آئے روز بیوی کی اپنے پریمی کے ساتھ مل کر شوہر کو قتل کرنے کے واقعات سامنے آرہے ہیں۔ ایسا ہی ایک معاملہ علی گڑھ کے برلا شہر کے محلہ کوٹھی میں سامنے آیا ہے۔ یہاں شوہر سریش جو بیوی کے اندھے پریم میں رکاوٹ بن رہا تھا، جبکہ وہ اس کے تین بچوں کی ماں تھی جمعرات کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ بینا گزشتہ آٹھ سالوں سے شوہر کو دھوکہ دے رہی تھی۔
امر اجالا کی رپورٹ کے مطابق قصبے کے محلہ کوٹھی کے آنجہانی گووند رائے کے دو بیٹوں میں سے بڑا وجے گاؤں میں مزدوری کرتا ہے۔ سریش اپنے گھر کے ساتھ والے حصے میں اپنے خاندان کے ساتھ رہتا تھا۔ اس کی شادی تقریباً 12 سال قبل فیروز آباد کے علاقے رائے پورہ میں بیچ کا نگلا کی 30 سالہ بینا سے ہوئی تھی۔ جوڑے کے تین بچے تھے – 10 سالہ نتیش، 8 سالہ پونیت اور 6 سالہ روشن۔ سریش شادی کے بعد سے دہلی میں کام کر رہا تھا۔ وہ ہفتے یا دس دن میں ایک بار چھٹی لے کر اپنے اہل خانہ سے ملنے جاتا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ بینا کو منوج سے پیار ہو گیا جس کی گھر سے بیس میٹر کے فاصلے پر دکان تھی۔ پڑوسی ہونے کی وجہ سے منوج بھی اس کے گھر آنے جانے لگا۔گھر والوں سے پوچھ گچھ کرنے پر پتہ چلا کہ تقریباً آٹھ سال قبل سریش کی بیوی کا پڑوس میں کرانے کی دکان رکھنے والے غیر شادی شدہ نوجوان منوج کے ساتھ محپریم کا رشتہ تھا۔ سریش اور اس کے پورے خاندان نے اس رشتے کی مخالفت کی۔ لیکن بینا اور منوج ساتھ رہنے کے لیے پرعزم تھے۔ سریش تین دن پہلے دہلی سے گاؤں آیا تھا۔ اسے جمعرات کو واپس جانا تھا۔سریش صبح اپنے گھر کے چبوترے پر بیٹھا اپنا موبائل دیکھ رہا تھا۔ اس کے بعد منوج نے اس کے سینے میں پستول سے گولی مار دی۔ سریش کے بڑے بھائی وجے نے منوج کو لوہے کے وزن سے مارنے کی کوشش کی۔ منوج نے اس پر بھی گولی چلائی۔ کان میں گولی لگنے سے وہ زخمی ہو گیا۔
شوہر کو مار ڈال، ورنہ تیرا چہرہ نہیں دیکھوں گی۔
شوہر سے جان چھڑانے کے لیے بینا نے اپنے عاشق منوج کے ساتھ مل کر رچی اس سازش نے خود پولیس کو بھی چونکا دیا۔ sp امرت جین نے بتایا کہ دونوں نے سریش کو مارنے کے دو منصوبے بنائے تھے۔ پہلے منصوبہ یہ تھا کہ سریش کو نیند میں گلا گھونٹ کر قتل کیا جائے۔ لیکن جب وہ اس میں کامیاب نہ ہو سکے تو بینا نے منوج کو پستول دے کر کہا کہ سریش کو مارنے کے بعد ہی اپنا چہرہ دکھاؤ۔ یہاں تک کہ اس نے اسے کہا کہ اسے اتنی گولی مارو کہ وہ زندہ نہ رہے۔ منوج نے پوچھ گچھ کے دوران یہ بات قبول کی ہے۔
بینا نے شوہر کے قتل کے دو منصوبے بنائے
ملزم منوج تقریباً ساڑھے نو بجے پستول لے کر تھانے پہنچا۔ یہاں اس نے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا۔ کچھ دیر بعد پولیس نے بینا کو بھی اپنی تحویل میں لے لیا۔ جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کرنے کے عمل کے بعد دونوں سے پولیس اسٹیشن میں پوچھ گچھ کی گئی۔ پوچھ گچھ کے دوران دونوں نے پولیس کو بتایا کہ انہوں نے منصوبہ بنایا تھا کہ اس بار چھٹی پر آئے ہوئے سریش کو زندہ دہلی نہ جانے دیا جائے۔ منوج اور بینا نے خود یہ بات مان لی۔ ان کا منصوبہ یہ تھا کہ پہلے سریش کو کھانے میں نیند کی گولیاں دے کر نشہ کروایا جائے گا۔ پھر رات کو گلا دبا کر قتل کر دیا جاتا۔ لیکن وہ منصوبہ کسی طرح کامیاب نہ ہو سکا۔ چنانچہ بینا نے بندوق کا بندوبست کیا اور اسے منوج کے حوالے کر دیا۔
فائرنگ کے وقت چلائی، بچ نہ پائے ۔ :سی او برلا گروت سنگھ کے مطابق قتل سے پہلے دونوں مسلسل فون پر بات کر رہے تھے۔ بینا منوج کو اپنے شوہر کی لوکیشن بتا رہی تھی۔ واقعہ سے پہلے بینا ہی تھی جس نے اپنے شوہر کو گھر سے باہر بیٹھنے کے لیے بھیجا تھا۔ گولی چلنے کی آواز سن کر جب مقرول کا بھائی وجے بھاگا تو بینا منوج سے کہہ رہی تھی کہ جتنی گولیاں مارنا چاہو مار دو، لیکن وہ آج وہ بچنے میں کامیاب نہیں ہونا چاہیے۔اب دونوں پریم کی باقی داستان جیل میں لکھیں گے (فوٹو اور رپورٹ امراجالا کے ان پٹ کے ساتھ )










