لکش دیپ کے ایڈمنسٹریٹر پرفل کھیڑا پٹیل کے معاملے میں اب بھارتیہ جنتا پارٹی میں تنازع کھڑا ہوگیا ہے۔ ان کی تجاویز کو لے کر اپوزیشن کی مخالفت کے درمیان لکش دیپ بی جے پی اکائی اس معاملے میں دو رائے ہے، جبکہ پڑوسی کیرل کے لیڈروں اور لکش دیپ کے بی جے پی صدر نے ایڈمنسٹریٹر پرفل پٹیل کی حمایت کی ہے ۔
مرکزی سطح پر بھی کم سے کم دو سینئر لیڈروں نے لکش دیپ کے پیش رفت کو مسترد کردیا ہے ۔ ان میں سے ایک نے کہاکہ پٹیل کو لوگوں کو اعتماد میںلیناچاہئے تھا۔ ان کی حرکتیں پارٹی کے مفاد کو نقصان پہنچا رہی ہے اور مرکزی سرکار کی شبیہ کو بھی متاثر کرے گی۔ بتادیں کہ پٹیل کو پارٹی قیادت کا قریبی مانا جاتا ہے ۔ جب نریندر مودی گجرات کے وزیر اعلیٰ تھے تو پٹیل گجرات کے وزیر داخلہ کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے ہیں۔
بی جے پی لکش دیپ یونٹ کے صدر عبد القادر حاجی نے پٹیل کی حمایت کی ہے ، جبکہ جنرل سکریٹری محمد قاسم نے پٹیل کو ڈکٹیٹر قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ان کی تجاویز جزیروں کے لوگوں کے مفاد میں نہیں ہیں۔ انہوں نے اس پر اعتراض کرتے ہوئے منگل کو وزیر اعظم مودی کو ایک خط بھی لکھا ہے۔ لکش دیپ کے کچھ بی جے پی رہنماؤں نے بھی پٹیل کی تجاویز کے احتجاج میں استعفیٰ بھی دے دیا ہے۔ تاہم ، قادر نے دعویٰ کیا کہ وہ لوگ کبھی بھی بی جے پی میں نہیں تھے۔
انڈین ایکسپریس کے مطابق قاسم نے بتایا کہ پٹیل کے اقدامات سے لوگوں کے سامنے روزگار کا بحران پیدا ہوجائے گا۔ وہ لکش دیپ کو راجا کی طرح چلا رہا ہے۔ انہوں نے یہاں لیڈروں کے ساتھ تجاویز پر بحث تک نہیں کی اور نہ ہی کسی کو اعتماد میں لیا ہے ۔ قاسم نے کہاکہ بی جے پی لکش دیپ میں پیر جمانے کی کوشش کررہی ہے ، لیکن پٹیل کے یہ اقدام پارٹی کی کوششوں کو برباد کردیں گے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہاکہ مجھے یقین نہیں ہے کہ مرکزی سرکار ایسی ’ عوام مخالف ،لکش دیپ مخالف تجاویز ‘ کی حمایت کرتی ہے ۔
وہیں اس معاملے پر 2019 میں بی جے پی امیدوار رہے عبدالقادر نے کہاہے کہ پٹیل کے اقدامات سے جزیروں کو ترقی دینے میں مدد ملے گی۔ عبدالقادر نے کہاکہ پٹیل کو مرکز نے بھیجا ہے ار وہ جزیروں کو نقصان پہنچانے کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھائیں گے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ لکش دیپ میں کانگریس اور بائیں بازو کی پارٹیوں نے بی جے پی کی ترقی کو روکنے کے لیے ہاتھ ملایا ہے ۔
اہم بات یہ ہے کہ پرفل پٹیل کے مسودوں میں مسلم اکثریتی لکش دیپ میں بیف پر بین کے ساتھ ساتھ غنڈہ ایکٹ بھی شامل ہے۔ حالانکہ لکش دیپ میں جرائم کی شرح بہت کم ہے ۔ اس کے علاوہ لکش دیپ ڈیولپمنٹ اتھارٹی میں ترمیم کرنے کی بھی بات کی گئی ہے۔ اس کے تحت ترقیاتی منصوبے کے لئے اراضی حاصل کی جائے گی۔
کیرالہ کے وزیراعلیٰ پنارائی وجین نے ان تجاویز کی مخالفت کی ہے۔ جبکہ بائیں باز پارٹیاں اور کانگریس کے ممبران پارلیمنٹ نے صدر رام ناتھ کووند اور وزیر اعظم کو خط لکھ کر مداخلت کی درخواست کی ہے۔ پٹیل حالیہ دنوں میں مستقل تنازعات کا شکار رہے ہیں۔ حال ہی میں دادر اور نگر حویلی سے سات بارلوک سبھا ممبر پارلیمنٹ رہے موہن ڈیلکرکی خودکشی کرنے کے بعد بھی تنازع میں پھنس گئے تھے۔ڈیلکر کے بیٹے نے دامن اور دیو ایڈمنسٹریٹر پٹیل پر اپنے والد کو ہراساں کرنے کا الزام لگایاتھا۔ پٹیل نے گذشتہ سال دسمبر میں لکش دیپ کے ایڈمنسٹریٹرکا عہدہ سنبھالا تھا۔








