غازی آباد :
نئے آئی ٹی قوانین پر عمل نہیں کرنا ٹوئٹر کو بھاری پڑگیا ہے۔ ٹوئٹر کو بھارت میں ملنے والی لیگل پروٹیکشن یعنی قانونی تحفظ ختم ہو گیاہے۔ سرکار نے 25 مئی کو نئے قوانین لاگو کئے تھے، لیکن ٹوئٹر نے ان قوانین کو اب تک لاگو نہیں کیا، جس کے بعد یہ ایکشن لیا گیا ہے۔ حالانکہ سرکار کی جانب سے کوئی سرکاری بیان یا حکم جاری نہیں کیا گیا ہے ، لیکن کیونکہ ٹوئٹر نے اب تک نئے آئی ٹی قوانین کو لاگو نہیں کیا ، اس لئے اس کا لیگل پروٹیکشن خود بخود ختم ہوگیا ہے ۔
اس کے کیا معنی ہیں؟
ٹوئٹر کا قانونی تحفظ سے دستبرداری ایک انتہائی سنجیدہ مسئلہ ہے۔ اب ٹوئٹر ہندوستانی قوانین کے دائرے میں آگیا ہے اور اسے کسی بھی قابل اعتراض مواد کے لئے ذمہ دار ٹھہرایا جاسکتا ہے۔ سائبر لاء ایکسپرٹ بتاتے ہیں ’’ آئی ٹی ایکٹ کی دفعہ 79 کے تحت سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو لیگل پروٹیکشن ملتا ہے، اس میں کسی بھی مجرمانہ سرگرمیوں کے لیے کمپنی کی ذمہ داری نہیں ہوتی، لیکن اب اگر کسی قانون کی خلاف ورزی ہوتی ہے تو اس کے لیے ٹوئٹر کے انڈیا ہیڈ کی ذمہ ہوگی۔
ٹوئٹر کے خلاف ایسی کارروائی کیوں؟
حکومت نے آئی ٹی کی نئی گائڈ لائنس کا اعلان 25 فروری کو کیا تھا اور اس پر عمل درآمد کے لئے تین ماہ کا وقت دیا تھا۔ اس کے تحت سوشل میڈیا کمپنیوں کو ہندوستان میں ایک نوڈل آفیسر ، شکایت افسر اور تعمیل افسر مقرر کرنے کو کہا گیا تھا۔ گائڈ لائنس میں یہ واضح تھا کہ یہ تینوں افسر ہندوستانی اور کمپنی کے عہدیدار ہوں، لیکن ٹوئٹر نے ابھی تک ان قوانین پر عمل درآمد نہیں کیا ہے۔
آن لائن ہندی پورٹل ’آج تک ‘ کی رپورٹ کے مطابق حکومت نے سختی ظاہر کرنے کے بجائے ٹوئٹر کو وقت دیا، سرکاری ذرائع نے بتایا کہ 5 جون کو مرکز نے ایک نوٹس جاری کرتے ہوئے تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے قوانین لاگو کرنے کو کہا، 6 جون کو ٹوئٹر نے سرکار کو بتایا کہ اس نے بھارت میں نوڈل اور شکایت افسر کی شکل میں ایک شخص کی تقرر کی ہے لیکن سرکار نے کہاکہ وہ کمپنی کا ملازم نہیں ہے اور ایک لاء فارم میںکام کرنے والا وکیل ہے۔
بعدازاں ، جب ٹوئٹر کی کھینچائی کی گئی تو ا س نے کہا کہ ملازم کمپنی کے ساتھ معاہدہ پر ہے ، سرکار نے اسے بھی مان لیا، لیکن اس کے باوجود ٹوئر ٹی جانب سے تعمیل افسر کا تقرر نہیں کیا گیا اس وجہ سے مرکزی سرکار کی جانب سے ٹوئٹر کو ملنے والی قانونی تحفظ خود بخود ختم ہوگیا۔
اب ٹوئٹر کیا کر رہا ہے؟
ذرائع نے بتایا کہ انہیں کچھ میڈیا رپورٹس سے معلوم ہوا ہے کہ ٹوئٹر نے ہندوستان میں چیف تعمیل آفیسر مقرر کیا ہے ، لیکن ان کے نام کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ لیکن تب تک ٹوئٹر کو کسی بھی قسم کا قانونی تحفظ نہیں ملے گا اور وہ ہر قابل اعتراض پوسٹ کے لئے ذمہ دار ہوگا۔
حکومت کا کیا کہنا ہے؟
اس معاملے پر آئی ٹی وزیر روی شنکر پرساد نے ٹویٹ کیا۔ انہوں نے لکھا ،’اس بارے میں بہت سارے سوالات اٹھائے جارہے ہیں کہ کیا اب ٹوئٹر قانونی تحفظ کا حقدار ہے۔ تاہم معاملے کی حقیقت یہ ہے کہ ٹوئٹر 26 مئی سے نافذ نئی گائڈ لائنس کی تعمیل کرنے میں ناکام رہا ہے۔‘
انہوں نے لکھا کہ ’ٹویٹر کو کئی مواقع فراہم کیے گئے ، لیکن اس نے جان بوجھ کر قانون پر عمل نہیں کیا‘۔ انہوں نے لکھا ، ’حیرت کی بات یہ ہے کہ ٹوئٹر خودکو ہندوستان میں فری اسپیچ کا پرچم بلند کرتا ہے ، لیکن جب قانون پر عمل درآمد کی بات آتی ہے تو اسے ماننے سے جان بوجھ کر منع کردیتا ہے۔ بھارت اظہار رائے کی آزادی کی آئینی ضمانت دینے کا پابند ہے۔ لیکن کوئی بھی غیر ملکی ادارہ بھارت میں فری اسپیچ کے نام پر قانون کی پاسداری سے انکار کرتا ہے تو یہ غلط کوشش ہے ‘‘
غازی آباد واقعہ پر روی شنکر پرساد نے کہا ’’ یو پی میں جو کچھ ہوا وہ فیک نیوز کے خلاف لڑنے میں ٹوئٹر کی منمانی کی ایک مثالی تھی۔جبکہ ٹوئٹر اپنے فیکٹ چیکنگ میکنیزم کو لے کر بہت پرجوش رہاہے۔ لیکن وہ یوپی جیسے کئی معاملوں میں کارروائی کرنے میں ناکام رہاہے ۔‘‘
پہلا مقدمہ درج؟
غازی آباد کے ایک بزرگ شخص کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں کچھ لوگ معمر شخص کی پٹائی کرتے نظر آرہے تھے، اس واقعہ کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کے الزام میں غازی آباد میںٹوئٹر کے خلاف پہلا کیس بھی درج کر لیا گیا ہے، ایف آئی آر میں ٹوئٹر پر ’گمراہ کن مواد‘نہیں ہٹانے کا الزام لگاہے ۔











