رائے بریلی:
اترپردیش کے دیہی علاقوں میں کورونا وبا قہر بن کر ٹوٹ رہی ہے۔ ریاست کے کئی گاؤں میں گزشتہ تین ہفتہ سے موت کاسلسلہ چل رہاہے۔ کئی معاملات میں وجہ صرف کورونا نہیں مانی جارہی ہے مگر موت کی یہ رفتار خوف وہراس کا ماحول پیدا کردی ہے۔ کچھ ایسے ہی حالت رائے بریلی کے سلطان پور گاؤں کی ہے۔
سلطان پور کھیڑا گاؤں میں کورونا جیسی علامات کےسبب ایک ہفتہ میں ایک یا دو نہیں بلکہ 17 لوگوں نے دم توڑدیا ہے۔ افسران خاموش ہیں ، نا ہی ان کی ٹیسٹنگ ہوئی اور ناہی صحیح علاج مل پایا۔ خاص بات یہ ہے کہ کانگریس کی عبوری صدر سونیا گاندھی یہاں سے رکن پارلیمنٹ ہیں اور ڈپٹی سی ایم دنیش شرما یہاں کے انچارج ہیں۔
رائے بریلی کے چھوٹے سے گاؤں سلطان پور کھیڑا ، جس کی آبادی 2000لوگوں پر مشتمل ہے، یہاں تقریباً 500 پریوار رہتے ہیں ، گزشتہ کچھ دنوں سے ہر طرف موت کا خوفناک منظر دکھائی دے رہا ہے۔ ہر گھر میں آنسو اور غم کاماحول ہے۔ گزشتہ تین دنوں میں یہاں پر 17 موتیں ہوچکی ہیں لیکن انتظامیہ کے ذریعہ نظرانداز کاشکار یہ گاؤں آج بھی اپنے کسی بھگوان جیسے لیڈر کاانتظار کررہاہے۔
گاؤں میں کورونا علامت جیسے زکام اور بخار سے انفیکشن کی شروعات ہوتی ہے اور سانس لینے میں تکلیف کے بعد موت ہوجاتی ہے۔ گاؤں میں دہشت کا ماحول ہے۔ 17 موتیں ہونے کے باوجود ضلع انتظامیہ نے کسی طرح کا کوئی نوٹس نہیں لیا ہے۔ نہ کوئی ٹیم گاؤں پہنچی ہے اور ناہی سینٹائزریشن ہوا ہے ،نا فاگنگ اور نا ہی صاف صفائی کا کام ہوا ہے۔
جاں بحق ہونے والوں میں راکیش شکلا اور اودھیش گپتا کی موت ایل 2اسپتال ریل کوچ میں ہوئی ہے۔ باقی لوگوں کی موت گھروں میں ہوئی ہے۔ گاؤں کے 70 فیصد سے زیادہ لوگ زکام اور بخار سے متاثر ہے۔ گاؤں میں دہشت کا ماحول ہے، لوگ بہت ڈرے ہوئے ہیں۔ سلطان پور کھیڑا گرامین سبھا میں 13 ماجرے ہیں ۔ گھر گھر میںرونا بلکنا جاری ہے ۔
گاؤں والوں کی مانے تو سرکار اور انتظامیہ دونوں ہی پورے معاملے میں لاپرواہ رہے۔ کہیں سے کسی قسم کی کوئی علاج سے متعلق کوئی مدد نہیں مل پا رہی ہے۔ جمعرات کو ڈی ایم کیمپ، کنٹرول روم، اے ڈی ایم ایڈمنسٹریشن اور چیف میڈیکل آفیسر وریندر سنگھ کو آگاہ کیا گیا ہے ، لیکن شام تک کوئی بھی محکمہ جاتی ٹیم یا سینٹائزیشن ٹیم اس گاؤں نہیں پہنچی ہے۔
دوسری جانب کانپور کے بڑے صنعتی قصبے میں کووڈ 19 میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہوا ہے۔ اس کے علاوہ 5 مئی کو شہر میں 24 گھنٹوں میں ریکارڈ 67 کووڈ اموات ریکارڈ کیں۔ تاہم دیہی علاقوں سے کوئی ریکارڈ نہیں ہے۔ کانپور رورل ایریا سے حکام نے اعداد و شمار تک رسائی سے انکار کیا۔
ہریانہ
ہریانہ کے روہتک شہر سے بمشکل 10 کلومیٹر دور واقع ٹٹولی گاؤں خوف و ہراس کی کیفیت میں ہے، مبینہ طور پر دس دنوں میں کووڈ۔19 کی وجہ سے 40 افراد کی موت ہوگئی۔ سرپنچ سریش کمار نے اس خبر کو بریک کرنے کے بعد ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت کے نمائندے گاؤں پہنچ گئے۔ جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین سے اب اس وائرس کا ٹیسٹ لیا جارہا ہے۔
دیہاتیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ سرپنچ نے اموات کی جو تعددا بتائی ہے۔ وو غلط ہے۔ جب کہ اموات اس سے بھی زیادہ ہورہی ہے۔
روہتک کے سب ڈویژنل مجسٹریٹ راکیش سینی نے کہا کہ ’’گاؤں میں اموات کے بعد لوگ خوفزدہ ہیں۔ ہم ان کو حوصلہ دے رہے ہیں کہ کووڈ کا امتحان لیا جائے۔ اس کے بعد یہ واضح ہوجائے گا کہ مرنے والے کووڈ تھا یا نہیں۔








