نئی دہلی:
وزارت آیوش نے اعلان کیا ہے کہ وہ اسپتال سے ڈسچارج ہونے والے کووڈ 19-مریضوں کو آیوش 64 اور کبسرا کڈینار نامی دو آرویدک دوائیں تقسیم کرے گی۔ ان دواؤں کی تقسیم آر ایس ایس جڑی تنظیم سیوا بھارتیہ کے ذریعہ کی جائے گی۔
دی وائر سائنس سمیت مختلف ماہرین نے اس بات کا اشارہ کیا ہے یہ تجویز دینے کے لیے کوئی قابل اعتماد سائنسی ثبوت موجود نہیں ہے کہ آیوش 64 اور کبسرا کڈینار کورونا سے بازیاب ہورہے مریضوں کے لیے کوئی فائدہ مند ہو سکتا ہے ۔ڈاکٹر جمی نگر راج راؤ کاکہنا ہے کہ اس بات کا کوئی قابل اعتماد ثبوت نہیں ہے کہ ان میں سے کسی بھی دوا کا کوئی فائدہ ہے۔ صرف ان فائدے کو چھوڑ دیں جن میں خطرہ ہے (جس کی قیمت بہت زیادہ ہوسکتی ہے)۔ کلینکل ٹرائلز کی بنیاد پر سرکاری نوٹ میں یہ کہا جارہا ہے کہ یہ دوائیں تصدیق شدہ ہیں ، وہ سب چھوٹ ہے۔ اس کے ساتھ ہی 28 دن میں موت جیسی پیچیدہ ٹیسٹوں کی بجائے بحالی کے وقت جیسے لگنے جیسے لچکدار نکات کا استعمال کیا گیا ہے وہ ان علامات میں بہتری کی پیمائش ہیں جو آسانی سے آجاتی ہیں۔
وزارت ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ملک میں کووڈ-19 انفیکشن کی دوسری لہر کے ایک ٹھوس ردعمل کے طور پر وزارت آیوش ملک گیر مہم شروع کررہی ہے جو کہ اسپتال سے ڈسچارج ہوچکے لوگوں کے لیے اپنی ثابت شدہ دوا ہربل آرویدک دوا آیوش 64 اور کبسرا کڈینار کو تقسیم کرے گی۔ مضبوط ملٹی سینٹر کلینکل ٹرائلز کے ذریعہ سے ان دواؤں کی افادیت ثابت ہوئی ہیں۔ حالانکہ لانچ سے متعلق کسی خاص تاریخ کا ذکر نہیں کیا گیا ہے ۔ وزارت کے بیان میں کہا گیا ہے کہ اسے مرکزی وزیر آیوش کرن رجو کے ذریعہ لانچ کیاجائے گا۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ تقسیم کے لیے حکمت عملی تیار کی جاچکی ہےاور وزارت کے ماتحت کام کرنے اور مختلف شعبوں میں کام کرنے والے ملک گیر نیٹ ورک کا استعمال کرتے ہوئے اسے مرحلے وار طریقے سے لاگو کیاجائے گا اور اسے سیوا بھارتیہ نے پہلے ہی تقسیم کرنا شروع کردیا ہے ۔
دی نیوزمنٹ نے آئی این این ایس کے حوالہ سے کہاہے کہ تنظیم نے 23 مئی کو لکھنؤ کےاودھ علاقے کے گاؤں میں آیوش 64 ٹیبلٹ تقسیم کی تھی۔ اودھ علاقے کے سیوا بھارتیہ کے انچارج دیویندر استھانہ کے مطابق 1.5لاکھ ٹیبلٹ پہلے ہی تقسیم کئے جاچکے ہیں اور ضرورت کے مطابق اور دیئے جائیں گے۔ لکھنؤ میں چار مراکز پر دوا تقسیم کی جارہی ہے۔ وزارت کے مطابق پہلے ملیریا کے لیے متعارف کیا گیا آیوش 64 کو بعد میں واضح طور سے کووڈ 19-کے لیے پھر سے تیار کیا گیا تھا۔ کیونکہ دوا میں استعمال ہونے والی اشیاء قابل ذکر اینٹی وائرل ،امیون – ماڈلیولیٹر اور اینٹی پیئرٹک صلاحت نظر آئی ہے۔ حالانکہ ثبوت اس کو ثابت نہیں کرتے ہیں۔










