حماس کو اس مجوزہ منصوبہ سے تین مسائل ہیں:
پہلا یہ کہ ان کے مطابق اس مجوزہ معاہدے میں کہیں یہ نہیں لکھا گیا کہ یہ سیزفائر دیرپا جنگ بندی کی شکل اختیار کر کے جنگ ختم کرنے کا باعث بنے گا۔
دوسرا یہ کہ معاہدے میں یہ واضح نہیں کیا گیا ہے کہ نام نہاد انسانی امداد کے قواعد کیا ہوں گےگذشتہ جنگ بندی کے دوران اقوامِ متحدہ کی ایجنسیوں اور دیگر فلاحی اداروں کے 400 سے 500 امدادی ٹرک غزہ میں روزانہ داخل ہوتے تھے۔اور آخر میں یہ کہ یہ واضح نہیں ہے کہ اسرائیل غزہ سے فوجوں کا انخلا کرتے ہوئے انھیں واپس آخری سیزفائر والی پوزیشنز پر لے جائے گا یا نہیں۔
حماس کی جانب سے اس بارے میں مزید خدشات سامنے آ رہے ہیں جن میں یہ بتایا جا رہا ہے کہ ان کی جانب سے امریکہ سے جو بات بیک چینلز کے ذریعے کی جا رہی تھی وٹکوف کا مجوزہ منصوبہ اس سے یکسر مختلف ہے۔
حماس کے ایک کمانڈر نے بی بی سی کے نامہ نگار رشدی ابوالعوف کو بتایا کہ ان کا ماننا ہے کہ اسرائیل مفت میں یرغمالیوں کی رہائی چاہتا ہے اور حماس ایسا ہونے نہیں دے گا۔
•••امریکہ کا کہتا ہے
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے خصوصی مندوب سٹیو وٹکوف نے ایک ایسی سیزفائر معاہدہ پیش کیا جسے اسرائیل کی حمایت بھی حاصل ہے۔
وائٹ ہاؤس نے جمعرات کو کہا کہ ’اس بارے میں بات چیت جاری ہے۔‘ تاہم اس کی جانب سے تاحال مزید تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔
ا•••سرائیل کاکیا سوچتا ہے
اسرائیلی حکومت کی جانب سے تاحال اس بارے میں کوئی باضابطہ بیان نہیں دیا ہے تاہم وزیرِ اعظم بنیامن نتن یاہو نے اطلاعات کے مطابق یرغمالیوں کے خاندانوں سے جمعرات کو ملاقات کے دوران کہا کہ وہ اس منصوبے کو تسلیم کرتے ہیں اور تاحال حماس نے اس بارے میں کوئی جواب نہیں دیا ہے۔اسرائیل کے چینل 12 ٹی وی نے رپورٹ کیا کہ نتن یاہو نے میٹنگ کے دوران کہا کہ ’میں وٹکاف کے تازہ ترین منصوبے کو تسلیم کرتا ہوں جو ہمیں آج رات بتایا گیا۔ حماس نے تاحال کوئی ردِ عمل نہیں دیا ہے۔ ہم نہیں سمجھتے کہ حماس آخری یرغمالی رہا کرے گا اور ہم تب تک غزہ کی پٹی نہیں چھوڑیں گے جب تک آخری یرغمالی ہمارے پاس نہ آ جائے۔
حماس










