کولکاتا: بھارت کی ریاست مغربی بنگال کے دارالحکومت کولکاتا میں درگا پوجا کے ایک پنڈال میں بھگدڑ کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 19 ہوگئی ہے، جبکہ 25 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ ریاستی حکومت نے واقعے کی وجوہات اور ہجوم کو سنبھالنے کے انتظامات میں ممکنہ کوتاہیوں کی جانچ کے لیے خصوصی تحقیقاتی ٹیم (SIT) تشکیل دینے کا اعلان کیا ہے، جس کی سربراہی کلکتہ ہائی کورٹ کے ایک حاضر سروس جج کریں گے۔
یہ واقعہ ہفتے کی شام شمالی کولکاتا کے چورباگان سروجنین درگا پوجا پنڈال میں پیش آیا، جہاں درگا پوجا کی تقریبات کے دوران بڑی تعداد میں عقیدت مند جمع تھے۔ زخمیوں کو مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا گیا، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔ حکام کے مطابق زخمیوں میں سے ایک کی حالت تشویش ناک بتائی گئی ہے۔
بارش اور ہجوم کے درمیان کیسے پیش آیا حادثہ؟
ابتدائی اطلاعات کے مطابق بارش اور پنڈال کے اطراف بڑھتے ہوئے ہجوم کے باعث صورت حال بے قابو ہوئی۔ عینی شاہدین نے ہجوم کو منظم کرنے، داخلے اور باہر نکلنے کے راستوں کی وضاحت اور حفاظتی انتظامات پر سوال اٹھائے ہیں۔ بعض اطلاعات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ لاؤڈ اسپیکر پر پنڈال کے ممکنہ طور پر گرنے سے متعلق اعلان کے بعد لوگوں میں خوف پھیلا اور بھگدڑ جیسی صورت حال پیدا ہوئی۔
تاہم، حادثے کی اصل وجہ اور مختلف عوامل کے کردار کی حتمی تصدیق تحقیقات کے بعد ہی ہوسکے گی۔ پولیس سی سی ٹی وی فوٹیج اور موقع پر موجود افراد کے بیانات کی مدد سے واقعات کی ترتیب معلوم کر رہی ہے۔
حاضر سروس ہائی کورٹ جج کی سربراہی میں تحقیقات
مغربی بنگال کے وزیر اعلیٰ سوویندو ادھیکاری نے اعلان کیا ہے کہ واقعے کی تحقیقات کے لیے خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی جائے گی۔ اس ٹیم میں اسپیشل ٹاسک فورس (STF)، کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (CID) اور دیگر متعلقہ محکموں کے افسران شامل ہوں گے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اگر ہجوم کے انتظام یا حفاظتی اقدامات میں کسی کی غفلت سامنے آئی تو اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
حکومت کے مطابق، کلکتہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے رابطہ کرکے حاضر سروس جج کو تحقیقاتی ٹیم کی سربراہی کے لیے نامزد کرنے کی درخواست کی جائے گی۔ پولیس نے واقعے کے سلسلے میں منتظمین سمیت متعدد افراد کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا ہے۔
متاثرہ خاندانوں کے لیے معاوضے کا اعلان
ریاستی حکومت نے ہر جاں بحق شخص کے اہل خانہ کو 25 لاکھ روپے معاوضہ دینے اور خاندان کے ایک فرد کو سرکاری ملازمت فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ زخمیوں کو پانچ لاکھ روپے فی کس دینے کے ساتھ ان کے علاج کے اخراجات بھی حکومت برداشت کرے گی۔
وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے بھی ہلاک ہونے والوں کے اہل خانہ کے لیے دو لاکھ روپے اور زخمیوں کے لیے 50 ہزار روپے کی مالی امداد کا اعلان کیا گیا ہے۔
بڑے مذہبی اجتماعات میں حفاظتی انتظامات پر سوال
اس حادثے نے درگا پوجا کے بڑے پنڈالوں میں ہجوم کو قابو میں رکھنے، داخلی و خارجی راستوں کی مناسب منصوبہ بندی، اعلانات اور ہنگامی حالات میں فوری امداد کی دستیابی سے متعلق سوالات کو پھر نمایاں کردیا ہے۔ پولیس اور تحقیقاتی ٹیم اب یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں کہ آیا انتظامی یا حفاظتی کوتاہیوں نے حادثے کی شدت میں اضافہ کیا۔
تحقیقات کے نتائج سے یہ واضح ہوسکے گا کہ اس المناک واقعے کے لیے کون سے عوامل ذمہ دار تھے اور مستقبل میں ایسے حادثات سے بچنے کے لیے کن اقدامات کی ضرورت ہے۔










