امریکی ویب سائٹ "ایکسیس” کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل ایران کی جانب سے جوہری پروگرام کی بحالی کی کسی بھی کوشش کے جواب میں نئی فوجی کارروائیوں کے امکان کے تحت تیاریوں میں مصروف ہے۔ اسرائیلی حکام کو توقع ہے کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ مخصوص حالات میں ان حملوں کی حمایت کریں گے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایران کا جوہری معاملہ امریکی صدر ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کے درمیان وائٹ ہاؤس میں پیر کی شام ہونے والی ملاقات کے ایجنڈے میں شامل ہے۔
نیتن یاھو کی کوشش ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ نہ صرف ایران سے مذاکرات پر ہم آہنگی پیدا کریں بلکہ ان ممکنہ منظرناموں پر بھی بات چیت کریں جو اسرائیلی حملوں کو جواز فراہم کر سکتے ہیں۔دو باخبر ذرائع کے مطابق نیتن یاھو کے مشیرِ اعلیٰ رون دیرمر نے حالیہ دورہ واشنگٹن کے بعد بند کمروں میں ہونے والی بریفنگز میں کہا کہ انہیں اس تاثر کے ساتھ واپسی ہوئی ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ مخصوص حالات میں ایران کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کی تائید کرے گی۔
اگرچہ صدر ٹرمپ 12 روزہ ایران-اسرائیل جنگ کے بعد دو مرتبہ اس امکان کا اظہار کر چکے ہیں کہ ایران کی جانب سے یورینیئم کی افزودگی دوبارہ شروع ہونے کی صورت میں امریکہ حملہ کر سکتا ہے، تاہم وہ ساتھ ہی ایران کے ساتھ سفارتی مذاکرات کے ذریعے تصفیہ چاہتے ہیں تاکہ کسی نئے تنازع سے بچا جا سکے










