سری نگر:
جموں و کشمیر میں انتخابات سے متعلق سیاسی عمل شروع کرنے اور ریاست کا درجہ بحال کرنے کے لیے مرکزی سرکاری کے سیاسی جماعتوں کے ساتھ بات چیت شروع کرسکتی ہے۔ ذرائع نے اس کی جانکاری دی ہے ، حالانکہ ابھی تک اس بابت کوئی باضابطہ دعوت نامہ نہیں ملا ہے ۔ ادھر جموں وکشمیر کے خصوصی درجہ کو بحا ل کرنے میں مدد کرنے کے لیے تشکیل سات جماعتی اتحاد ، گپکر الائنس یا پی اے جی ڈی نے مذاکرات میں شامل ہونے کا عندیہ دئے ہیں۔ نیشنل کانفرنس نے کہا ہے کہ وہ حد بندی کے عمل میں شامل ہوسکتی ہے۔
جون 2018 میں بی جے پی نے محبوبہ مفتی کے ساتھ اتحاد توڑنے کے بعد جموں و کشمیر میں صدر راج نافذ تھا، تب سے کوئی سیاسی عمل نہیں ہواہے ۔ اگست 2019 میں مرکزی سرکارنے جموں وکشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کردی اور اسے دو مرکز کے زیرانتظام خطہ میں تقسیم کردیا۔
توقع کی جارہی تھی کہ 2019 میں عام انتخابات کے ساتھ ریاست کے بھی انتخابات ہوں گے۔ لیکن الیکشن کمیشن نے ایک انتظامی رپورٹ کاحوالہ دیتے ہوئے اسے مسترد کردیا، جس میں کہا گیا تھا کہ انتخابات کے انعقاد میں سیکورٹی رسک ہے ۔
آج ذرائع نے این ڈی ٹی وی کو بتایا کہ حکومت ’سیاسی جماعتوں کے ساتھ بات چیت کا عمل شروع کر سکتی ہے اور ریاست میں انتخابات پر تبادلہ خیال کر سکتی ہے۔‘
نیشنل کانفرنس کے سرپرست اور گپکر الائنس کے سربراہ فاروق عبداللہ نے کہا کہ وہ مذاکرات کے خلاف نہیں ہیں۔ پچھلے سال اگست میں تشکیل پانے والا یہ اتحاد اندرونی اختلافات کے باعث چھ ماہ سے زیادہ عرصے سے غیر فعال رہا ہے لیکن گذشتہ بدھ کو فاروق عبداللہ نے پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی سربراہ محبوبہ مفتی سے ان کے گھر پر ملاقات کی اور ان سے اور گپکر الائنس کے دیگر ممبروں سے بات چیت کی۔
کشمیری رہنماؤں کے ساتھ ممکنہ مذاکرات کا اشارہ امریکی کانگریس کی ایک سماعت کےمدنظر آیا ہے جس میں بائیڈن انتظامیہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے کہا ہے کہ امریکہ بھارتی حکومت کو کشمیر میں انتخابی اقدامات اٹھانے کی ترغیب دے رہا ہے۔











