لکھنؤ :
بھارت میں کورونا وائرس کاقہر جاری ہے۔ اس درمیان اپوزیشن مرکز میں برسر اقتدار بی جے پی حکومت پر حملے کا کوئی بھی موقع نہیں چھوڑ رہاہے ۔ کانگریس نے تو خاص طور سے ملک میں کورونا کی دوسری لہر آنے کے لیے مرکز کے ڈھیلے اور غیر ذمہ دارانہ رویہ کو وجہ بتائی ہے، حالانکہ بی جے پی کے لیڈر اسے لے کر کانگریس پر سیاست کرنے کا الزام لگا رہے ہیں۔ ایک دن پہلے ہی یوپی بی جے پی کے صدر سوتنتر دیو سنگھ نے صحافیوں سے بات چیت کے دوران کانگریس کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے کہاکہ آج مودی جی ہیں اس لئے ملک بچ گیا، ورنہ پتہ نہیں کیا ہوتا۔
سوتنتر دیو سنگھ نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہبیمار شخص تک کیسے فائدہ پہنچے ، پوری سرکار اس کے لیے کام کا رہی ہے۔ کانگریس کو آپ نے دیکھا ہے، نمبر 1-کے جھوٹے ہیں۔ آج مودی جی ہیں، اس لئے ملک بچ گیا۔ کہیں کانگریس ہوتی تو اس ملک کا کیا حال ہوتا ، کچھ کہا نہیں جاسکتا۔
یوپی بی جے پی صدر نے مزید کہا کہ مودی جی اور یوگی جی تمام چیلنجز ،چاہے کسی طرح کے ہو ں اسے مواقع میں بدلنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ سماج کی حمایت لیتے ہیں۔اس چیلنج سے لڑتے ہیں اور اس کو مواقع میں بدلنے کی کوشش کرتے ہیں۔ سنگھ سے جب سرکار کے موجودہ چیلنجز کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہاکہ ابھی بحران ہے کہ کیسے گاؤں ،غریب اور کسان بچے۔
سوشل میڈیا صارفین نے کردیا ٹرول
سوتنتردیو سنگھ کے اس بیان پر سوشل میڈیا صارفین نے انہیں ٹرول کردیا۔ ٹویٹر صارف @@Suvarenandutri1نے کہا:’ کانگریس کا شکر اداکیجئے 70 سال میں اس نے جو بیج بویا ہے وہی فصل کاٹ رہے ہیں، آپ نے آج تک پی ایچ شی اسپتال کی بنیاد تک نہیں رکھ پائے۔ ضلع اسپتال اور میڈیکل کالج تو دو ر کی بات میرے ملک کا سارا پیسہ کھاڈالے اور مہنگائی بڑھا کر غریب عوام کو موت کے منھ میں دھکیلنے کا کام کیا گیا ہے ۔‘
ایک اور صارف@beingabhi2712نے لکھا:’ 2014 سے پہلے ملک نہیں بچا تھا کیا؟‘ وہیں ہری اوم شرما نے کہا:’ غلط بات ہے، کانگریس اس مہلک بیماری کااچھی طرح سامنا کرتی، انہوں نے 70 سال تک ملک چلایا اور انہیں کافی تجربہ ہے‘ ایک ٹویٹر صارفCapri @Aamir_ـنے لکھا:’ بغیر علاج اور آکسیجن لاکھوں لوگ مرگئے، کروڑوں پریوار بے روزگار ہوگئے مگر اچھی بات یہ ہے کہ مودی جی ہیں، ورنہ پتہ نہیں کیا ہوتا!‘‘








