متھرا:
اترپردیش کے متھرا کی ایک مقامی عدالت نے منگل کے روز کیرل کے صحافی صدیقی کپن اور تین دیگر افراد کونقص امن کے الزام سے بری کردیا ،کیونکہ پولیس اس معاملے کی جانچ مقررہ چھ مہینے میں پورا نہیں کرپائی۔ دفاعی فریق کے وکیل نے مذکورہ جانکاری دی۔ پاپولرفرنٹ آف انڈیا (پی ایف آئی ) سے تعلق ہونے کے شک میں کپن اور ان کے مبینہ ساتھیوں کو پانچ اکتوبر 2020 کو گرفتار کیا تھا۔ یہ لوگ ہاتھرس میں ایک لڑکی کے ساتھ ہوئی عصمت دری اور قتل کے معاملے میں اس کے گاؤں جارہے تھے۔ دفاعی وکیل مدھوبن دت چترویدی نے بتایا کہ سب ڈویژنل مجسٹریٹ رام دت رام نے منگل کو ملزمین عتیق الرحمٰن، عالم ، صحافی صدیق کپن اور احمد کو الزام سے بری کردیا۔ انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق وکیل نے بتایاکہ سی آر پی سی کی دفعہ 116(6)کے تحت کارروائی کی حد ختم ہونے کی وجہ سے سب مجسٹرین نے الزام سے بری کردیا۔
دفاعی وکیل مدھوبن دت چترویدی نے بتایا کہ 5 اکتوبر 2020 کو گرفتاری کے بعد انہیں سب ڈویژنل مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا گیا تھا، جہاں سے انہیں عدالتی تحویل میں بھیج دیا گیا تھا۔ عدالتی تحویل کے دوران عدالت نے نقص امن کے معاملے کی سماعت کی اور پولیس کے ذریعہ پیش کی گئی رپورٹ کی بنیاد پر سی آر پی سی کی دفعہ 111 کے تحت نوٹس بھیجا ۔ جیل میں بھیجے گئے نوٹس میں ان سے پوچھا گیا کہ انہیں ایک ایک لاکھ روپے کے نجی بانڈ اور دو گارنٹرز سے مساوی رقم کا مچلکہ بھر کرضمانت کیوں نہیں دی جائے۔ وہیں ملزمین نے خود پر لگے الزامات سے انکار کیا۔ وکیل نے کہا ’ میں نے سب ڈویژنل مجسٹریٹ کی عدالت میں عرضی دائر کر کے انہیں آگاہ کیا ہے کہ ملزمین کے خلاف معاملے کو رد کردیا جائے، کیونکہ پولیس مقررہ چھ مہینے کی حد میںکوئی ثبوت پیش نہیں کر پائی، اس کے بعد عدالت نے آج تکنیکی بنیاد پر ملزمین کو بری کردیا۔ ‘ انہوںنے کہاکہ عدالت نے سی آر پی سی کی بنیاد 116(6)کے تحت معاملہ بندکردیا ۔
دراصل اس دفعہ میں کہا گیا ہے کہ جانچ شروع ہونے سے چھ مہینے کےاندر جانچ پوری کی جانی چاہئے اور اگر جانچ پوری نہیں کی جاتی تو جانچ کو رد ماناجائے گا۔ معلوم ہو کہ صدیق کپن اور تین دیگر کی گرفتاری کے دو دن بعد یوپی پولیس نے ان کے خلاف غداری اور یو اے پی اے کے تحت درج معاملے میں الزام لگایا تھا کہ کپن اور ان کے ساتھی ہاتھرس اجتماعی عصمت دری وقتل معاملے کے مدنظر فرقہ وارانہ فساد بھڑکانے اور سماجی ہم آہنگی کو خراب کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ کپن عدالتی تحویل میں ہے ۔پولیس نے بعد میں اس معاملے میں مزید چار افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا۔ اس سال اپریل میں پولیس نے متھرا کی ایک مقامی عدالت میں کپن سمیت تمام آٹھ افراد کے خلاف چارج شیٹ داخل کی تھی۔











