غازی آباد :
غازی آباد کے لونی میں عبدالصمد سیفی نامی بزرگ شخص کے ساتھ مارپیٹ اور ان کی داڑھی کاٹنے کے معاملے میں پولیس اور پریوار والوں کی باتیں پوری طرح متضاد ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ عبدالصمد تعویذ بنانے کا کام کرتے ہیں اور مارپیٹ کے اہم ملزم اور باقی لوگوں نے ان سے تعویذ بنوایا تھا، لیکن اس تعویذ سے ان کے گھرو الوں پر منفی اثر ہوا اور غصے میں انہوں نے بزرگ شخص سے مار پیٹ کی ۔
ستیہ ہندی ڈاٹ کام کے مطابق سیفی کے اہل خانہ پولیس کی تعویذ والی بات کو سختی سے تردید کرتے ہیں۔ سیفی کے بیٹے نے ٹائمس آف انڈیا کے ساتھ بات چیت میں کہاکہ پولیس کی بات پوری طرح جھوٹ ہے اور وہ ایک فرضی کہانی گڑھ رہی ہے۔
بزرگ شخص کے ساتھ مار پیٹ کا واقعہ 5 جون کا ہے اور اس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہوئی تھی۔ بزرگ شخص کا کہنا ہے کہ ملزمین نے ان سے جے شری رام کے نعرے لگوائے اور داڑھی کاٹ دی تھی۔
مذہبی زاویہ نہیں
غازی آباد ایس پی (دیہات) ایراج راج کہتے ہیں کہ اس معاملے میں متاثرہ کے مذہب کا کوئی زوایہ نہیں ہے اور نہ ہی اس وجہ سے ان پر حملہ ہواہے۔ انہوں نے ٹائمس آف انڈیا سے کہاکہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ ان سے جے شری رام کا نعرہ لگوایا گیا۔ اس واقعہ کی ایف آئی آر لکھاتے و قت بزرگ شخص نے ایسا کچھ بھی نہیں کہا تھا۔
بابو نےکہاکہ پولیس کایہ کہنا کہ اس کے والد کے ساتھ مار پیٹ کے واقعہ میں مسلم بھی شامل تھے، یہ بات بھی غلط ہے ۔ داڑھی ایک مسلم شخص کی شناخت ہے اور کوئی بھی مسلم اسے جان بوجھ کر نہیں کاٹے گا ،اس نے یہ بھی کہا کہ والد کی طبیعت خراب رہتی ہے اور وہ بہت کم بولتے ہیں۔
فون کال کے ریکارڈز
جبکہ ایس پی کا کہنا ہے کہ ان کے پاس فون کالز کے ریکارڈ موجود ہیں ، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مارپیٹ کا اہم ملزم پرویش گوجر ایک دوسرے کو جانتے تھے اور مار پیٹ کے واقعہ والے دن پرویش نے بزرگ شخص کو لانے کے لیے بائک بھیجی تھی۔
ایس پی نے مزید کہا ، ’بزرگ شخص تعویذ بیچنے کا کام کرتے ہیں اور پرویش ان سے تعویذ خریدا تھا۔ پرویش کو بتایا گیا تھا کہ یہ شیطانی طاقتوں کو ختم کردے گا لیکن پرویش کو یہ لگاکہ تعویذ کا اس کی زندگی پر منفی اثر ہوا ہے اور اس نے اس کے لیے بزرگ کو قصور وار ٹھہرایا۔‘
غازی آباد پولیس نے اس معاملے میں چھ افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے اور ان میں سے تین لوگوں- پرویش گوجر، عادل اور کلو کو گرفتار کرلیا گیا ہے ۔ باقی تین لوگوں کے نام پولی، عارف اور مشاہد ہے۔ ان تینوں کی تلاش میں پولیس چھاپے مار رہی ہے ۔
پولیس کے رویہ پر سوال
بابو سیفی نے ٹائمس آف انڈیا سے کہاکہ اس معاملے میں مسلم لڑکوں کے خلاف مقدمہ درج کرکے اسے الگ رنگ دینے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ جب وہ شکایت درج کرانے لونی پولیس تھانہ پہنچے تو پولیس اہلکار پہلے تو شکایت درج کرنے کے موڈ میں نہیں نظر آئے۔
بزرگ شخص نے کہا تھا کہ وہ کہیں جارہے تھے ، اسی دوران ایک آٹو ڈرائیور نے اسے راستے میں آٹو میں بٹھایا ، ان کا چہرہ رومال سے ڈھک کر جنگل میں لے گئے اور ایک کمرے میںلے جا کر مارپیٹ کی۔
اس معاملے میں غازی آباد پولیس نے ٹوئٹر کے خلاف ایف آئی آر درج کرلی ہے۔ اس کے علاوہ صحافی محمد زبیر اور رانا ایوب اور کانگریس لیڈر کے خلاف بھی ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔
کانگریس لیڈروںمیں سلمان نظامی، شمع محمد اور مشکور عثمانی کا نام شامل ہے ،جبکہ مصنفہ اور صحافی صبا نقوی ، میڈیا پورٹل دی وائر کے خلاف بھی ایف آئی درج کی گئی ہے۔ پولیس نے یہ ایف آئی آر فساد بھڑکانے ، نفرت پھیلانے اور مذہبی جذبات کو مجروح کرنے اور دیگر دفعات کے تحت درج کی ہے ۔ یہ ایف آئی آر منگل کی رات کو درج کی گئی ہے ۔











