نئی دہلی؛ووٹر لسٹ کی مکمل نظرثانی کی لڑائی سڑکوں پر آنے کے بعد اب سپریم کورٹ تک پہنچ گئی ہے۔ سپریم کورٹ آج مکمل نظرثانی کو چیلنج کرنے والی درخواستوں کی سماعت کرے گی۔ ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمز (ADR) نے 5 جولائی کو ہی الیکشن کمیشن کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے ایک پٹیشن دائر کی تھی۔
اے ڈی آر کے بعد راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) اور کانگریس سمیت نو سیاسی جماعتوں نے بھی الیکشن کمیشن کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔ سپریم کورٹ نے ان درخواستوں کو سماعت کے لیے منظور کر لیا تھا۔ ان کی سماعت آج یعنی 10 جولائی کو ہونی ہےدرخواستوں میں یہ 5 بڑے سوالات اٹھائے گئے تھے۔
1- آئینی دفعات کی خلاف ورزی
اپوزیشن جماعتوں نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کرتے ہوئے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کا یہ فیصلہ عوامی نمائندگی ایکٹ 1950 اور رجسٹریشن آف الیکٹرز رول 1960 کے رول 21 اے کے ساتھ ساتھ آئین کے آرٹیکل 14، 19، 21، 325 اور 326 کی بھی خلاف ورزی ہے۔۔
2- شہریت، پیدائش اور رہائش پر من مانی رویہ
سماجی کارکنوں ارشد اجمل اور روپیش کمار کی جانب سے دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ شہریت، پیدائش اور رہائش سے متعلق متضاد دستاویزات کو لاگو کرنے کا یہ عمل من مانی ہے۔
3- جمہوری اصولوں کو کمزور کرنے والا فیصلہ
سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں الیکشن کمیشن کے ووٹرز کی تصدیق کے فیصلے کو جمہوری اصولوں کو کمزور کرنے والا قرار دیا گیا ہے۔
4- غریبوں پر غیر مساوی بوجھ
درخواستوں میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کی طرف سے شروع کیا گیا یہ عمل غریبوں، تارکین وطن کے ساتھ ساتھ خواتین اور دیگر پسماندہ گروہوں پر غیر مساوی بوجھ ڈالنے والا ہے۔
5- عمل غلط وقت پر شروع ہوا۔
آر جے ڈی کی طرف سے دائر عرضی میں اس عمل کے وقت پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ درخواست گزار منوج جھا نے کہا ہے کہ یہ عمل جلد بازی میں اور غلط وقت پر شروع کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے کروڑوں ووٹر اپنے حق رائے دہی سے محروم ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا ہے کہ یہ عمل مانسون کے موسم میں شروع کیا گیا ہے، جب ریاست کے کئی اضلاع سیلاب سے متاثر ہوتے ہیں اور ایک بڑی آبادی بے گھر ہوتی ہے۔ ایسی صورت حال میں آبادی کے ایک بڑے حصے کا اس عمل میں حصہ لینا ناممکن ہو جاتا ہے۔










