انداز بیاں:مسعود ابدالی
امن بات چیت کے ساتھ غزہ میں امدادی مراکز پر موت کی تقسیم جاری ہے۔ اقوامِ متحدہ کی ترجمان روینا شم داسانی کے مطابق مئی کے آخر سے اب تک تقریباً 800 فلسطینی امداد تک رسائی کی کوشش میں جاں بحق ہوچکے ہیں۔ زیادہ تر قتل امریکی و اسرائیلی حمایت یافتہ ’’غزہ ہیومینیٹیرین فاؤنڈیشن‘‘ (GHF) کے امدادی مراکز کے آس پاس ہوئے۔ اقوام متحدہ کے زیرانتظام مراکز پر بھی شکار جاری رہا اور 183 فلسطینی ان امدادی قافلوں کے راستے میں اسرائیلی فائرنگ اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنے جنہیں اقوامِ متحدہ اور دیگر ادارے چلا رہے ہیں۔ اسرائیلی فوج کا مؤقف ہے کہ فلسطینی، راستوں کی پابندی نہ کرنے اور عسکری علاقوں میں داخل ہونے کی بنا پر ’حادثات‘ کا شکار ہورہے ہیں، لیکن گزشتہ ہفتے ایک اسرائیلی ریزرو فوجی نے بتایا کہ غزہ میں تعینات فوجیوں کو حکم ہے کہ جو بھی ’’نو-گو زون‘‘ میں داخل ہو، چاہے وہ نہتا شہری ہی کیوں نہ ہو، اسے فوراً گولی مار دی جائے۔ فوجی کے مطابق اس کو کہا گیا کہ ’’جو بھی ہمارے علاقے میں داخل ہو، اسے مرنا چاہیے، چاہے وہ سائیکل چلاتا کوئی نوجوان ہی کیوں نہ ہو‘‘۔ اس سے پہلے اسرائیلی جریدے ہارتز (Haaretz) کو دسمبر اور جنوری میں کئی سپاہیوں نے بتایا تھا کہ بلاجواز فائرنگ کے احکامات ڈویژن کمانڈر بریگیڈیئر جنرل یہودا واش نے خود دیے ہیں۔
نسل کشی کے خلاف اٹھنے والی آواز کو دبانے کے لیے چچا سام بدستور پُرعزم ہیں۔ غزہ میں اسرائیلی مظالم کو ’’نسل کشی‘‘ کہنے اور بڑی امریکی کمپنیوں کو اس میں شریک ٹھیرانے کے ’جرم‘ میں اقوامِ متحدہ کی نمائندہ (Special Rapporteur) محترمہ فرانسیسکا البانیز (Francesca Albanese) پر امریکی حکومت نے پابندیاں عائد کردیں۔ امریکی وزارتِ خارجہ کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ’’اسرائیل اور امریکہ دونوں، البانیز کے الزامات کو مسترد کرتے ہیں‘‘۔ البانیز نے عالمی عدالت ِ انصاف کے اسرائیلی رہنماؤں کے وارنٹ گرفتاری کی حمایت کرتے ہوئے عالمی برادری سے اسرائیل پر پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس سے پہلے جب غزہ نسل کشی تحقیقات کے نتیجے میں عالمی فوجداری عدالت نے اسرائیلی قیادت کے خلاف وارنٹ جاری کیے، تو انصاف کی راہ میں معاونت کے بجائے ٹرمپ انتظامیہ نے ICC کی چار خواتین ججوں اور چیف پراسیکیوٹر پر تادیبی پابندیاں عائد کردی تھیں۔نسل کشی کے خلاف عوامی جذبات میں بھی شدت آرہی ہے۔ جون کے آخری ہفتے میں ہونے والا انگلستان کا Glastonbury رقص و موسیقی میلہ ’’اسرائیلی فوج مُردہ باد‘‘ کے نعروں سے گونج اٹھا تھا توگزشتہ ہفتے ہسپانوی شہر فالنسیا (Valencia)کے موسیقی میلے میں اُس وقت ایسی ہی صورت حال پیدا ہوئی جب لاطینی گلوکار اور ریپ آرٹسٹ ریزیڈینتے (Residente) فلسطین کا پرچم تھامے اسٹیج پر آئے۔ اُن کے ہزاروں مداحوں نے فلسطینی پرچم لہراتے ہوئے ’’فری فری فلسطین!‘‘ کی دھن پر ناچنا شروع کیا، یا یوں کہیے کہ سازوں کی لَے حق کی صدا میں تبدیل ہوگئی۔
آخر میں UNRWA کے سربراہ فیلیپ لازارینی کا ٹویٹ:
’’غزہ فاقہ کشی کا قبرستان بن چکا ہے۔ خاموشی اور بے عملی درحقیقت شراکت ِ جرم ہے۔ اہلِ غزہ کے پاس یا تو بھوک سے مرنے یا گولی کھانے کے سوا کوئی راستہ نہیں۔ یہ بے رحم اور شیطانی منصوبہ ہے، قتل کا ایک ایسا نظام جس پر کوئی گرفت نہیں۔ ہمارے اصولوں، اقدار اور انسانیت کو دفن کیا جارہا ہے۔ جو لوگ خاموش ہیں، وہ مزید تباہی کا راستہ ہموار کررہے ہیں۔ باتوں کا وقت گزر چکا، اب بھی نہ جاگے تو ہم سب اس المیے کے شریک ہوں گے۔











