اردو
हिन्दी
ستمبر 5, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

تیستا سیتلواڑکی گرفتاری کے مضمرات

4 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر, مضامین
A A
0
تیستا سیتلواڑکی گرفتاری کے مضمرات
64
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

تحریر:ابھے کمار

سماجی و انسانی حقوق کارکن ، صحافی اور مصنفہ تیستا سیتلواڑ کو گجرات اے ٹی ایس نے گرفتار کر لیا ہے۔ ممبئی میں واقع ان کی رہائش گاہ سے انہیں اتوار کے روز تحویل میں لے لیا گیا ۔ ان کے خلاف پولیس نے جعلسازی اور دھوکہ دہی سمیت کئی دفعات لگائی ہیں۔ وہیں پولیس پر سیتلواڑ نے یہ الزا م لگایا ہے کہ انہیں گرفتار کرتے وقت زور زبردستی کی گئی اور اس دوران ان کو چوٹیں بھی آئی ہیں۔یکم جولائی تک سیتلواڑ کو پولیس حراست میں بھیج دیا گیا ہےسیتلواڑ کے علاوہ سابق پولیس ڈائریکٹر جنرل آر بی سری کمار اور سابق آئی پی ایس سنجیو بھٹ پر بھی مقدمہ دائر کیا گیا ہے۔ ان لوگوں پر بھی پولیس نے جعلسازی کرنے اور معصوم لوگوں کو پھنسانے سے متعلق مقدمہ دائر کیا ہے۔ اس پورے معاملہ کی جانچ کے لیے گجرات حکومت نے ایک ایس آئی ٹی بنائی ہے۔ ان سب کاروائیوں کے خلاف ملک پھر میں احتجاج ہو رہے ہیں اور انسان حقوق سے وابستہ تنظیموں نے اس بات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے کہ انصاف کا مطالبہ کرنے والوں پر ہی پولیس اُلٹے کاروائی کر رہی ہے۔ بہت سارے انصاف پسند لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ سیتلواڑ اور کو پریشان کر ہندوتوا طاقتیں ایک سخت پیغام بھی دینا چاہتی ہیں۔پیغام یہ ہے کہ انہوں چیلنج کرنے والوں کو ایسی ہی سزا دی جائے گی۔تیستا سیتلواڑ کی گرفتاری کے پیچھے ایک سیاق بھی ہے۔ ان کی گرفتاری ایک دن قبل سپریم کورٹ نے گجرات فسادات سے متعلق ایک فیصلہ سُنایا تھا ۔ اس فیصلہ میں اس نے ذکیہ جعفری سے وابستہ ایک عرضی کو خارج کر دیا۔ یہ عرضی ایس آئی ٹی کی جانچ رپورٹ کو چیلنج کر رہی تھی، جس نے گجرات کے اس وقت کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی کو کلین چٹ دے دی تھی۔ سپریم کورٹ نےنہ صرف عرضی خارض کی بلکہ ا س کیس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ بھی اس پورے معاملہ میں غلط طریقہ کار کا استعمال کیے ہیں ، ان کے خلاف قانوں کے مطابق کارروائی ہونی چا ہیے۔ عدالت کے اس تبصرہ کے بعد گجرات پولیس نے سیتلواڑ اور دیگر کے خلاف نیا مقدمہ درج کیا اور ان کی دھر پکڑ شروع ہو گئی۔

پوری کاررروائی کو دیکھ کر ایسا لگ رہا ہے کہ گجرات پولیس سیاسی دباؤ میں کام کر رہی ہے ۔ المیہ دیکھیے حکومت اور انتظامیہ میں بیتھے جن لوگوں پر فسادات کے دواران اپنے فرائض کو انجام نہ دینے کا الزام تھا ، اب وہی لوگ عدالت کے فیصلے کا استعال ان لوگوں پر کر رہے ہیں جنہوں نے مظلوموں کو انصاف دلانے کے لیے جدو جہد کی ۔ سیاست داں تو اپنے مفاد میں طاقت کا غلط استعمال کرتےرہے ہیں، مگر عدالت کی یہ پوری ذمہ داری ہے کہ وہ ملک کے کمزور ترین لوگوں کے مفاد کو سب سےپہلی ترجیح دے۔ مگر پچھلے کچھ سالوں سے عدالت عظمیٰ کے بہت سارے فیصلوں نے لوگوں کو کافی مایوس کیا ہے۔ را م مندر بابری مسجد تنازع کا ہی معاملہ لے لیجیے ۔ جس مسجد کو دن کی روشنی میں توڑا گیا اس کی ہی شناخت قبول نہیں کی گئی ۔ ذکیہ جعفری کی عرضی کو مسترد کرتے ہوئے کورٹ نے جو تبصرے کیے ہیں وہ بھی کافی تشویسناک ہے کیونکہ عدالت نے انسانی حقوق کے لیے لڑنےوالوں اور مظلوموں کی آواز بلند کرنے والوں کو ہی ٹارگیٹ بنایا ہے۔ عدالت کو یہ سوچنا چاہیے تھا کہ اس فیصلہ کے انتظار میں بھگوا سیاست داں کافی لمبے وقت سےتھے۔ عدالت کےاس فیصلے کو اب وہ اپنے طریقے سے تشریح دے رہے ہیں اور ان لوگوں کو پکڑ رہے ہیں جنہوں نے ان کی سیاست کو کافی عرصہ سےچیلنج کیا ہے۔ سیتلواڑ بھی لمبے وقت سے فرقہ پرستی اور نفرت کے خلاف لڑ رہی ہیں۔ وہ سماجی انصاف کے اقدار میں بھی یقین رکھتی ہیں ۔ بابا صاحب امبیڈر کے افکار سے بھی وہ کافی متاثر ہیں۔ ان کی تحریر اور تقریر میں ذات اور جنس کی بنیاد پر ہو رہے امتیاز کے خلاف بھی صدائے احتجاج ہے۔

عدالت کو یہ بات سمجھنی چاہیے تھی کہ ریاست کی طاقت کے سامنے کسی فرد یا تنظیم کی طاقت کچھ بھی نہیں ہوتی ہے۔ اکثر ریاست اپنے مفاد کے لیے لوگوں کا استحصال کرتا ہے۔جو بھی اس کے ظلم و زیادتی کے خلاف بولے ، ریاست ان کو کچلے کی کوشش کرتی ہے۔ اس لیے جب کوئی فرد یا کوئی تنظیم ریاست یا اقتدار میں بیٹھے لوگوں کے خلاف کیس درج کرتا ہے تو عدالت کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ دونوں کی طاقت ایک برابر ہر گز نہیں ہے۔ ریاست اور ارباب اقتدار کے پاس پوری مشینری ہوتی ہے ، جس کی بنیاد پر وہ اپنے حریف کو ٹارگیٹ کرتی ہے ۔ا عتدال پسندسیاسی افکار نے ہمیشہ ریاست کو شخصی آزادی کے لیے ایک خظرہ مانا ہے۔ ہمارے آئین میں بھی بنیادی حقوق کو سب سے زیادہ اہمیت حاصل ہے، کیونکہ یہ انسانوں کی شخصی آزادی کےضامن ہیں۔ بنیادی حقوق شخصی آزادی پر ریاست کے حملوں کے خلاف ایک شیلڈ کا کام کرتے ہیں۔ یہ بات کورٹ کئی بار فراموش کر دیتا ہے کہ ریاست ہمیشہ سالمیت اور قومی مفاد کےنام پر ہی لوگوں کو پریشان کرتی ہے اور ایسے ایسے قانون کو پارلیمنٹ سے پاس کرا لیتی ہے جو آئین کے بنیادی حوقوق کے لیے خظرہ ثابت ہوتے ہیں ۔ اس لیے عدالت کو چاہیے کہ کسی فرد اور ریاست کو ایک ہی ترازو میں نہ تولے۔عدالت نے اپنے مذکورہ تبصرہ میں پولیس اور ریاست کو یہ موقع دے دیا ہے کہ وہ مظلوم لوگوں کی آواز بلند کرنے والے لوگوں کے خلاف کارروائی کر سکے ۔

کیا یہ بات کسی سے پوشیدہ ہوئی ہے کہ فسادات ہوتے نہیں بلکہ کروائے جاتے ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ جب تک پولیس جائے واردات پر نہ پہنچے تک تک کچھ لوگوں کو کاٹ مار دیا جائے، مگر کیا فسادات کئی کئی دنوں تک چلتے رہیں گے، اگر انہیں روکنے کے لیے پولیس اور انتظامیہ سنجیدہ ہو؟ بہت سارے سیاستات کے ماہرین اور پولیس میں کام کرنے والے اعلیٰ افسران کا کہا ہے کہ دنگے ہوتے نہیں بلکہ کروائے جاتے ہیں۔ہر حکومت کے پاس ایک خفیہ محکمہ ہوتا ہے، جس میں ر ہزاروں کی تعداد میں لوگ کام کرتے ہیں۔ کیا ان کو اس بات کی خبر نہیں تھی کہ گجرات میں اتنا بڑا فساد ہونے جا رہا ہے؟ کیا انہوں نے سرکار کو خبردار نہیں کیا ہوگا؟ عدالت تو فیصلہ دتیی ہی رہتی ہیں ، مگر ان کے سارے فیصلہ تنقید سے پرے بھی نہیں ہوتے ۔ تاریخ نے ماضی کے کئی عدالتی فیصلوں کو کوڑے کے ڈھیر میں بھی ڈال دیا ہے۔ یاد رکھیے معصوموں کا خون اور ان کی آہ میں بڑی گرمی ہوگی ہے۔ وہ ظلم و زیادتی کے بڑے سے بڑے قلعہ کو پانی کی طرح پکھلا دیتی ہے۔ آج تیستا سیتلواڑ اور ان جیسے دیگر انصاف پسند لوگوں کو نشانہ بنایا جانا جمہوریت پر حملے کے مترادف ہے۔ آئیں پر امن طریقے سے مظلوموں کی آواز بلند کرنے والو کو خاموش کرنے کی کوشش کے خلاف ہم اپنی آواز بلند کریں۔

(یہ مضمون نگار کے ذاتی خیالات ہیں)

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
حافظ قرآن کی عظمت اور ان کا مقام و مرتبہ

حافظ قرآن کی عظمت اور ان کا مقام و مرتبہ

مارچ 31, 2022
Damaged bus in Nepal after attack on Indian passengers

نیپال میں کتنے ہندو کتنے مسلمان ہیں؟

ستمبر 11, 2025
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021

کیا ہے ترنگے کی تاریخ، منزل بمنزل سفر کے بارے میں سب کچھ جانیے

جنوری 26, 2025
جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

Easy SIR Form Filing

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جولائی 22, 2026
اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

جولائی 13, 2026
Easy SIR Form Filing

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

جولائی 12, 2026
ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

جولائی 10, 2026

حالیہ خبریں

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جولائی 22, 2026
اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

جولائی 13, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN