کی پانچوں اسمبلی نشستوں پر ایس پی امیدواروں کی انتخابی مہم میں حصہ لینے کے لئے رامپور آمد کا پروگرام تھا۔ قومی صدر کے استقبال کے لئے سماجوادی پارٹی کارکنان شہر کے ان تمام راستوں کو جن سے سابق وزیر اعلی کے قافلے کو گزرنا تھا ہرے لال رنگ کے غباروں سے سجانے میں مصروف تھے ۔ لیکن الزام ہے کہ ضلع انتظامیہ کو سماجوادی کارکنان کا یہ جوش پسند نہیں آیا۔ پولیس انتظامیہ نے آدھی رات کو جیل روڈ پہنچ کر نہ صرف بزریہ ملا ظریف، مدرسہ کہنہ سے جیل تک کے راستے میں بعض مقامات کی تمام سجاوٹ کو اکھاڑ پھینکا ساتھ ہی سجاوٹ کے کام میں مصروف 8 سماجوادی کارکنان کو حراست میں لے کر تھانہ گنج پولیس کے حوالے کر دیا۔
حالانکہ گزشتہ روز کانگریس پارٹی کی قومی جنرل سیکریٹری پرینکا گاندھی کے روڑ شو کے موقع پر بھی شہر کو سجایا گیا تھا لیکن پولیس نے کسی طرح کی رکاوٹ ڈالنے کی کوشش نہیں کی۔۔ سماجوادی کارکنان میں شدید غم وغصے کا ماحول ہے۔ سماجوادی مہیلا سبھا کی صوبائی سکریٹری حمیرا خان نے پولیس کے رویہ پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پچھلے چند سالوں سے سماجوادی کارکنان کے تئیں پولیس انتظامیہ کا رویہ غیر منصفانہ رہا ہے ۔ حمیرا خان نے کہا کہ موجودہ حکومت تمام جمہوری حقوق چھین رہی ہے۔ انتخابی کمیشن نے ضابطہ اخلاق میں اپنے زاتی مکانات و دوکانوں پر مخصوص سائز کے جھنڈے ودیگر سجاوٹی اشیاء کے لگانے پر روک نہیں لگائی ہے۔ لیکن رامپور پولیس انتظامیہ ضابطہ اخلاق کے نام پر سماجوادی کارکنان کا استحصال کرنے پر آمادہ ہے۔










