نئی دہلی؍ سری نگر:
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے ملاقات کرنے کے ساتھ نیم فوجی دستہ کو کشمیر بھیجے جانے سے ایسی قیاس آرئیاں کی جارہی ہیں کہ مرکز جموں وکشمیر پر کچھ بڑے فیصلے کرنے والا ہے ۔ ایک طرف جہاں جموں کو الگ ریاست بنانے کی افواہ گرم ہے ۔ دوسری طرف ایسی قیاس لگائی جارہی ہے کہ مرکزی سرکار جموں وکشمیر کے ریاست کا درجہ بحال کرنے پر غوروخوض کرسکتی ہے ۔
نیوز انڈیا ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق ان صورت حال نے جموں واقع سیاسی پارٹی کو جموں کو الگ ریاست بنانے کی مانگ کرنے کے لیے حوصلہ افزا کیا ہے ۔ دراصل لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے سیکورٹی جائزہ میٹنگ کے لیے نئی دہلی میں امت شاہ اور ہوم سکریٹری اے کے بھلا سے ملاقات کی ۔
آن لائن ہندی نیوز پورٹل امر اجالا کی رپورٹ کے مطابق وزیر داخلہ امت شاہ نے گزشتہ 6 جون کو جموں وکشمیر کے سیکورٹی کاجائزہ لیا تھا ۔ میٹنگ میں خفیہ ایجنسی آئی بی کے ڈائریکٹر اروند کمار، جموں وکشمیر کے ڈی جے پی دلباغ سنگھ ، سابق چیف سکریٹری بی وی آر سبرامنیم ، چیف سکریٹری ڈاکٹر ارون مہتا بھی موجود تھے۔ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی موجودگی میں ہوئی میٹنگ میں وادی میں سیاسی افراد کو دہشت گردوں کے ذریعہ نشانہ بنائے جانے، حد بندی اور امرناتھ یاترا پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس دوران وادی میں بی جے پی کے مقامی رہنماؤں اور کارکنوں کی سلامتی کے معاملے پر بھی سنجیدگی سے غوروخوض کیا گیا۔
میٹنگ میں امرناتھ یاترا پر طویل بحث ہوئی۔ کورونا انفیکشن کی صورتحال کے پیش نظر حکومت نے فی الحال یہ طے نہیں کیا ہے کہ اس بار یہ یاترا عام طریقے سے ہو سکے گی یا نہیں۔
گریٹرکشمیر کی رپورٹ کے مطابق امرناتھ یاترا 56 دنوں کے لیے ہونے والی ہے۔ شری امرناتھ شرائن بورڈ (ایس اے ایس بی) نےکووڈ 19-معاملے میں اضافہ کو دیکھتے ہوئے یاترا کے لیے ہونے والی رجسٹریشن کو 22 اپریل کو ملتوی کردیا تھا ، جو اس سال ایک اپریل سے شروع ہوئی تھی۔ سال 2020 میں کورونا وائرس بحران کی وجہ سے امرناتھ یاترا رد کردی گئی تھی اور اس سے پہلے 2019 میں پانچ اگست کو جموں وکشمیر سے خصوصی درجہ ہٹانے کے فیصلے سے پہلے اس یاترا کی مدت تقریباً 15 دن کم کردی گئی تھی ۔











