اردو
हिन्दी
مئی 9, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

صحافت کا اعزاز: چار ہندوستانیوں میں سے تین مسلمان

4 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر, مضامین
A A
0
صحافت کا اعزاز: چار ہندوستانیوں میں سے تین مسلمان
121
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

تحریر:ڈاکٹر سلیم خان

ملک کی جیلوں میں ہندوستانی مسلمانوں کے تناسب پر بہت بحث ہوتی ہے لیکن کوئی اس پر گفتگو نہیں کرتا کہ عالمی ایوارڈ پانے والےہندوستانی صحافیوں میں مسلمانوں کی تعداد کتنی ہے؟ 2011 کی مردم شماری کے مطابق ملک میں مسلمانوں کی آبادی 14.2 فیصد ہے لیکن جرائم کا ریکارڈ رکھنے والےقومی ادارے این سی آر بی کی رپورٹ کے مطابق قصوروار قرار دیئے گئے مسلمانو ں کی تعداد 16.6 فیصد اور زیر سماعت قیدیوں کی تعداد 18.7 فیصد ہے۔ ملک میں فروغ پانے والے فرقہ پرستی کے ماحول نے انتظامیہ اور عدلیہ کو متاثر کیا اور وہ جس مقننہ کے تحت کام کرتے ہیں وہاں تو فسطائیت نے اپنی جڑین مضبوط کرلی ہیں ۔ ایسے میں مسلمانوں کا اپنی آبادی ڈھائی فیصد زیادہ لوگوں کا سزا یافتہ ہونا کوئی حیرت کی بات نہیں ہے۔ اس میں بدعنوانی کا بھی اپنا کردار ہے ۔ امیر کبیر لوگ اپنے مجرمین کو بڑے وکیل اور رشوت کے بل بوتے پر بچا لیتے ہیں جبکہ غریب کو یہ سہارے نہیں مل پاتے ۔ جہاں زیر سماعت قیدیوں میں مسلمانوں آبادی سے زیادہ ہونے کا سوال ہے یہ سراسر انتظامیہ کے بھید بھاو کا نتیجہ ہے۔ اس کا مظاہرہ ہر فساد کے بعد ہوتا ہے کہ جن کا گھر لٹا، جو زخمی ہوئے اور مارے گئے انہیں کی گرفتاریاں بھی خوب ہوئیں ۔ کھرگون سے لے کر جہانگیر پوری تک یہی کہانی ہے۔

اس تفریق و امتیاز کی ایک مثال ارنب گوسوامی کے لیے رات ۸؍بجے عدالت کا پیشگی ضمانت دینا اور امن چوپڑا کو اس سے نوازنا ہے جبکہ صدیق کپن ہنوز جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہیں۔ دنیا بھر میں جہاں جمہوریت پھل پھول رہی ہے وہیں صحافت کی آزادی کا بیڑہ بھی بتدریج غرق ہوتا جارہا ہے ۔ انٹرنیشنل پریس انسٹیٹیوٹ کی رپورٹ کے مطابق میڈیا کو دبانے کی کوششوں میں اضافہ ہوا ہے۔ دنیا میں آزادیٔ صحافت کی 635 خلاف ورزیاں ریکارڈ کی گئی ہیں اورپچھلے ایک سال کے دوران کم از کم 49 صحافی ہلاک ہوئے ہیں ۔آئی پی آئی کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ وطن عزیز میں آزادی ٔ صحافت کی سب سے زیادہ 84 خلاف ورزیاں درج کی گئیں اور جملہ چار صحافیوں کو جان سے ہاتھ دھونا پڑانیز آٹھ حراست میں ہیں ۔اس صورتحال کے ذمہ دار تک رسائی کے لیے جارج آرویل کی ایک مشہور کہاوت مدد کرتی ہے کہ ’اگر آپ کو سمجھنا ہو کہ دراصل کنڑول کس کے ہاتھ میں ہے تو ان قوتوں کی طرف دیکھو جن پر نہ تنقید ہوتی ہے اور نہ ہی کھل کر بات۔‘ ہندوستان کی صورتحال جارج آرویل کے افسانے کی منہ بولتی حقیقت ہے۔

آزادی ٔ صحافت کے موقع پر امسال شائع ہونے والی سن 2021 کی رپورٹ کے مطابق ہندوستان صحافیوں کے لیے بہت خطرناک ملک بن گیا ہے۔ پچھلے دنوں مدھیہ پردیش کے اندر کچھے کے اندر پولیس کی حراست میں صحافیوں کی بھیڑ اس کی غماز تھی۔ امریکہ کے سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی ایک رپورٹ میں بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ جو صحافی اور صحافتی ادارے سرکار پر تنقید کرتے ہیں ان پر سوشل میڈیا میں ٹرولنگ کے ذریعے دباؤ بڑھایا جا تا ہے۔ اس پینل نے صدیق کپن اور کشور رام کا نام لے کر ان پر قائم مقدمات کا ذکر کیا ۔ صحافی کپن کو یوپی میں ہاتھرس جاتے ہوئے ایک دلت دوشیزہ کی عصمت دری کی رپورٹ کرنے پر گرفتار کیا گیا تھا۔ دلت صحافی کشور رام کو عصمت دری کا شکاردلت خاندان کے ساتھ انٹرویو کے دوران ذات پات کا مسئلہ اٹھانے پر گرفتار کیا گیا تھا۔ یہ ایک شرمناک حقیقت ہے کہ اس سال پوری دنیا میں سب سے زیادہ 100 سے زائد مرتبہ انٹرنیٹ بند انٹرنیٹ بند کرنے سہرا ہندوستان کے سر ہے۔فی الحال دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت سوڈان، ایران اور میانمار کی صف میں کھڑی ہے۔ حق کی آواز بلند کرنے والوں کو ڈرا دھمکا کر خاموش کرنے کی کوشش کی جارہی ہے حالانکہ میڈیا کی آزادی ہی سماجی آزادی کی کسوٹی ہے۔

ہندوستان کے اندر صحافت کی اس دگر گوں صورتحال کے بیچ عالمی سطح پر معتبر ترین ایوارڈ کا اعلان ہوگیا ۔ امسال ‘پلٹزر پرائزز2022 ‘ پانے والے میں ہندوستان کے چار فوٹوگرافر شامل ہیں اور ان میں سے تین مسلمان ہیں ۔ اس اعلیٰ ترین ایوارڈ کا سلسلہ 1917 میں شروع ہوا تھا۔ جوزف پلٹزر نے کولمبیا یونیورسٹی میں جرنلزم اسکول شروع کرنے اور پلٹزر ایوارڈ کے لیے اپنی زندگی بھر کی کمائی مختص کر دی تھی۔ افغانستان میں پچھلے سال ہلاک ہونے والے ممتاز فوٹو گرافر دانش صدیقی کو پھر ایک بار پلٹزر پرائز 2022 سے نوازا گیا ۔ ان کے علاوہ عدنان عابدی، ثنا ارشاد مٹو اور امیت دیو کو اس اعزاز سے سرفراز کیا گیا ۔ ان لوگوں کی ہندوستان میں کوویڈ سے ہونے والی اموات کی تصاویر پر یہ باوقار انعام ملا ۔ یہ حسن ِ اتفاق ہے کہ اس فہرست شامل ثناارشاد کا تعلق کشمیر سے ہے جہاں صحافت کو سب سے زیادہ کچلا گیا ۔ پچھلے سال یعنی 2020 میں بھی تین کشمیری فوٹو جرنلسٹ ڈار یاسین، مختار خان، اور چنی آنند نے پلٹز انعام جیتنے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔

دانش صدیقی کو جب پچھلے سال پس از مرگ ممبئی پریس کلب کے زیر اہتمام منعقدہ ایک تقریب میں سالانہ ‘ریڈ انک ایوارڈ فار ایکسیلنس ان جرنلزم’ پیش کیا گیاتو ان کی خدمت میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے چیف جسٹس آف انڈیا این۔ وی رمنا نے کہا تھا کہ "وہ جادوئی آنکھ والے انسان تھے اور عصرِ حاضر کے معروف فوٹو جرنلسٹ میں شمار کیے جاتے تھے‘‘۔ میدانِ جنگ میں دانش کی موت کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ ’’جنگ کا احاطہ کرنے والے نامہ نگاروں کا کام خطرات سے بھرا ہوا ہے‘‘۔ اس ایوارڈ نے گودی میڈیا کے چاپلوس جوکروں کو آئینہ دکھا دیا۔ ان کو یہ احساس ہوا ہوگا کہ مداری کے کھیل میں اچھل کود کرنے سے کچھ سکےّ تو مل جاتے ہیں لیکن عزت نہیں ملتی ۔

دہلی کی جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی سے ماس کمیونی کیشنز میں ماسٹر ڈگری حاصل کرنے والے دانش صدیقی پر صحافت کی بلندیاں حاصل کرنے کا جنون تھا۔ رائٹرز نامی معروف خبررساں ادارے سے 2010 میں وابستہ ہوکر انہوں نےافغانستان اور عراق میدانِ جنگ میں پہنچ گئے۔ اس کے ساتھ روہنگیا بحران ، ہانگ کانگ میں جمہوریت نواز مظاہرے اور ہندوستان این آر سی کےعلاوہ کورونا وبا کے دوران بھی اپنے کیمرے کو ناقابل بیان لمحات کا گواہ بنایا تھا۔وہ اس ٹیم کا حصہ تھے جس کو میانمار کے روہنگیا مہاجر بحران کی دستاویز کرنے کے لئے 2018 میں فیچر فوٹو گرافی کے لئے پلٹزر ایوارڈ سے نوازا گیا تھا۔ ان کی بدولت روہنگیا مہاجرین کو میانمار سے فرار ہونے میں درپیش تشدد کے واقوات دنیا کے سامنے بے نقاب ہوئے۔ اسی لیے انہیں روہنگیا کا ہیرو بھی کہا جاتا تھا۔

ایک طرف دانش صدیقی ، عدنان عابدی، ثنا ارشاد مٹو اور امیت دیو جیسے جانباز صحافی ہندوستان کا نام روشن کررہے ہیں دوسری جانب نیوز 18کا امن چوپڑا ہے جسے راجستھان پولیس پکڑنے کے لیے نکلی تو وہ بزدل روپوش ہوگیا ۔امن کے دشمن اس متنازع متشدد مشتعل مزاج ٹی وی صحافی کو مختلف فرقوں کے درمیان دشمنی فروغ دینے اور مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے الزام میں گرفتار کرنے کے لیے پولیس تلاش کررہی تھی ۔ امن چوپڑاپر الزام ہے کہ اس نے جھوٹی اور فرضی تفصیلات پیش کرکے راجستھان حکومت پر الور کے مندر گراکر جہانگیر پوری کا بدلہ لینے کا الزام لگایا۔ وہ اشوک گہلوت کو اورنگ زیب کہہ رہا تھا جبکہ مندر کو گرانے کا فیصلہ بی جے پی کی بلدیاتی کونسل نے سڑک چوڑی کرنے کے لیے کیا تھا۔ امن چوپڑا نے گرفتاری سے بچنے کے لیے راجستھان ہائی کورٹ سے اپنے خلاف دو ایف آئی آر میں راحت حاصل کی لیکن تیسری میں نہیں کرسکا اس لیے ڈنگر پور ضلع کی مقامی عدالت نےگرفتاری کے وارنٹ جاری کردیا اور ہندوتوا کا نام نہاد بزدل شیر چوہے کی مانند اپنے بل میں چھپ گیا اور پیشگی ضمانت ملنے کے بعد ہی باہر آیا۔

امن چوپڑا جیسے لوگوں کے سبب رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز (RSF) کی طرف سے جاری کردہ تازہ ترین رپورٹ میں، آزادی صحافت کے معاملے میں بھارت 142 ویں مقام سے 150 ویں نمبر پر آ گیا جو زمبا بوے سے بھی نیچے ہے ۔ یہ درجہ بندی کل 180 ممالک کے لیے ہے۔”فری اسپیچ کلیکٹو” کے لیے تیار کردہ گیتا سیشو کی تحقیق کے مطابق ہندوستان کے اندر سن2020میں 67صحافیوں کو گرفتار کیا گیا اور 200کے قریب کو جسمانی تشدد کانشانہ بنایا گیا۔ صحافیوں کو غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون (UAPA)کے تحت گرفتار کر کے جیل بھیج دیا جاتا ہے جو اقوام متحدہ کے چارٹر کی صریح خلاف ورزی ہے۔ جموں وکشمیرمیں صحافیوں کو قتل، اقدام قتل ، گرفتاریوں اور دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور 1989سے اب تک متعدد صحافی قتل اور زخمی ہو چکے ہیں۔ ایک سوال یہ ہے کہ ہندوستان میں کام کرنے والے دیگر صحافی اپنی برادری پر ہونے والے مظالم کی مخالفت کیوں نہیں کرتے؟ (الاماشاء اللہ)۔ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ ایک اندازے کے مطابق حکومت ہند ہرسال تیرہ ہزار کروڈ روپیوں کے اشتہار بانٹتی اور اس طرح اچھے اچھوں کو چبائے بغیر ترنوالہ بنا کر نگل لیا جاتا ہے لیکن ایسے میں صدیق کپن ، کشور رام ، ثنا ارشاد، رویش کمار اور رعنا ایوب جیسے لوگوں نے صحافت کی لاج رکھی ہوئی ہے اس لیے وہ مبارکباد کے مستحق ہیں۔

(یہ مضمون نگار کے ذاتی خیالات ہیں)

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN