اردو
हिन्दी
ستمبر 5, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

بلقیس کی انصاف کی لڑائی گجرات کی دو خاتون افسروں کے ذکر کے بغیر ادھوری ہے

3 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ مضامین
A A
0
344
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

تحریر: انوراگ مودی

بلقیس بانو کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے نے ایک بار پھر بتایا کہ انصاف کی لڑائی لمبی ہے اور اجتماعی تعاون کے بغیر کامیابی مشکل ہے یہ20 سال کی لمبی لڑائی کا نتیجہ ہے، لانصاف کی اس لڑائی میں دو خواتین افسران کے کلیدی رول کا ذکربھی  آج ضروری ہے۔
اگر بلقیس کو 2002 کے واقعے کے ایک دو دن بعد گجرات کے دو افسران کی دیانت دارانہ حمایت نہ ملتی تو شاید یہ لرزہ خیز واقعہ منظر عام پر نہ آتا۔ پہلی ہیں، گودھرا ضلع کی اس وقت کی ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ (ڈی ایم/کلکٹر) جینتی روی؛ اور دوسری، گودھرا سول اسپتال کی ڈاکٹر روہنی کُٹی۔
ان دونوں کے کردار پر اس وقت کوئی بات نہیں کر رہا۔ ایک ایسے وقت میں جب گجرات کی انتظامیہ اوپر سے نیچے تک فسادات میں ملوث تھی اور شواہد کو تباہ کرنے کی سازش کر رہی تھی، تب ان دونوں نے جس ایمانداری سے اپنے کردارکو نبھایا اور بعد میں ٹرائل کورٹ میں اپنے بیانات بھی دیانت داری سے درج کرائے، وہ واقعی ایک مثال ہے۔
یہ پوری کہانی کچھ یوں ہے۔
تین (3) مارچ 2002 کو انسانیت اور مذہب کے تمام عقائد کو شرمسار کر نے والے اس حادثے کو انجام دیا  گیا۔ اپنی 3 سالہ بیٹی، ماں، دو بھائی، دو بہنیں، دو چاچی، چچا اور بہن کی نومولود بچی سمیت 14 افراد کے قتل کو دیکھنے والی گینگ ریپ کی شکار بلقیس بانو کو مرا ہوا سمجھ  کر اسے برہنہ حالت میں چھو دیا گیا۔ جب بلقیس کو ہوش آیا تو وہ کسی طرح وہاں پڑے ایک پیٹی کوٹ کو پہن کر اور خود کو بچانے کی کوشش کرتے ہوئے 4 مارچ 2002 کو لمکھیڑا تھانے پہنچی۔ وہاں پولیس نے ان کی جو ایف آئی آر درج کی اس میں نہ تو ریپ  کا ذکر کیا اور نہ ہی کسی ملزم کا نام درج کیا۔اسی طرح 4 مارچ کو لمکھیڑا پی ایچ سی میں اس کے طبی معائنے کے دوران وہاں موجود ڈاکٹر نے نہ تو ریپ کا ذکر کیا اور نہ ہی اس واقعہ کا کوئی ریکارڈ بنایا۔
پانچ (5) مارچ کو بلقیس کو گودھرا ریلیف کیمپ بھیج دیا گیا۔ وہیں،  6 مارچ کو جب گودھرا کی ڈی ایم جینتی روی پہنچیں، تو ان کی ملاقات بلقیس سے ہوئی، اس کے بعد اس واقعے کی حقیقی ریکارڈنگ شروع ہوئی۔ بلقیس کی کہانی سن کر انہیں سمجھ آیا کہ یہ کوئی خاص معاملہ ہے۔ اس وقت تک انہیں معلوم نہیں تھا کہ لمکھیڑا ایف آئی آر کیسے درج ہوئی ہے، لیکن شاید انہیں اس وقت گجرات کی انتظامی صورتحال کا اندازہ تھا۔ اس لیے انہوں نے اپنے ساتھ آئے تحصیلدار (ایگزیکٹیو مجسٹریٹ، گووند پٹیل) سے بلقیس کا مکمل بیان ریکارڈ کرنے کو کہا۔
ن (3) مارچ 2002 کو انسانیت اور مذہب کے تمام عقائد کو شرمسار کر نے والے اس حادثے کو انجام دیا  گیا۔ اپنی 3 سالہ بیٹی، ماں، دو بھائی، دو بہنیں، دو چاچی، چچا اور بہن کی نومولود بچی سمیت 14 افراد کے قتل کو دیکھنے والی گینگ ریپ کی شکار بلقیس بانو کو مرا ہوا سمجھ  کر اسے برہنہ حالت میں چھو دیا گیا۔ جب بلقیس کو ہوش آیا تو وہ کسی طرح وہاں پڑے ایک پیٹی کوٹ کو پہن کر اور خود کو بچانے کی کوشش کرتے ہوئے 4 مارچ 2002 کو لمکھیڑا تھانے پہنچی۔ وہاں پولیس نے ان کی جو ایف آئی آر درج کی اس میں نہ تو ریپ  کا ذکر کیا اور نہ ہی کسی ملزم کا نام درج کیا۔اسی طرح 4 مارچ کو لمکھیڑا پی ایچ سی میں اس کے طبی معائنے کے دوران وہاں موجود ڈاکٹر نے نہ تو ریپ کا ذکر کیا اور نہ ہی اس واقعہ کا کوئی ریکارڈ بنایا۔
پانچ (5) مارچ کو بلقیس کو گودھرا ریلیف کیمپ بھیج دیا گیا۔ وہیں،  6 مارچ کو جب گودھرا کی ڈی ایم جینتی روی پہنچیں، تو ان کی ملاقات بلقیس سے ہوئی، اس کے بعد اس واقعے کی حقیقی ریکارڈنگ شروع ہوئی۔ بلقیس کی کہانی سن کر انہیں سمجھ آیا کہ یہ کوئی خاص معاملہ ہے۔ اس وقت تک انہیں معلوم نہیں تھا کہ لمکھیڑا ایف آئی آر کیسے درج ہوئی ہے، لیکن شاید انہیں اس وقت گجرات کی انتظامی صورتحال کا اندازہ تھا۔ اس لیے انہوں نے اپنے ساتھ آئے تحصیلدار (ایگزیکٹیو مجسٹریٹ، گووند پٹیل) سے بلقیس کا مکمل بیان ریکارڈ کرنے کو کہا۔

اس کے بعد، انہوں نے بلقیس کو 7 مارچ کو میڈیکل کے لیے گودھرا سول اسپتال بھی بھیجا؛ انہیں اندازہ ہوگا کہ میڈیکل بھی درست نہیں ہوگا۔ وہاں، بلقیس کو ایک اور فرض شناس خاتون ڈاکٹر روہنی کُٹی ملیں۔ انہوں نے پوری ایمانداری سے بلقیس کے واقعے سے متعلق تمام حقائق درج کیے اور ان کا طبی معائنہ کیاگودھرا کی ڈی ایم جینتی روی یہیں نہیں رکیں، انہوں نے 7/03/02 کو ہی داہود کے ایس پی، جن کے ضلع میں یہ واقعہ پیش آیا تھا، کو اس معاملے میں مزید کارروائی کے لیے پہلا خط لکھاساتھ ہی، وہ بیان بھی بھیجے جو بلقیس نے ریکارڈ کرایا تھا۔ پھر، 11/03/02 کو ایک ریمائنڈر لکھی اور پیش رفت کی رپورٹ طلب کی۔ اس کے بعد 18/03/02 کو داہود کے ڈپٹی ایس پی کو خط لکھا اورکیس میں پیش رفت کی رپورٹ طلب کی۔ اس کے بعد، 03/05/02 کو، داہود کے ایس پی کو ایک خط لکھ کر پوچھا کہ اس معاملے میں ابھی تک کوئی گرفتاری کیوں نہیں ہوئی ہے۔ ڈپٹی ایس پی نے کوئی رپورٹ نہیں بھیجی تو انہوں نے خط لکھ کر پروگریُس رپورٹ کےبارے میں پوچھا

پھر ہارکر، 8 جولائی 2002 کو ایڈیشنل چیف سیکریٹری، ہوم ڈپارٹمنٹ، حکومت گجرات کو اس معاملے میں کارروائی کے لیے ایک خط لکھا۔ ان خطوط کو گجرات حکومت اور انتظامیہ نے کوڑے دان میں پھینک دیا، لیکن یہ عدالت میں ایک اہم ثبوت بنے۔
فروری 2003 میں گجرات پولیس نے عدالت میں کلوزر رپورٹ پیش کر دی۔ اس کے بعد جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں، سپریم کورٹ میں کچھ این جی اوز کی درخواست کے بعد اور عدالت کے حکم پر دسمبر 2003 میں اس کیس کی تحقیقات سی بی آئی کو سونپ دی گئی۔ سپریم کورٹ نے واقعے میں ملوث 12 افرادسمیت جانچ میں شامل لمکھیڑا تھانے کے 5 پولیس اہلکار، ڈی ایس پی اور میڈیکل کرنے والے لمکھیڑا پی ایچ سی کے دونوں  ڈاکٹروں کو بھی ملزم بنایا۔ ٹرائل کورٹ کے سزا کے حکم کے بعد جب کیس اپیل میں ہائی کورٹ پہنچا۔
ہائی کورٹ میں دفاعی فریق نے یہ مسئلہ اٹھایا کہ متاثرہ بلقیس نے لمکھیڑا پولیس اسٹیشن میں درج کروائی گئی اپنی ابتدائی ایف آئی آر اور بیان میں کسی ملزم کا نام نہیں بتایا اور نہ ہی طبی معائنے میں ریپ کی بات سامنے آئی۔لیکن فیصلہ کرنے والی جسٹس وی کے تاہلرمانی اور جسٹس مردلا بھٹکر نے اپنے فیصلے (کریمنل اپیل نمبر 1020/2009 مورخہ 04/05/17) میں ان باتوں کی کاٹ کے طور پرگودھرا کی ڈی ایم جینتی روی کے ذریعے 6/03/2002 کو درج کرائے گئے بیان اور 7 مارچ کو گودھرا سول ہسپتال کی ڈاکٹر روہنی کٹی کی میڈیکل رپورٹ اور اس دوران بلقیس کی بیان کردہ پوری کہانی کو اہم شواہد میں سے ایک مانا۔
ان دونوں افسران نے اس کیس میں ٹرائل کورٹ میں بھی ایمانداری سے اپنے بیانات دیے۔ ڈاکٹر روہنی کٹی نے بطور گواہ نمبر 17 اور ڈی ایم جینتی روی نے بطور گواہ نمبر 18 اپنی گواہی درج کرائی۔
میں اپنے ذاتی تجربے سے کہہ سکتا ہوں کہ فوجداری کیس میں پولیس کی تفتیش کے ابتدائی مراحل میں جس طرح سے لیپا پوتی کی جاتی ہے،وہ کیس کو بہت کمزور کر دیتا ہے۔ اور، ایسے کیس کا ٹرائل کورٹ میں ٹکنا مشکل ہو جاتا ہے۔
گودھرا کی ڈی ایم جینتی روی اور ڈاکٹر روہنی کٹی کا کردار یہ ظاہر کرتا ہے کہ جب تک افسران سیاسی یا دیگر مداخلت کے بغیر، ایمانداری سے اپنا کردار ادا نہیں کرتے، تب تک قانون کا نام بدلنے سے کچھ بدلنے والا نہیں ہے۔
جینتی روی کے بارے میں انٹرنیٹ پر دستیاب معلومات کے مطابق، وہ فی الحال اورویل فاؤنڈیشن کے سکریٹری کے عہدے پر فائز ہیں۔ ان کے تعارف میں انہیں ایک استاد، مفکر اور سائنسدان بھی بتایا گیا ہے۔ انہوں نے ہارورڈ یونیورسٹی سے پبلک ایڈمنسٹریشن میں پی ایچ ڈی کی اور گجرات کیڈر سے 1991 بیچ کی آئی اے ایس آفیسر ہیں۔ ڈاکٹر کٹی کا تعلق مدھیہ پردیش سے ہے، ان کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں مل سکیں-(بشکریہ دی وائر)

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
حافظ قرآن کی عظمت اور ان کا مقام و مرتبہ

حافظ قرآن کی عظمت اور ان کا مقام و مرتبہ

مارچ 31, 2022
Damaged bus in Nepal after attack on Indian passengers

نیپال میں کتنے ہندو کتنے مسلمان ہیں؟

ستمبر 11, 2025
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021

کیا ہے ترنگے کی تاریخ، منزل بمنزل سفر کے بارے میں سب کچھ جانیے

جنوری 26, 2025
جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

Easy SIR Form Filing

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جولائی 22, 2026
اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

جولائی 13, 2026
Easy SIR Form Filing

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

جولائی 12, 2026
ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

جولائی 10, 2026

حالیہ خبریں

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جولائی 22, 2026
اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

جولائی 13, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN