اردو
हिन्दी
مئی 9, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

’سمراٹ پرتھوی راج‘ ہندوتوا کے ایجنڈہ میں وہاں تک پہنچی ہے، جہاں اب تک کوئی فلم نہیں گئی تھی

4 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر, مضامین
A A
0
’سمراٹ پرتھوی راج‘ ہندوتوا کے ایجنڈہ میں وہاں تک پہنچی ہے، جہاں اب تک کوئی فلم نہیں گئی تھی
136
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

تحریر:سدھارتھ بھاٹیہ

حالیہ برسوں میں ہندی فلموں نے حقیقی معنوں میں بھگوا جھنڈےکو بلند کیا ہے۔ قرون وسطیٰ کی کہانیاں، جو بعض دفعہ تخیل اور متھ پر مبنی ہوتی ہیں’ ان کو رزمیہ؍رزم گاہ میں تبدیل کردیا گیا ہے- جن میں ہندو راجہ پردہ سیمیں پروحشی اور بے رحم مسلمان لٹیروں کوشکست دیتے ہیں۔ہندو راجہ بار بار بہ آواز بلند اپنی ہندو پہچان کا اعلان کرتے ہیں اور یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ مذہبی جنگ لڑ رہے ہیں۔ یہ موجودہ حکومت کے نئے ہائپر- نیشنلسٹ، ہندوتوا ایجنڈے کےساتھ بخوبی میل کھاتا ہے۔ لیکن اب ایک فلم وہاں تک گئی ہے، جہاں اب تک کسی اور فلم کی رسائی نہیں تھی۔

حال ہی میں ریلیز ہوئی فلم’سمراٹ پرتھوی راج‘ کاایک پرنٹ-ایڈ (اشتہار) فخریہ انداز میں اعلان کرتا ہے؛

آئیے ہندوستان کے آخری ہندوسمراٹ کا جشن منائیں۔

یہاں کوئی شک و شبہ نہیں ہے۔ آج تک کسی نے کھلے عام اپنے پیغام کو اس طرح سے واضح لفظوں میں کسی خاص برادری تک میں محدود نہیں کیا تھا۔حقیقت یہ ہے کہ ہندی فلمیں اپنی کامیابی کے لیے آبادی کے ہر حصے اور ہر مذہب کے ناظرین پر منحصرکرتی ہیں۔ یہاں ہمارے سامنے ایک ایسی فلم آئی ہے، جس کو صرف (کٹر؍شدت پسند) ہندو ناظرین ہی درکار ہیں۔

اگر آپ کو لگتا ہے کہ یہ محض ایک اشتہار کا معاملہ ہے، تو آپ کو اس کا ٹریلرضرور دیکھنا چاہیے۔ ماتھے پر تلک اور ‘ہری ہر’ کی گرج کے بیچ فلم کی منشا پر کوئی شک نہیں رہ جاتا۔یہ فلم ہمیں پرتھوی راج چوہان کی کہانی بتاتی ہے، جنہوں نے موجودہ راجستھان اور دہلی پر 12ویں صدی میں حکومت کی تھی۔ انہوں نےغوری کو کئی بار شکست دی، اور آخر میں غوری سے شکست کھا کر اس کاقیدی بن گیا۔پرتھوی راج، سنجوگتا کے لیے جن کی محبت کے بارے میں اسکولوں میں پڑھایا جاتا تھا، ان کو کئی بار فلموں اور ٹیلی ویژن پر دکھایا جاتا رہا ہے، لیکن ہندوستانی ‘راشٹر واد’کے پوسٹر بوائے اکشے کمار کی حالیہ فلم میں جس شان کے ساتھ انھیں پیش کیا گیا، ویسا پہلے کبھی نہیں ہوا۔

یہاں کچھ باتیں اور ہیں، جو معمہ کے طور پر سامنے آتی ہیں- انہیں آخری ہندو سمراٹ کیوں کہا گیا ہے؟یقینی طور پراگلی چند صدیوں میں اور بھی بہت سے راجہ ہوئے، جنہیں ہندوتوا بریگیڈ مذہب کے محافظ کے طور پر پیش کرتی ہے (حالانکہ یہ بھی بہت متنازعہ ہے)۔ باجی راؤ، تانہاجی (دونوں 18ویں صدی) پر فلم بن چکی ہے۔ اور ہمیں خود کو قربان کرنے والی پدماوتی (14ویں صدی) کو نہیں بھولنا چاہیے، جنہوں نے اپنے آپ کو علاؤالدین خلجی کے حوالے کرنے کے بجائے جوہر کا ارتکاب کرنے کا انتخاب کیا، جس کی کہانی سپر ڈرامائی انداز میں ‘پدماوت‘ میں بیان کی گئی ہے۔

ان تمام فلموں میں مسلمانوں کو شیطان اور ولن کے طور پر پیش کیا گیا اور ہندوؤں کی عزت افزائی کی گئی، چاہے انہیں ایسا کرنے کے لیے ستی کی مدح سرائی ہی کیوں نہ کرنی پڑی ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ ہماری زندگی کے دو ہندوسمراٹ بال ٹھاکرے اور نریندر مودی پر بھی فلمیں بن چکی ہیں۔

تاہم، اشاروں میں بات کرنے کی روایت کو چھوڑ کر جس طرح سے یہ فلم بنا گھمائے پھرائے براہ راست اپنی بات کہتی ہے، وہ ہندی سنیما کے لحاظ سے سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ اور جہاں ایک طرف یہ مستقبل میں مزید بیہودہ اشتہارات کی راہ ہموار کرتی ہے، وہیں دوسری طرف یہ ہندی سنیما (اور ہندوستانی فہم و ادراک) کے لیے ماضی تک جانے والے راستے کو مضبوطی سے بند کر دیتی ہے، جو پہلے ہی فکشن جیسی لگتی ہے۔

کیا واقعی میں کوئی ایسا وقت تھا جب ہندوستان سیکولرازم میں یقین رکھتا تھا اور ہندوستانی حکومت اس کی حوصلہ افزائی کرتی تھی؟ہندی فلموں میں ان اقدارکی جھلک ملتی تھی اور ہندو مسلم ہم آہنگی ایک مستقل موضوع تھا۔ مسلمان کردار عام طور پر یا تو ایک مہربان چچا یا وفادار دوست یا ایک خوبصورت عورت کا ہوتا تھا۔ لیکن یہ کبھی بھی ولن اور اس سے بھی بڑھ کر کبھی بھی غدار نہیں ہوتاتھا۔

یہ بھی اتنا ہی مسخ شدہ نقطہ نظر تھا، اس کے باوجود یہ کسی کو نقصان پہنچانے والا نہیں تھا اور ان اقدار کو پیش کرتا تھا، جو ہمارے وجود میں سرایت کر چکی تھی — یا کم از کم ہمیں ایسا محسوس ہوتا تھا۔ڈیڑھ دہائی کے وقفہ کی دو فلموں سے ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ ہندوستان کیسا تھا اور کس طرح پاپولر کلچر نے اس کی عکاسی کی۔

پہلی فلم ہے دھرم پتر (1961)، جس کی ہدایت کاری نوجوان یش چوپڑا نے کی تھی، جن کے بیٹے کی کمپنی یش راج فلمز نے اب’سمراٹ پرتھوی راج‘ کو پروڈیوس کیا ہے۔چوپڑہ نے صرف دو سال قبل فلم ’دھول کا پھول ‘سے اپنی ہدایت کاری کی شروعات کی تھی، جس کا گانا تو ہندو بنے گا نہ مسلمان بنے گا زبان زد خاص و عام ہوگیا تھا۔

’دھرم پتر‘میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح ایک لڑکا شدت پسند ہندو کے طور پر بڑا ہوتا ہے، اورمسلمانوں کے خون کا پیاسا ہے۔ لیکن بعد میں اسے یہ جان کر دھچکا لگتا ہے کہ وہ خود بھی کسی مسلمان کا بچہ ہوسکتاہے۔ ہندی کمرشل فلموں کے لیے یہ ایک غیر معمولی موضوع تھا، لیکن یہ اپنے وقت کے قومی شعور سے ہم آہنگ تھا۔سال 1977 میں مسالہ فلموں کے بادشاہ منموہن دیسائی نے’امر اکبر انتھنی‘ بنائی۔ یہ دیسائی کی دیگر فلموں کی طرح ہی کمائی کرنے کے لیے بنائی گئی معمولی فلم تھی، جس میں ان کےگھسے پٹے فارمولے کی کثرت تھی – بچپن کے بچھڑے ہوئےبھائی،غیر متوقع اتفاقات،بھگوان کی مدد اور مقبول گانے۔

اپنے وقت کے ایک نہیں بلکہ چوٹی کے کئی ستاروں کی موجودگی نے اس فلم میں سونے پر سہاگے کا کام کیا۔ اس فلم کا کریڈٹ ایک تین جوان ہوچکے بھائیوں کے ایک تسلسل پر چلتا ہے، جس میں وہ کار کے نیچے آچکی ایک نابینا عورت کو خون دے رہے ہیں – اور غیر متوقع اتفاق یہ ہے کہ وہ عورت اور کوئی نہیں ، ان تینوں کی ماں ہے۔فلم کے ٹائٹل کارڈ میں ان میں سے ہر ایک کو دکھایا گیا ہے، جو مختلف مذاہب کی پیروی کرتے ہوئے بڑے ہوئے ہیں، لیکن جیسا کہ فلم ہمیں یاد دلاتی ہے، وہ آپس میں بھائی ہیں۔ فلم دیکھنے والے ہر فرد تک یہ پیغام پہنچے بغیر نہیں رہتا۔

دیسائی کوئی آرٹ فلم میکر نہیں تھے، لیکن یہ بات اعتماد کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ اپنی فلم کے سیکولر پیغام کے ذریعے، وہ ناقدین کو پسند آنے والی کسی آرٹ فلمساز کی کسی سنجیدہ فلم کے مقابلے کہیں زیادہ لوگوں تک پہنچ پائے۔

امر اکبر انتھنی بین الاقوامی فلم فیسٹیول میں جانے والی فلم نہیں تھی اور نہ ہی دیسائی کو اس میں دلچسپی رہی ہوگی۔ وہ شبانہ اعظمی سے اکثر کہا کرتے تھے کہ وہ اپنی اداکاری میں زیادہ ڈرامائیٹ پیدا کریں۔ ان کی دلیل تھی کہ ان کی فلمیں ستیہ جیت رے کی فلمیں نہیں ہیں۔ لیکن یہ ہندوستانی ناظرین کے لیے بالکل موزوں تھی اورآج بھی لوگ اس فلم کو پسند کرتے ہیں۔

کیا ان دونوں میں سے کوئی بھی فلم آج بنائی جا سکتی ہے اور کیا ہندوتوا کے نام نہاد محافظ انہیں بننے دیں گے؟اس بات کی بہت کم گنجائش ہے – بے لگام ہندوتوا کے جنونی افرادکو ان میں بہت کچھ قابل اعتراض لگتا ہے۔ پہلی فلم دھرم پتر، صرف ہندوتوا کے دائیں بازو کو ہی مشتعل نہیں کرتی، بلکہ کسی بھی فلمساز میں ایسی فلم کو ہاتھ لگانے کی جرأت نہیں ہوتی،جس کی وجہ سے بھگوا گروپوں کے غصے کا شکار ہونا طے تھا۔ایک بنیاد پرست مسلم مخالف دائیں بازو کودکھانا، جو بعد میں مسلمان نکلتا ہے، حدوں کو پار کرنے والا اور اشتعال انگیز قرار دیا جاتا۔ بلکہ سچ تو یہ ہے کہ اس مرکزی کردار کو ہیرو کے طور پر، ایک دھرم کے راستے پر چلنے والے جنگجو کے طور پردکھایا جاتا، جو صحیح کام کر رہا ہے۔

ایک بنیاد پرست مسلم مخالف دائیں بازو کودکھانا، جو بعد میں مسلمان نکلتا ہے، حدوں کو پار کرنے والا اور اشتعال انگیز قرار دیا جاتا۔ بلکہ سچ تو یہ ہے کہ اس مرکزی کردار کو ہیرو کے طور پر، ایک دھرم کے راستے پر چلنے والے جنگجو کے طور پردکھایا جاتا، جو صحیح کام کر رہا ہے۔جہاں تک دوسری فلم کا تعلق ہے تو اس کو بھی منع کر دیا جاتا۔ ہندو مسلم عیسائی کےبیچ بھائی چارہ؟ آج کے ہندوستان کے لیے یہ بہت زیاہ خطرناک ہے۔اور کچھ نہیں تو فلموں کو سینسر کرنے والی مشتعل ہجوم فلمساز کو آخر میں ہندو مذہب اختیار کرتے ہوئے دکھانے کومجبور کر دیتی، جبکہ منموہن دیسائی نے چالاکی سے اس کو سوال بنا کر چھوڑ دیا۔ فلم میں ہندو ہیرو ایک محب وطن ہوتا، مسلمان قریب قریب ایک دہشت گرد، عیسائی لوگوں کا مذہب تبدیل کرنے والا ۔ ورنہ مذہبی محافظوں کا ہجوم اس فلم کی نمائش نہیں ہونے دیتا۔ان حالات میں کون سا غیرت مند ہدایت کار فلم بنانا چاہے گا؟

کوئی چاہے تویہ استدلال کرسکتا ہے کہ سمراٹ پرتھوی راج ایک محاورے کو گڑھنے کے لیے اقدار کو اپنی گرفت میں لیتے ہیں، لیکن کیا یہ واقعی قومی اقدار ہیں یا صرف اقتدار اور سرکاری مشنری کی حمایت یافتہ پرتشدد اور شور مچانے والی بھیڑ کی قدریں ہیں، جن کا مقصد ان کے ہندوتوا کو نہ ماننے والوں پر اپنی خواہش کو تھوپنا ہے۔ہندوستانیوں کی ایک بڑی تعدادعقیدت مند ہندو ہونے کے باوجود ان کے ہندوتوا پر یقین نہیں رکھتی۔ یہ لوگ الگ خیال کے حامی افراد کی لنچنگ نہیں کرتے اور نہ ہی اونچی آواز میں بول کر دوسروں کو چپ کراتے ہیں۔

تو، ہو سکتا ہے کہ سمراٹ پرتھوی راج کے پروڈیوسر اور اس میں پیسہ لگانے والوں کو صدمہ پہنچے۔ ہوسکتا ہے کہ وہ سمجھیں کہ وہ صرف کٹر ہندوتوادیوں کے بھروسے ایک بہت بڑے بجٹ کی فلم سے منافع نہیں کما سکتے۔ ان میں سے ہر کوئی تھیٹر کے باہر قطار میں کھڑا نہیں ہونے والا۔اگر باکس آفس کے اعداد و شمار توقع کے مطابق نہیں آئے تو سنیما کی ہندو لہر ختم ہو جائے گی، جیسا کہ ہندی سنیما کے متعدد دوسرے پسندیدہ موضوعات کے ساتھ ہوچکا ہے۔

(بشکریہ: دی وائر ہندی)

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN