دیوپریاگ :
اتراکھنڈ کے دیو پریاگ کے بالائی علاقے میں منگل کی شام موسلا دھار بارش کے بعد بال پھٹنے سے علاقے میں تیز سیلاب آگیا۔ جس سے کئی عمارتیں کو نقصان پہنچا ہے۔ وہیں آئی ٹی آئی کی عمارت بھی مہندم ہوگئی ہے۔ پانی کے ساتھ آئے ملبے میں آٹھ دکانیں بھی ڈوب گئی ہیں ، حالانکہ کورونا کرفیو کی وجہ سے جانی نقصان ہونے سے بچ گیا ۔ ملبے کی وجہ سے بھاگیرتھی ندی کی سطح آب بڑھ گئی ہے ۔ ٹہری ایس ایچ او نے واقعہ کی جانکاری دیتے ہوئے بتایا کہ اب تک بارہ تیرہ دکانیں تباہ ہوچکی ہیں ۔ ہم نے لوگوں کو الرٹ کردیا ہے ۔ ریسکیو کا کام تیزی سے چل رہا ہے ۔
بادل پھٹنے سے شانتا ندی میں آئی طغیانی سے شانتی بازار میں تباہی مچ گئی ۔ آئی ٹی آئی کی تین منزلہ عمارت پوری طرح سے منہدم ہوگئی جبکہ شانتا ندی سے متصل دس سے زیادہ دکانیں بھی سیلاب میں بہہ گئیں ۔ دیوپریاگ نگر سے بس اڈے کی جانب آنے والا راستہ اور پل پوری طرح سے بہہ گیا ۔ ملبے میں کسی کے دبنے کو لے کر ابھی تک کوئی بات واضح نہیں ہوسکی ہے ۔ کورونا کرفیو کی وجہ سے آئی ٹی آئی سمیت دکانوں کے بند رہنے سے بھاری جانی و مالی نقصان ہونے سے بچ گیا ۔
منگل کو شام تقریبا ًچار بجے دشرتھ پہاڑ پر بادل پھٹنے سے یہاں سے نکلنے والی شانتا ندی میں سیلاب آگیا ۔ بس اڈہ سے شانتی بازار ہوکر شانتا ندی بھاگیرتھ سے ملتی ہے ۔ سیلاب کی وجہ سے آئی ملبے نے شانتی بازار میں تباہی مچا دی ۔ آئی ٹی آئی کی تین منزلہ عمارت زمین دوز ہوگئی ۔ جائے واقعہ پر موجود سیکورٹی اہلکار دیوان سنگھ نے کود کر اپنی جان بچائی ۔ آئی ٹی آئی بھون میں موجود کمپیوٹر سینٹر ، پرائیویٹ بینک ، بجلی ، فوٹو وغیرہ کی دکانیں بھی منہدم ہوگئیں ۔
ادھر شانتا ندی پر بنا پل ، راستہ سمیت اس سے متصل زیورات ، کپڑے اور مٹھائی وغیرہ کی دکانیں بھی سیلاب کی نظر ہوگئیں ۔ شانتی بازار میں کروڑوں کا نقصان ہونے کا ابتدائی اندازہ ہے ۔ پولیس کو ابھی تک کسی کے مرنے کی اطلاع نہیں ہے ۔ اگر کورونا کرفیو نہیں ہوتا تو کافی زیادہ جانی نقصان ہوسکتا تھا ۔








