اردو
हिन्दी
مئی 3, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

امت شاہ اور مودی کے لیے یوگی چیلنج بن گئے ہیں!

5 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ مضامین
A A
0
امت شاہ اور مودی کے لیے یوگی چیلنج بن گئے ہیں!
215
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

سمیر آتمج مشرا

انڈیا کی ریاست اترپردیش میں پچھلے دو ہفتوں سے جس طرح سے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ یعنی آر ایس ایس اور بی جے پی کے مرکزی قائدین کی میٹنگیں جاری ہیں اس سے یوپی کی سیاست میں ہلچل مچ گئی ہے۔

حکومت اور تنظیم میں تبدیلی کے امکانات کے درمیان قیادت کی تبدیلیوں پر بھی دونوں سطحوں پر تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے۔ تاہم ماہرین کو اس کے باوجود کسی بڑی تبدیلی کی امید نظر نہیں آ رہی۔

اس سب کے درمیان یوپی کی سیاست میں ایک اہم نام پھر سے منظرعام پر آگیا جو چار مہینے پہلے یو پی کی سیاست میں متعارف ہوا تھا۔

ان کے ذریعہ بھی بڑی تبدیلی کا امکان ظاہر کیا گیا تھا۔ یہ نام اروند کمار شرما کا ہے جو سابقہ سینئر سرکاری افسر ہیں اور وزیر اعظم نریندر مودی کے بہت قریب سمجھے جاتے ہیں۔

اروند کمار شرما کون ہیں؟

اروند کمار شرما نے اپنی ریٹائرمنٹ سے کچھ دن پہلے ہی اس سال جنوری میں استعفیٰ دے دیا تھا۔

اس کے بعد وہ بی جے پی میں شامل ہوگئے اور دیکھتے ہی دیکھتے بی جے پی نے انہیں قانون ساز کونسل کے ذریعہ ایوان میں بھیج دیا۔

اس کی وجہ سے سیاسی حلقوں میں یہ بحث چھڑ گئی کہ ’ریاستی حکومت میں ایک ‘بڑی تبدیلی ‘کی تیاری کی جارہی ہے۔

سیاسی مبصرین نے تو یہاں تک کہا ہے کہ اروند شرما کو وزیر اعلیٰ بھی بنایا جاسکتا ہے۔ تاہم ان کے نائب وزیر اعلیٰ یا وزارتِ داخلہ جیسے اہم محکموں کے ساتھ کابینہ کے وزیر بننے کی قیاص آرائیاں زیادہ معتبر انداز میں کی جا رہی ہیں۔

اس خیالی تبدیلی کی وجہ براہ راست بتائی گئی کہ اس کا مقصد وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے اثر و رسوخ کو کم کرنا ہے یا مبینہ طور پر ان کے کام کرنے کے من مانے انداز کو روکنا ہے۔

لیکن چار ماہ گزر جانے کے باوجود ، اروند شرما کو نہ تو وزیروں کی کونسل میں جگہ دی گئی اور نہ ہی کسی اور اہم ذمہ داری کوسونپی گئی

یوگی نے مودی کو براہ راست چیلنج کیا؟

یوپی میں بی جے پی کے ایک سینئر رہنما نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا ‘وزیر اعلی نے واضح طور پر کہ دیا ہے کہ اروند شرما کو کوئی اہم محکمہ تو کیا کابینہ کا وزیر بنانا بھی مشکل ہے۔ ریاستی وزیر سے زیادہ وہ انھیں کچھ بھی دینے کو تیار نہیں ہیں۔

وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کے اس اقدام کو وزیر اعظم نریندر مودی کو براہ راست چیلنج کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

دہلی میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایک سینئر رہنما کا کہنا ہے کہ ‘پارٹی کی مرکزی قیادت اکثر یوگی آدتیہ ناتھ کو یاد دلاتی رہتی ہے کہ وہ کس کی وجہ سے وزیر اعلیٰ بنے ہیں اور موقع ملنے پر یوگی آدتیہ ناتھ بھی یہ جتانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے کہ نریندر مودی کے بعد وزیر اعظم کے عہدے کے وہ واحد امیدوار ہیں۔

بی جے پی کے بہت سے رہنما بھی اس حقیقت کو قبول کرتے ہیں کہ اکثر لوگ یوگی آدتیہ ناتھ کو مودی کے متبادل کے طور پر پیش کرتے ہیں یا سوشل میڈیا یا کچھ چھوٹی تنظیمں کا جانب سے چلائی جانے والی مہم میں یوگی کے قریبی لوگوں کا ہاتھ ہے جس میں ایسے نعرے لگائے جاتے ہیں ‘وزیراعظم کیسا ہو ، یوگی آدتیہ ناتھ جیسا ہو

یوگی کو آر ایس ایس کی حمایت حاصل ہے؟

سینئر صحافی یوگیش مشرا یوگی کی طاقت کے پیچھے آر ایس ایس کی حمایت بتاتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں ‘اتر پردیش ایک بڑی ریاست ہے۔ یہاں کے وزیر اعلیٰ اپنے آپ کو اگلے وزیر اعظم کی حیثیت سے دیکھنا شروع کردیتے ہیں۔ چاہے وہ علاقائی پارٹیوں کے رہنما ہوں یا بی جے پی کے ۔ دوسری بات یہ کہ سنگھ یوگی آدتیہ ناتھ کے ساتھ ہے۔ تمام احتجاج کے باوجود سنگھ کہ وجہ سے ہی وہ وزیر اعلیٰ بنے تھے اور آج بھی وہ سنگھ کی پسند ہیں۔ اروند شرما کو پیراشوٹ کی طرح یہاں بھیجنے کا اقدام آر ایس ایس کی نظر میں مناسب نہیں ہے۔

اترپردیش میں یوگی آدتیہ ناتھ کی قیادت میں بی جے پی حکومت اب اپنی مدت پوری کرنے والی ہے لیکن ریاست میں براہ راست وزیر اعلیٰ کو تبدیل کرنے کا کی بات پچھلے چار سالوں میں کبھی نہیں سامنے آئی جتنے یہ اندیشے آج ظاہر کیے جا رہےہیں یا یوں کہا جائے کہ اس طرح کی گفتگو شروع ہونے سے پہلے ہی دم توڑ دیتی تھی۔

چاہے یہ امن و قانون کی صورتِ حال پر حکومت پر سوال اٹھانے کا معاملہ ہو یا بی جے پی کے ناراض ارکان اسمبلی کی ایک بڑی تعداد کے اسمبلی میں دھرنے پر بیٹھے رہنے کا مسئلہ ۔

سینئر صحافی سدھارتھ کلہنس کا کہنا ہے کہ پچھلے چار سالوں میں یہ پہلا موقع ہے جب کچھ وزراء کو انفرادی طور پر بلایا جارہا ہے اور آر ایس ایس اور بی جے پی کی تنظیمی میٹنگوں میں ان کی رائے لی جارہی ہے۔

ان کے بقول ‘یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ وزراء اور ممبران اسمبلی کی جس طرح کی شکایات تھیں انھیں کبھی کوئی اہمیت نہیں دی جاتی تھی صرف چند منتخب افسران پوری حکومت چلا رہے ہیں لہذا یہ بات یقینی ہے کہ یوگی آدتیہ ناتھ کے کام کرنے کا انداز پر سنگھ کے ساتھ ساتھ بی جے پی میں بھی غور شروع ہوچکا ہے۔ یہ بات بھی سچ ہے کہ یوگی آدتیہ ناتھ کی جانب سے بھی اپنی طاقت کا احساس کرایا جاتا رہا ہے۔ اب یہ صورتحال ہے کہ بی جے پی یوگی کو ہٹا بھی نہیں پا رہی ہے اور انکی قیادت میں اگلا الیکشن لڑنے کی ہمت بھی نہیں کر پا رہی۔

ناخوشی کی کیا وجہ ہے؟

بی جے پی میں کوئی بھی رہنما یا ترجمان اروند شرما معاملے میں یوگی آدتیہ ناتھ کے رویہ کے بارے میں کچھ کہنے کے لیے تیار نہیں ہے لیکن سب یہ تسلیم کر رہے ہیں کہ پارٹی کے اندر سب ٹھیک نہیں ہے۔

وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ سے ناراضگی ظاہر کرنے والے وزراء اور ممبران اسمبلی بھی اس معاملے پر بات کرنے سے کترا رہے ہیں لیکن اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بہت کچھ بول بھی جاتے ہیں۔

ایسے ہی ایک ایم ایل اے نے کہا ‘کووڈ کے دوران مرکزی قیادت ریاستی حکومت کے طرز عمل سے بہت ناخوش ہے۔ عوامی سطح پر اگرچہ اس واقعہ کو سنبھالنے کی کوشش کی گئی تھی لیکن اس کے بعد کے اجلاس اسی رویے کا نتیجہ ہیں۔ پنچایت انتخابات کے نتائج کے سبب بھی یوگی بیک فوٹ پر ہیں۔

پچھلے ہفتے، راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے سربراہ دتہ تریہ ہسبالے بھی یوپی کی سیاسی نبض کا اندازہ لگانے لکھنؤ آئے تھے۔ اس سے تین دن پہلے، دتہ تریہ ہسبالے نے دہلی میں اترپردیش کے سیاسی ماحول پر بات چیت کے لیے وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امیت شاہ، بی جے پی کے قومی صدر جے پی نڈا سے ایک اہم ملاقات کی تھی۔

اس اجلاس میں یوپی بی جے پی تنظیم کے وزیر سنیل بنسل نے بھی شرکت کی۔ اس اہم اجلاس میں نہ تو چیف منسٹر یوگی آدتیہ ناتھ اور نہ ہی بی جے پی صدر سواتنتر دیو سنگھ کو یوپی کی سیاست پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے بلایا گیا تھا۔ اگر ماہرین پر یقین کیا جائے تو سی ایم یوگی آدتیہ ناتھ کو یہ بات بری لگی تھی۔

یوگی آدتیہ ناتھ کتنے طاقتور ہیں؟

تاہم سینئر صحافی یوگیش مشرا کا کہنا ہے کہ فی الحال یوگی مرکزی قیادت کو چیلنج کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں چاہے وہ کتنی بھی کوشش کرلیں۔

یوگیش مشرا کا کہنا ہے ،’یوگی نے کوئی کامیابی حاصل نہیں کی ہے وہ ایک نامزد امیدوار ہیں۔ سی ایم کی کرسی انھیں دی گئی ہے ان کے نام پر الیکشن نہیں جیتا گیا۔ یہاں تک کہ وہ پارٹی عہدیدار بھی نہیں تھے۔ اسی وجہ سے وہ مرکزی قیادت لیے ایک چیلنج نہیں ہیں۔ ‘مرکزی قیادت کی پریشانی یہ ہے کہ اگر 2022 میں یوپی انتخابات ہار گئے تو اس کا اثر سال 2024 میں ہونے والے لوک سبھا یعنی عام انتخابات پر بھی پڑے گا۔ مغربی بنگال میں شکست کے بعد یہ ڈر اب زیادہ بڑھ گیا ہے۔ اسی لیے بی جے پی کی مرکزی قیادت اسمبلی انتخابات میں کوئی بھی خطرہ مول نہیں لینا چاہتی۔‘

تاہم کچھ سیاسی مبصرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ یوگی آدتیہ ناتھ کے حق میں نہ تو بہت سے ایم ایل اے ہیں اور نہ ہی وزیر ہیں اور نہ ہی سنگھ ان کے ساتھ اتنی مضبوطی سے کھڑا ہے کہ اسے ہر حال میں کا ساتھ دے۔

سنگھ کے عہدیداروں کو افسر شاہی کے بارے میں وہی شکایات ہیں جتنی پارٹی کے ایم ایل اے کو ہیں۔ مبصرین کے مطابق پارٹی اور سنگھ ملاقاتوں کے ذریعے اس بات کا اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ یوگی کو ہٹانے سے کتنا نقصان ہوسکتا ہے اور اس نقصان کی تلافی کیسے کی جاسکتی ہے؟

سدھارتھ کلہنس کا کہنا ہے کہ یوگی آدتیہ ناتھ کا سب سے مضبوط پہلو یہ ہے کہ ان پر بدعنوانی کے ذاتی الزامات نہیں ہیں اور نہ ہی کسی بھی اور طرح کے ذاتی الزامات ہیں۔ ان کے مطابق اس مضبوط پہلو کے سامنے اور بھی بہت سی کمزوریاں دفن ہو جاتی ہیں۔

( بشکریہ: بی بی سی اردو)

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN