نئی دہلی:
دہلی کے وزیر اعلیٰ اور’ آپ‘ کے کنوینر اروند کیجریوال نے وزیر اعظم نریندر مودی سے دارالحکومت میں گھر- گھر راشن فراہم کرنے کی اسکیم کے بارے میں پوچھا ، جب دہلی میں پیزا اور برگر کی ڈیلیوری ہوسکتی ہے تو گھر -گھر جا کر راشن فراہم کیوں نہیں کیا جاسکتا ہے۔
انہوں نے یہ بات اتوار کی صبح آن لائن منعقدہ پریس کانفرنس کے دوران کہی۔ نیز یہ بھی کہا کہ مرکزی حکومت اس بحران میں ان لوگوں سے بھی لڑ رہی ہےجو ان کے خود اپنے ہیں ۔ سی ایم نے مزید کہاکہ ساری تیاریاں کی جاچکی تھیں، اگلے ہفتےسے انقلابی قدم اٹھانے والا تھا اور اچانک دو دن پہلے روک دیا۔ کیوں سر، ایسا کیوں؟ 75 سال سے فائلوں میں عوام کے نام کا راشن جاری ہوتاہے ، مگر لوگوں کو ملتا نہیں ہے۔ چوری ہو جاتا ہے ۔ یہ راشن مافیا کاکام ہے اور ان کے تار بہت اوپر تک ہیں۔ میں نے 17 سال پہلے بھی راشن مافیا کے خلاف آواز اٹھا ئی تھی۔یہی وجہ رہی کہ ہماری ٹیم پر تب سات بار خطرناک حملوں کی کوشش ہوئی۔
کیجریوال کے مطابق، ’ہم نے تو مرکز کی تمام تجاویز کو قبول کرلئے تھے اور کیسے منظوری لیں؟ جب برگر ، اسمارٹ فونز اور کپڑوں کی ڈیلیوری ہو سکتی ہے ، تو راشن کی کیوں نہیں؟ لوگ پوچھ رہیں کہ آپ نے یہ اسکیم کیوں خارج کردی۔؟ اگر آپ راشن مافیا کے ساتھ کھڑے ہوں گے تو غریبوں کے ساتھ کون کھڑا ہوگا؟ 20 لاکھ غریب پریواروں کی کون سنے گا؟ جب کورٹ میں آپ کو اعتراض نہیں تھا تو کورٹ کے باہر کیوں ہے؟
پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے مزید کہا کہ راشن دکانوں پر اسپریڈرزہیں۔ وہاں لگنے والی بھیڑ سے بچا جاسکتاہے ۔ اگر ہم لوگوں کے گھر راشن پہنچانا چاہتے ہیں تب پریشانی کیا ہے؟ مرکز کے کچھ افسر کہہ رہے ہیں کہ راشن تو مرکز کا ہے، پھر دہلی سرکار کو کریڈٹ کیوں؟ مجھے رتی بھر بھی کریڈٹ نہیں چاہئے۔ میں خود کہوں گا کہ یہ اسکیم مودی جی کی ہے ۔ یہ راشن نہ آپ کا ہے ، نہ بی جے پی کا، یہ ملک کے لوگوں کا ہے۔ یہ وقت بحران کا ہے، ہاتھ پکڑ کر مدد کرنے کا ہے۔ آپ ممتا دیدی، جھارکھنڈ سرکار، لکش دیپ کے لوگوں، مہاراشٹر ودہلی سرکار کے ساتھ کسانوں سے لڑرہے ہیں۔ ہم سب آپ کے ہی ہیں۔ اگر آپس میں لڑیں گے تو کورونا سے کیسے لڑیں گے؟
بتادیں کہ دہلی سرکار نے ہفتہ کو دعویٰ کیا کہ مرکز نے قومی راجدھانی میں 72 لاکھ راشن کارڈ ہولڈروں کو فائدہ پہنچانےوالی اس کی کثیرالمقاصد راشن اسکیم کو ’’ روک دیا‘‘ اور اس نے اس قدم کو ’سیاسی سے متاثر‘ بتایا ،حالانکہ مرکز ی حکومت نے الزامات کو ’بے بنیاد‘ قرار دیا ہے ۔ مرکزی حکومت نے ایک بیان میں کہاہےکہ دہلی حکومت جس طرح چاہے راشن تقسیم کرسکتی ہے اور اس نے دہلی سرکار کو ایسا کرنے سے نہیں روکا ہے۔










