غازی آباد:
غازی آباد مار پیٹ واقعہ میں اب پولیس کو سماج وادی پارٹی کے مقامی لیڈر امید پہلوان کی تلاش ہے۔ امید کے حلاف ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے۔ اس درمیان امید پہلوان نے آج تک سے خصوصی بات چیت کی اور کہاکہ ان پر فرضی مقدمہ درج کرکے پھنسایا جارہاہے۔
امید پہلوان نے کہا کہ میں کہیں پر چھپا ہوا نہیں ہوں۔ میرے اوپر فرضی مقدمہ درج کیا گیا ہے ۔ امید نے الزام لگایاکہ میں نے ایک بزرگ کی مدد کی، لیکن لونی کے بی جے پی ایم ایل اے نے مجھ پر فرضی مقدمہ درج کرادیا ۔
واقعہ کے وقت میں دہلی میں تھا: امید
واقعہ کی جانکاری دیتے ہوئے امید پہلوان نے کہاکہ میں صرف بزرگ کو لے کر تھانہ گیا اور شکایت درج کرائی، لیکن مجھ پر فرضی طریقے سے کیس درج کیا گیا۔ جب پولیس نے کوئی ایکشن نہیں لیا تو مجھے فیس بک لائیو آنا پڑا ، جس دن واقعہ ہوا میں دہلی میں تھا۔
اس معاملے میں ہورہی سیاست کے بارے میں امید پہلوان نے کہا کہ میں نے فیس بک لائیو آنے پر کسی سیاسی جماعت کا نام نہیں لیا، میرے خلاف سازش رچی جا رہی ہے ، بی جے پی ایم ایل اے نند کشور میرا قتل کروا سکتے ہیں۔
مقامی لیڈر امید پہلوان نے کہا کہ اگر کیپٹن صاحب مجھے بلائیں گے ، تو میں آنے کے لیے تیارہوں، میں بھاگنے والا نہیں ہوں، بدعنوان پولیس اہلکاروںنے شکایت کو بدل دیا۔ پرویش گوجر نے 72 سال کے بزرگ کی پٹائی کی۔
اس معاملے میں پولیس کارروائی جاری
اہم بات یہ ہے کہ غازی آباد کیس میں پولیس نے امید پہلوان کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔ الزام ہے کہ امید نےفرضی طرح سے کہانی گڑھی اور بزرگ کے ساتھ فیس بک لائیو کردیا۔ پولیس کے ذریعہ درج کئے جانے کے بعد سے ہی امید فرار ہیں اور پولیس کو ان کی تلاش ہے۔
بتادیں کہ غازی آباد کے لونی علاقہ کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی ، جس میں کچھ نوجوان ایک بزرگ کی پٹائی کررہے تھے۔ اس معاملے کو لے کر پولیس کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر غلط طریقے سے اسے فرقہ وارانہ رنگ دیا ہے۔ پولیس نے اب تک اس معاملے میں ٹوئٹر سمیت کئی لوگوں پر کیس درج کیا ہے ۔











