ایودھیا :
شری رام جنم بھومی تیرتھ چھیتر ٹرسٹ کے ذریعہ خریدی گئی زمین کو لے کر تنازع رکنے کا نام نہیں لے رہاہے ۔ اس تنازع سے ایک بارپھر سیاست گرم ہوگئی ہے ۔سرکاری ریکارڈ بتاتےہیں کہ ٹرسٹ نے ایودھیا میںایک ہی دن میں دو الگ الگ قیمتوں پر زمین خریدی۔
آن لائن ہندی پورٹل ’جن ستیہ ‘ کی رپورٹ کے مطابق 18 مارچ کو شری رام جنم بھومی تیرتھ چھیتر ٹرسٹ نے ایودھیا میں 18.5کروڑ روپے اور 8 کروڑ روپے میں دو الگ الگ 1.208ہیکٹر اور 1.037 ہیکٹر زمین خریدی۔ زمین کے دونوں ٹکرے ہریش پاٹھک اور کسم پاٹھک کے نام پر تھے۔ 18 مارچ کو ٹرسٹ نے 1.208ہیکٹر بڑا پلاٹ سلطان انصاری اور پراپرٹی ڈیلر موہن تیواری سے 18.5کروڑ روپے میں خریدا، جنہوں نے اسے پاٹھکوں سے 2 کروڑ روپے میں خریدی تھی۔
اس سودے پر سماج وادی پارٹی (ایس پی) اور عام آدمی پارٹی (آپ) نے سوال اٹھائے ہیں اور ٹرسٹ پر ’بدعنوان اور دھوکہ دہی ‘ کاالزام لگایا ہے۔ وہیں ٹرسٹ نے اس سے صاف انکار کیا ہے ۔ اب جو بات سامنے آئی ہےوہ یہ ہے کہ اسی دن ٹرسٹ نے ایک اور زمین کا ٹکڑا 1.037ہیکٹر براہ راست ہریش پاٹھک اور کسم پاٹھک سے 8 کروڑ روپے میں خریدا۔
انڈین ایکسپریس نے اترپردیش(آئی جی آر ایس – یوپی) ویب سائٹ پر دستیاب دستاویزات سے اس کی تصدیق کی ، جو واضح کرتاہےکہ دو پارسل گاٹا نمبر 242,243,244اور 246 میں آتے ہیں۔ یہ زمین ستمبر 2019 میں ہریش پاٹھک اور کسم پاٹھک اور سلطان انصاری سمیت نو دیگر لوگوں کے درمیان تحریری سمجھوتہ ہوا ہے۔ اس کی قیمت 2 کروڑ طے کی گئی تھی۔
1.208 ہیکٹر پارسل کی شناخت گاٹا نمبر 243,244اور 246 سے ہوتی ہے ۔ 11 مئی کو ٹرسٹ نے گاٹا نمبر 242سے 695.678مربع میٹر زمین کوشلیا بھون کے یشودہ نند ترپاٹھی اور کوشل کشور کو فری میں دے دی۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ شری رام جنم بھومی تیرتھ چھیتر ٹرسٹ کے جنرل سکریٹری چمپت رائے پر ایودھیا میں گزشتہ 18 مارچ کو دو کروڑ روپے میں فروخت کی گئی زمین کو اس کے محض پانچ منٹ کے اندر ساڑھے 18 کروڑ روپے میں خریدنے کا الزام لگا ہے۔ ان دونوں ہی خرید میں ٹرسٹ کے ممبر انل مشرا اور ایودھیا کے میئر رشی کیش اپادھیائے گواہ ہیں۔ اپوزیشن کاالزام ہے کہ یہ منی لانڈرنگ کا معاملہ ہے اور اس کی اعلیٰ سطح کی جانچ ہونی چاہئے۔











