اردو
हिन्दी
فروری 11, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

مسلم خواتین کو خلع کا اختیار مطلق نہیں

7 مہینے پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر
A A
0
236
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

••تلنگانہ ہائی کورٹ کا فیصلہ غلط فہمی پیدا کرنے والا
*تجزیہ :مولانا محمد رضی الاسلام ندوی
   میڈیا کی خبروں میں تلنگانہ ہائی کورٹ کا فیصلہ چرچا کا موضوع بنا ہوا ہے ، جس میں کہا گیا ہے کہ مسلم خواتین کو خلع کا مطلق اور غیر مشروط حق حاصل ہے اور اس کے لیے شوہر کی منظوری یا رضا مندی لازمی نہیں – جسٹس موسومی بھٹاچاریہ اور جسٹس بی آر مادھو سدھن راؤ پر مشتمل ڈویژن بنچ نے ‘محمد عارف علی بہ مقابلہ اسماء افسر النساء’ کیس کی سماعت کے دوران یہ فیصلہ سنایا ۔ کورٹ نے کہا ہے کہ اسلامی قانون کے مطابق خلع ایک ایسا طریقۂ کار ہے جس کے ذریعے مسلم عورت نکاح ختم کر سکتی ہے اور اس کے لیے شوہر کی رضامندی کی ضرورت نہیں ۔ کورٹ نے مزید کہا کہ فیملی کورٹ کا کردار صرف اس بات کی جانچ کرنا ہوتا ہے کہ خلع کا مطالبہ جائز ہے یا نہیں اور کیا صلح کی سنجیدہ کوشش کی گئی یا بیوی کی طرف سے مہر کی واپسی کی پیش کش کی گئی ہے یا نہیں ۔ یہ فیصلہ ایک ایسے مقدمے میں سنایا گیا ہے جس میں ایک شوہر نے فیملی کورٹ کے اس فیصلے کو چیلنج کیا تھا جس نے اس کی اُس درخواست کو مسترد کر دیا تھا جس میں اُس نے خلع نامہ کی قانونی حیثیت کو چیلنج کیا تھا ، جو اس کی بیوی نے ایک غیر سرکاری تنظیم (صدائے حق شرعی کونسل) کے ذریعہ حاصل کیا تھا ۔ بیوی نے شوہر کے خلع منظور کرنے سے انکار کے بعد مذکورہ کونسل سے رجوع کیا تھا ۔
    ہائی کورٹ کے فیصلے کی تفصیلات سامنے نہیں ہیں – میڈیا میں جو بیانات نقل کیے گئے ہیں وہ غلط فہمی پیدا کرنے والے ہیں – اگر عدالت کے فیصلے کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان عورت خلع چاہے تو اسے شوہر سے رجوع کرنے کی ضرورت نہیں ، وہ اپنے میکے چلی جائے یا شوہر سے الگ ہوجائے اور اعلان کردے کہ اس نے خلع لے لیا ہے ، پھر وہ جہاں چاہے اپنا دوسرا نکاح کرنے کے لیے آزاد ہے تو یہ اسلامی شریعت کی درست ترجمانی نہیں ہے –  نکاح کا ایک پہلو عبادت کا ہے – دوسرے پہلو سے وہ ایک سماجی معاہدہ (Social Contract) ہے ، جو دوسرے معاہدوں کی طرح وقتِ ضرورت ختم کیا جاسکتا ہے – اگر بیوی شوہر کے ساتھ رہنا چاہے ، لیکن شوہر کسی وجہ سے نکاح ختم کرنے پر آمادہ ہو تو وہ ‘طلاق’ دے سکتا ہے – اگر شوہر بیوی کو ساتھ میں رکھنا چاہے ، لیکن بیوی علیٰحدہ ہونے پر بہ ضد ہو تو وہ ‘خلع’ لے سکتی ہے – اگر دونوں اس نتیجے پر پہنچ گئے ہوں کہ وہ ساتھ رہ کر خوش گوار زندگی نہیں گزار سکتے تو آپسی رضامندی سے علیٰحدہ ہوسکتے ہیں – اسے ‘مباراۃ’ (Mutual Separation) کا نام دیا گیا ہے –
  چوں کہ اسلام میں نکاح کے نتیجے میں تمام تر ذمے داریاں مرد سے متعلق کی گئی ہیں : وہ مہر دیتا ہے ، عورت کے لیے رہائش (سُکنی) فراہم کرتا ہے ، روزمرّہ کے مصارف (نفقہ) اٹھاتا ہے اور دیگر ضروریات پوری کرتا ہے ، اس لیے طلاق اور خلع کے معاملے میں تھوڑا فرق رکھا گیا ہے – طلاق گویا شوہر کی طرف سے اعلان ہوتا ہے کہ میں اب آئندہ نکاح کی ذمے داریاں نہیں اٹھاؤں گا – خلع کے ذریعے عورت کو بھی نکاح ختم کرنے اور شوہر سے علیٰحدہ ہونے کا حق دیا گیا ہے – اگر رشتے میں ہم آہنگی نہ ہو ، شوہر ظلم کرتا ہو یا کسی اور وجہ سے عورت اس کے ساتھ نہ رہنا چاہے تو وہ یہ حق استعمال کرسکتی ہے – وہ شوہر سے کہے کہ میں اب نکاح باقی رکھنا نہیں چاہتی – شوہر اس کا مطالبہ مان لے ، یا اسے طلاق دے دے تو نکاح ختم ہوجاتا ہے – خلع ایک ‘طلاق بائن’ کے حکم میں ہے ، یعنی بعد میں عورت کی مرضی ہو تو دوبارہ ان کا نکاح ہوسکتا ہے – ایک فرق یہ ہے کہ طلاق کی صورت میں شوہر مہر واپس نہیں لے سکتا ، جب کہ خلع کی صورت میں شوہر کے مطالبے پر عورت کو مہر واپس کرنا ہوگا –
صحیح بات یہ ہے کہ عورت کے مطالبۂ خلع کو نہ ماننے کا شوہر کو حق نہیں ہے – عورت خلع کا مطالبہ کرے تو یا تو شوہر اسے نکاح میں رہنے پر راضی کرنے کی کوشش کرے ، یا اگر عورت بہ ضد ہو اور ہر حال میں علیٰحدگی چاہے تو اس کا مطالبۂ خلع منظور کرے – رسول اللہ ﷺ اور خلفائے راشدین کے عہد میں خلع کے کئی واقعات پیش آئے – عورتوں نے خلع کا مطالبہ کیا تو شوہروں کو بلاکر اسے نافذ کروادیا گیا اور انہیں مہر واپس دلوادیا گیا – لیکن اس سے یہ مطلب نہیں نکالا جاسکتا کہ مسلمان عورت کو خلع کا مطلق اختیار حاصل ہے – وہ ناراض ہوکر شوہر سے علیٰحدہ ہوجائے اور بس سمجھ لے کہ نکاح ختم ہوگیا ، اب وہ اپنی مرضی سے دوسرا نکاح کرسکتی ہے ، بلکہ وہ شوہر سے خلع کا مطالبہ کرے گی – اگر شوہر اس کے مطالبۂ خلع کو منظور نہ کرے تو وہ اسلامی عدالت سے رجوع کرے گی اور عدالت عورت کی گلو خلاصی کے لیے اس کی مدد کرے گی اور شوہر کو خلع کا مطالبہ ماننے پر مجبور کرے گی -ہندوستان میں دار القضاء کو بہت محدود اختیارات حاصل ہیں – وہ اس کے دائرے میں رہتے ہوئے خلع کے مسائل حل کرنے کی کوشش کرتا ہے – آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے تحت پورے ملک میں سو (١٠٠) سے کچھ کم دار القضاء قائم ہیں – اوّلاً عائلی تنازعات کو زوجین اپنی حد تک شریعت کے مطابق حل کریں – وہ کام یاب نہ ہوں تو دونوں کے اہل خاندان مل جل کر تنازعہ کو ختم کرنے کی کوشش کریں – قرآن مجید کی تعلیم یہ ہے کہ نکاح باقی رہنے کا معاملہ ہو یا ختم کرنے کا ، اسے معروف طریقے سے اور خوب صورتی کے ساتھ انجام دیا جائے – اہلِ خاندان بھی تنازعہ حل کرنے میں کام یاب نہ ہوں تو دار القضاء سے رجوع کرنا چاہیے –
   فاضل ججوں نے اپنے فیصلے میں قرآن کریم کی سورۃ البقرۃ کی آیات 228 اور 229 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسلام بیوی کو یہ حق دیتا ہے کہ وہ نکاح کو اپنے طور پر ختم کر سکتی ہے ، شوہر کی منظوری اس عمل کے لیے شرط نہیں ہے ۔ لیکن ان کی یہ بات درست نہیں ہے – قرآن عورت کو خلع کے ذریعے نکاح ختم کرنے اور شوہر سے علیحدہ ہونے کا حق دیتا ہے ، لیکن یہ حق مطلق اور غیر مشروط نہیں ہے ، بلکہ اس کے لیے اسے شوہر سے رجوع کرنا اور اس کی منظوری حاصل کرنا ضروری ہوگا –        اس موضوع پر راقم سطور نے ایک تفصیلی مقالہ لکھا ہے ، جو سہ ماہی تحقیقات اسلامی علی گڑھ کے جنوری – مارچ 2023 میں شائع ہوا تھا – اس شمارے کو درج ذیل لنک سے ڈاؤن لوڈ کیا جاسکتا ہے 👇
https://www.tahqeeqat.net/issues.asp

*سکریٹری شریعہ کونسل
جماعت اسلامی ہند

ٹیگ: absolute powerdivorcemuslim womentelangana high court

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

Power Decline Political Narrative
مضامین

اقتدار کا ڈھلتا سورج اور ٹوٹتا ہوا بیانیہ!

07 فروری
Muslims Shudra Category Campaign
مضامین

شودروں کے زمرے میں، مسلمانوں کو ڈالنے کی مہم،

02 فروری
AIMIM BJP Muslim Issues
مضامین

مجلس والے بی جے پی کو مسلمانوں کے خلاف نئے نئے ایشو تھمارہے ہیں!

31 جنوری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
World News Brief

عالمی خبریں: اختصار کے ساتھ

جنوری 28, 2026
Urdu Language and Unani Medicine NEP 2020

قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے تناظر میں اردو زبان اور یونانی طب

جنوری 28, 2026
Jamiat Ulema-e-Hind Freedom Role

جمعیتہ علمائے ہند کو آزادی کی تاریخ میں جگہ کیوں نہیں ملی؟

جنوری 31, 2026
AI Quran Tafsir Prohibited

مصنوعی ذہانت (AI) سے قرآن پاک کی تفسیر شرعاً ممنوع :مصری دارالافتاء

جنوری 28, 2026
Vande Mataram Mandatory Govt Order

اب اسکولوں اور سرکاری پروگراموں میں جن گن سے پہلے وندے ماترم لازمی، کھڑا بھی ہونا ہوگا: سرکار کا فرمان

Shafiqur Rahman Jamaat Journey

شفیق الرحمن: بنگلہ دیش جماعت اسلامی کے امیر، کبھی تھے کمیونزم کے اسیر

Central Cee Accepts Islam News

معروف برطانوی گلوکار سینٹرل سی نے اسلام قبول کرلیا

Ravi Nair Arrest Adani Case Jail

اڈانی کے کیس پر جرنلسٹ روی نائر کو ایک سال کی جیل، یوگی کے خلاف ہوسٹ،جرنلسٹ گرفتار، جیل بھیجا گیا

Vande Mataram Mandatory Govt Order

اب اسکولوں اور سرکاری پروگراموں میں جن گن سے پہلے وندے ماترم لازمی، کھڑا بھی ہونا ہوگا: سرکار کا فرمان

فروری 11, 2026
Shafiqur Rahman Jamaat Journey

شفیق الرحمن: بنگلہ دیش جماعت اسلامی کے امیر، کبھی تھے کمیونزم کے اسیر

فروری 11, 2026
Central Cee Accepts Islam News

معروف برطانوی گلوکار سینٹرل سی نے اسلام قبول کرلیا

فروری 11, 2026
Ravi Nair Arrest Adani Case Jail

اڈانی کے کیس پر جرنلسٹ روی نائر کو ایک سال کی جیل، یوگی کے خلاف ہوسٹ،جرنلسٹ گرفتار، جیل بھیجا گیا

فروری 11, 2026

حالیہ خبریں

Vande Mataram Mandatory Govt Order

اب اسکولوں اور سرکاری پروگراموں میں جن گن سے پہلے وندے ماترم لازمی، کھڑا بھی ہونا ہوگا: سرکار کا فرمان

فروری 11, 2026
Shafiqur Rahman Jamaat Journey

شفیق الرحمن: بنگلہ دیش جماعت اسلامی کے امیر، کبھی تھے کمیونزم کے اسیر

فروری 11, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN