مہاراج گنج :
یوپی کے مہاراج گنج ضلع کی کولہوئی تھانہ علاقہ میں اتوار کے دن نکاح کے دوران ہنگامہ کھڑا ہوگیا۔ مولوی صاحب جب نکاح پڑھا رہے تھے تو عربی کے کچھ الفاظ کی ادائیگی میں دلہا اٹک گیا۔ اس سے لوگوں کو شک ہوا۔ پوچھ گچھ شروع ہوئی تو دولہے کی پول کھل گئی ۔ وہ دوسرے مذہب سے تعلق رکھتا تھا۔ اس پر ہنگامہ شروع ہوگیا۔ لوگوںنے دولہے کی پٹائی شروع کردی۔ بھاگنے کی کوشش پر گاؤںوالوں نے کچھ براتیوں کو پکڑ کر پولیس کے حوالہ کردیا۔
سوشل میڈیا پر ہوئی دونوں کی دوستی
دراصل کولہوئی علاقہ کی ایک لڑکی سے سدھارتھ نگر کے ایک نوجوان کی سوشل میڈیا پر دوستی ہوئی۔ بات چیت کا سلسلہ شروع ہوا۔ لڑکا، لڑکی کے گھر بھی آنے جانے لگا۔ دو سال بعد لڑکی کے گھروالوں نے شادی کے لیے رضامندی دے دی۔ لڑکی کو لڑکے کے بارے میں سب کچھ پتہ تھا، لیکن وہ اپنےگھر والوں کو نہیں بتانا چاہتی تھی، لہٰذا اس نے لڑکے کو مسلم رسم ورواج سے شادی کرنے پر راضی کرلیا۔
دونوں نے شادی کرنے کا فیصلہ توکیا لیکن دولہے نے لاک ڈاؤن کا حوالہ دے کر صرف پانچ براتیوں کو ہی لانے کی بات کہی۔ مقررہ تاریخ کو پانچ لوگوں کو لے کر نوجوان شادی کرنے لڑکی کے گھر پہنچا، نکاح کے وقت دولہا عربی بولنے میں اٹکنے لگا، اس پر مولوی کو شک ہوگیا اور معاملہ تھانے تک پہنچ گیا، حالانکہ دیر شام تک لڑکی اسی لڑکے سے نکاح کرنے کے لیے بضد رہی۔
لڑکی کے پریوار والے دولہے کے گھر نہیں گئے تھے، اس لئے وہ سچائی سے بے خبر تھے۔ پوچھ گچھ کے ساتھ تلاشی شروع ہوئی تو دولہے کے پرس سے اس کا پین کارڈ ملا، جس پر فوٹو تونوجوان کاہی تھا، لیکن نام دوسرے مذہب کاتھا، اطلاع ملتے ہی ایس آئی لیوکش موقع پر پہنچے، دولہے اور برات میں آئے کچھ نوجوانوں کو تھانہ لے آئے۔ نوجوانوں نے بتایاکہ وہ دولہے کے دوست ہیں۔ وہیں پولیس کے مطابق دولہے کے پریوار کا کہنا ہے کہ انہیں اس شادی کے بارے میں کوئی جانکاری نہیں ہے۔
اسی دوران انسپکٹر انچارج دلیپ شکلا نے بتایا کہ دولہا اور دلہن کو پوچھ گچھ کے لئے تھانہ لایا جارہا ہے۔ دونوں فریق ایک دوسرے کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں۔ لڑکی پہلے ہی دوسرے مذہب کے بارے میں جانتی تھی۔ نکاح کرانے والے مولوی کو اس بات کی جانکاری نہیں تھی، جس پر ہنگامہ ہو گیا۔ متاثرہ فریق اگر تحریر دے تو کیس درج کرکے کارروائی کی جائے گی۔











