امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدہ بیانات کے تبادلے کے دوران، ایرانی حکام نے ملک میں یورینیم کی افزودگی روکنے سے مکمل انکار کیا ہے۔ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے رکن اور سپاہ پاسدارانِ انقلاب کے جنرل اسماعیل کوثری نے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کے موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات کامیاب نہیں ہوں گے–
جمعرات کے روز "مرصد ایران” ویب سائٹ نے جنرل کوثری سے منسوب ایک بیان جاری کیا ہے جس میں انکا کہنا تھا کہ "امریکی دباؤ کا مقصد ایران کو جوہری ٹیکنالوجی کے فطری حق کے حصول سے روکنا ہے”۔ انہوں نے کہا کہ یورینیم کی افزودگی دنیا میں کسی بھی جوہری پروگرام کی ریڑھ کی ہڈی کا درجہ رکھتی ہے
ان کا مزید کہنا تھا کہ جوہری توانائی کا استعمال طب، زراعت، بجلی کی پیداوار اور پانی کو صاف کرنے جیسے مختلف شعبوں میں ہوتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا: "ان میں بدترین استعمال ایٹم بم کی تیاری ہے، لیکن اسے کس نے استعمال کیا؟ ان کے بقول : "ـــــــ امریکہ نے”۔
انہوں نے استفسار کیا کہ "اگر یہ بم ناقابلِ قبول ہے، تو پھر امریکہ، اسرائیل اور فرانس کے پاس یہ کیوں ہے؟”۔جنرل کوثری نے دوٹوک انداز میں اس امر کی تصدیق کی کہ ان کا ملک ایٹمی ہتھیار بنانے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے، لیکن ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ "رہبرِ اعلیٰ نے شرعی طور پر اسے حرام قرار دیا ہے، اسی لیے ہم اس کے حصول کی کوشش نہیں کرتے”۔
امریکی خصوصی ایلچی برائے ایران، سٹیو وٹکوف نے یہ بات زور دے کر کہی ہے کہ "امریکہ ایران کو اس کی سرزمین پر ایک فیصد بھی یورینیم کی افزودگی کرنے کی اجازت نہیں دے گا”۔دوسری طرف تہران نے اس شرط کو مسترد کر دیا ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ معاہدے کے ساتھ یا اس سے ہٹ کر یورینیم کی افزودگی جاری رکھے گا۔
":








