اردو
हिन्दी
مارچ 5, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

اورنگ آباد اور عثمان آباد کے نام کیوں بدلے گئے،کیا ہے ان کی تاریخ

4 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ گراونڈ رپورٹ
A A
0
اورنگ آباد اور عثمان آباد کے نام کیوں بدلے گئے،کیا ہے ان کی تاریخ
642
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

نئی دہلی :

کئی ہفتوں سے جاری سیاسی بحران کے درمیان ریاست مہاراشٹرکی حکومت نے ریاست کے دو شہروں اور ایک ہوائی اڈے کے نام بدل دیے ہیں۔

اورنگ آباد کو اب سمبھاجی نگر اور عثمان آباد کو دھاراشیو کے نام سے پکارا جائے گا۔ اس کے علاوہ نئی ممبئی ایئرپورٹ کا نام بدل کر ڈی بی پاٹل ایئرپورٹ کر دیا گیا ہے۔

مہاراشٹرا کی کچھ سیاسی جماعتیں ایک عرصے سے ان شہروں کے نام بدلنے کا مطالبہ کر رہی تھیں۔ ادھو ٹھاکرے کی پارٹی شیوسینا ان میں سب سے نمایاں رہی ہے۔

جیسے ہی سپریم کورٹ نے بدھ کی شام فیصلہ کیا کہ گورنر کے حکم کے مطابق جمعرات کو مہاراشٹرا قانون ساز اسمبلی میں فلور ٹیسٹ کرایا جائے، ریاستی کابینہ نے ان شہروں کے ناموں کی تبدیلی کی منظوری دے دی۔ اس کے بعد فیس بک لائیو میں وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے نے اپنے استعفیٰ کا اعلان کیا۔

اورنگ آباد کا نام کیوں بدلا گیا؟

اورنگ آباد شہر اور ضلع اورنگ آباد کا نام تبدیل کرنے پر بحث چھڑتی رہی ہے۔ حال ہی میں اورنگ آباد شہر میں ہر طرف ’لو اورنگ آباد‘ اور ’سپر سمبھاجی نگر‘ لکھے ہوئے سائن بورڈ جگہ جگہ نظر آئے۔

سیاسی جماعتیں بھی اس معاملے پر آواز اٹھا رہی ہیں۔

شہر میں ’لو اورنگ آباد‘ کا سائن بورڈ لگنے پر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے کہا کہ ’شیو سینا کئی سال سے اورنگ آباد کا نام بدلنے کا مطالبہ کر رہی ہے۔ شیوسینا اب ریاست میں برسراقتدار ہے، اس لیے اسے اب اس شہر کا نام سمبھاجی نگر رکھ کر اس مطالبے کو پورا کرنا چاہیے۔‘

لیکن مہاراشٹرا میں شیو سینا کی اتحادی کانگریس نے صاف کہا تھا کہ وہ شہر کا نام تبدیل کرنے کے کسی بھی اقدام کی سختی سے مخالفت کرے گی۔

اگرچہ کانگریس، جو کہ مہاراشٹرکی حکومت میں شامل تھی، اس معاملے کی مخالفت کرتی رہی ہے تاہم گزشتہ روز کابینہ میں نام کی تبدیلی کے بعد پارٹی نے اپنا ردعمل نہیں دیا۔

ادھو ٹھاکرے جو کل تک ریاست کے وزیر اعلیٰ تھے، کہتے رہے ہیں کہ مخلوط حکومت سیکولر ازم کے ایجنڈے پر کام کر رہی ہے اور مغل بادشاہ اورنگ زیب اس معاملے میں فٹ نہیں بیٹھتے کیوں کہ وہ سیکولر نہیں تھے۔

نام کی تبدیلی سے پہلے ہی ٹھاکرے اپنے بیانات میں اورنگ آباد کو مسلسل ’سمبھاجی نگر‘ کے نام سے پکارتے رہے ہیں۔

کانگریس پارٹی کا اورنگ آباد کا نام تبدیل کرنے کے معاملے پر موقف تھا کہ یہ مسئلہ مخلوط حکومت کی ترجیح نہیں ہے اور کانگریس پارٹی نام کی تبدیلی کی سیاست کے خلاف ہے جس سے سماج میں دراڑ پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

تاہم کانگریس پارٹی نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ انہیں سمبھاجی مہاراج پر بھی کوئی اعتراض نہیں ہے۔

اورنگ آباد کی تاریخ کیا ہے؟

اورنگ آباد میں سب سے زیادہ ہندوؤں کی آبادی ہے، لیکن مسلمانوں کی آبادی بھی کم نہیں ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ سیاسی مقاصد کے لیے اس کا نام تبدیل کرنے کا معاملہ زور و شور سے اچھالا گیا ہے۔

اورنگ آباد میں رہنے والی تاریخ کی ریٹائرڈ پروفیسر اور اسکالر دلاری قریشی کہتی ہیں کہ ’عام طور پر اورنگ آباد کی تاریخ صرف یادو خاندان تک محدود رہی ہے، لیکن یہاں ستواہن دور کے شواہد بھی ملتے ہیں۔‘

بی بی سی سے بات چیت میں انھوں نے کہا کہ ’کنہیری کے غاروں میں لکھی تحریروں میں ستواہنوں نے اورنگ آباد کا ذکر راجت دگ کے طور پر کیا ہے۔

یہ غاریں اورنگ آباد یونیورسٹی کے قریب ہیں۔ درحقیقت یہ تجارتی راستے پر واقع ایک اہم مرکز تھا اور یہ تجارتی راستہ اُجین-مہشمتی-برہان پور-اجنتا-بھوکردن-راجت دگ-پرتشتھان-تیر سے ہوتا ہوا گزرتا تھا۔‘

تاریخ کے اسکالر پشکر ساہنی کا کہنا ہے کہ ’ملک امبر نے اس شہر کا نام فتح نگر رکھا تھا لیکن مغل بادشاہ شاہ جہاں نے جب 1636 میں اورنگ زیب کو دکن کا صوبیدار بنایا تو اس وقت اس شہر کا نام بدل کر خجستہ بنیاد رکھا گیا۔‘

1657 کے بعد شہر کا نام بدل کر اورنگ آباد رکھ دیا گیا۔ اورنگ آباد مغل تاریخ میں لاہور، دہلی اور برہان پور کی طرح اہم ہے۔

شروع میں اورنگ زیب کچھ عرصہ دولت آباد میں رہے لیکن بعد میں وہ خجستہ بنیاد (اورنگ آباد) چلے گئے۔ ان کو یہ جگہ پسند آئی اور یہاں بڑی تعداد میں کالونیاں قائم کی گئیں۔ اس کی قلعہ بندی بھی کی گئی۔ بعد میں اسے دکن کا دارالحکومت بننے کا اعزاز حاصل ہوا۔ ملک امبر کی طرح اورنگزیب نے بھی یہاں 11 نہریں بنوائیں۔

دلاری قریشی بتاتی ہیں کہ کئی مسافروں نے اس شہر کی خوبصورتی کا تذکرہ کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’اورنگ آباد کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ یہ ایک ایسا شہر ہے جہاں کی ہوا خوشبو سے بھری ہوئی ہے، جہاں کا پانی امرت کی طرح ہے۔ اورنگ زیب یہاں 1681 میں آئے اور پھر انھوں نے کبھی بھی دکن کو نہیں چھوڑا۔ انھوں نے خلعت آباد میں اپنے لیے ایک سادہ سا مزار بنانے اور اس پر تلسی کا پودا لگانے کے لیے کہا تھا۔‘

دھاراشیو کی کہانی

شیو سینا کئی دہائیوں سے عثمان آباد کا نام بدلنے کے لیے آواز اٹھاتی رہی ہے۔ نوے کی دہائی میں پارٹی کے وزیر اعلیٰ منوہر جوشی بھی اس کا نام دھاراشیو رکھنے کے حق میں تھے۔

دھاراشیو عثمان آباد کا پرانا نام ہے اور مقامی صحافی کملکر کلکرنی کا کہنا ہے کہ ضلع کو صرف انتظامی مقاصد کے لیے عثمان آباد کہا جاتا ہے۔ ان کے مطابق گاؤں اور دیہی علاقوں میں لوگ اسے اب بھی دھاراشیو کہتے ہیں۔

جب مہاراشٹرا کا مراٹھواڑہ علاقہ نظام آف حیدرآباد کے قبضے میں تھا تو بہت سے قدیم شہروں کے نام بدلے گئے تھے۔ دھاراشیو بھی ان میں شامل تھا۔

دھاراشیو کے بارے میں بہت سی کہانیاں ہیں۔ سکند پران کے مطابق اس گاؤں میں دھراسور نام کا ایک آسیب رہتا تھا جس کے نام پر یہ جگہ دھراسور کے نام سے مشہور ہوئی۔ کہانیوں کے مطابق دھراسور نے شیو کی پوجا کی جس کے بدلے اسے بے پناہ طاقت کا تحفہ ملا۔ لیکن یہ طاقت حاصل ہونے کے بعد دھراسور نے لوگوں کو اذیتیں دینا شروع کر دیں۔

اس کے بعد دیوی سرسوتی نے دھراسور کو مار ڈالا۔ روایت ہے کہ ان کے نام پر گاؤں کا نام دھاراشیو رکھا گیا۔

سینئر صحافی اور مصنف بھرت گجیندر گڈکر نے ’دھاراشیو سے عثمان آباد‘ میں ذکر کیا ہے کہ دھاراشیو نام اس وقت کی تانبے کی تختیوں میں پایا گیا۔ 1972 میں حکومت کے ذریعے شائع ہونے والے عثمان آباد ضلع کے پہلے گزیٹیئر میں بھی دھاراشیو کا نام درج ہے۔

بھرت گجیندر گڈکر کی کتاب میں کہا گیا ہے کہ اس بات پر کافی اختلاف ہے کہ اس شہر کا نام حیدرآباد کے نظام میر عثمان علی خان کے نام پر عثمان آباد کیسے رکھا گیا۔ شہر کی میونسپل کونسل کے نظرثانی شدہ شہری ترقیاتی منصوبے کے باب ایک میں یہ ذکر کیا گیا ہے کہ عثمان علی خان نے سنہ 1900 میں دھاراشیو کا نام بدل کر عثمان آباد رکھا۔

(بشکریہ: بی بی سی اردو )

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

ہم متبادل ورلڈ آرڈر کے حق میں، ٹیرف متاثرین کے لیے سرکار ہر ضروری قدم اٹھائے: امیر جماعت
گراونڈ رپورٹ

ہم متبادل ورلڈ آرڈر کے حق میں، ٹیرف متاثرین کے لیے سرکار ہر ضروری قدم اٹھائے: امیر جماعت

06 ستمبر
سنبھل فساد کی تحقیقاتی رپورٹ میں ایسا کیا ہے کہ یوگی حکومت پر اٹھے سوال دبا دیئے گیے؟
گراونڈ رپورٹ

سنبھل فساد کی تحقیقاتی رپورٹ میں ایسا کیا ہے کہ یوگی حکومت پر اٹھے سوال دبا دیئے گیے؟

01 ستمبر
آسام:بنگالی بولنے والے مسلمانوں کے خلاف نفرت وتشدد میں بےحد اضافہ:India Hate Lab نے نیا ڈیٹا جاری کیا
گراونڈ رپورٹ

آسام:بنگالی بولنے والے مسلمانوں کے خلاف نفرت وتشدد میں بےحد اضافہ:India Hate Lab نے نیا ڈیٹا جاری کیا

03 اگست
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Mohammed bin Salman Iran Role Claim

ایران پر حملہ میں محمد بن سلمان کا کا ا ہم رول؟ واشنگٹن پوسٹ کا دعویٰ

مارچ 2, 2026
Trump Warning Iran Military Claim

لڑائی میں مزید امریکی فوجی مارے جاسکتے ہیں ٹرمپ کی وارننگ، ایران کی ملٹری کمانڈ ختم کرنے کا دعویٰ

مارچ 2, 2026
Jamiat Iran Solidarity Statement News

اسرائیلی بربریت سے عالمی امن تہہ و بالا، جمعیتہ کا دکھ میں ایرانی عوام کے ساتھ اظہار یکجتی

مارچ 2, 2026
US Bases Missile Attacks Middle East

مڈل ایسٹ میں 27 امریکی فوجی اڈوں پر میزائل حملے ،کرا چی میں امریکی سفارتخانہ میں توڑ پھوڑ ،دس مظاہرین مادے گئے، تہران میں دھماکے

مارچ 1, 2026
Malaysia PM Conspiracy Statement

یہودی لا بی کی میری حکومت گرانے کی سازش : ملیشیا کے پی ایم کا انکشاف، کہا ایران، غزہ کی آواز اُٹھانا جرم ہے؟

Mojtaba Khamenei Supreme Leader News

"مجتبیٰ خامنہ ای ایران کے سپریم لیڈر منتخب؟”

Iran Survival War Statement

یہ ایران کی بقا کی جنگ ہے، نشانہ گلف ممالک نہیں وہاں موجود امریکی اڈے ہیں: ڈاکٹر عبد المجید حکیم الہی

Iran Strategy Analysis News

ٹاپ لیڈرشپ ختم پھر بھی ہے دم ، ایران کی اسٹریٹجی سمجھنا ہے تو یہ اسٹوری ضرور پڑھیں

Malaysia PM Conspiracy Statement

یہودی لا بی کی میری حکومت گرانے کی سازش : ملیشیا کے پی ایم کا انکشاف، کہا ایران، غزہ کی آواز اُٹھانا جرم ہے؟

مارچ 4, 2026
Mojtaba Khamenei Supreme Leader News

"مجتبیٰ خامنہ ای ایران کے سپریم لیڈر منتخب؟”

مارچ 4, 2026
Iran Survival War Statement

یہ ایران کی بقا کی جنگ ہے، نشانہ گلف ممالک نہیں وہاں موجود امریکی اڈے ہیں: ڈاکٹر عبد المجید حکیم الہی

مارچ 4, 2026
Iran Strategy Analysis News

ٹاپ لیڈرشپ ختم پھر بھی ہے دم ، ایران کی اسٹریٹجی سمجھنا ہے تو یہ اسٹوری ضرور پڑھیں

مارچ 3, 2026

حالیہ خبریں

Malaysia PM Conspiracy Statement

یہودی لا بی کی میری حکومت گرانے کی سازش : ملیشیا کے پی ایم کا انکشاف، کہا ایران، غزہ کی آواز اُٹھانا جرم ہے؟

مارچ 4, 2026
Mojtaba Khamenei Supreme Leader News

"مجتبیٰ خامنہ ای ایران کے سپریم لیڈر منتخب؟”

مارچ 4, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN