دھارمک شہر ورنداون ان دنوں سرخیوں میں ہے۔ ورنداون کے مشہور کتھا واچک انیرودھا چاریہ، پھر پریمانند مہاراج اور پھر سادھوی رتمبھرا کے متنازعہ بیانات کی مخالفت اور حمایت کا دور جاری ہے۔ اسی دوران ایک اور ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے، جس میں انیرودھا آچاریہ کے پتا شری نظر آ رہے ہیں۔ اس ویڈیو میں وہ کہہ رہے ہیں کہ آشرم کے لوگ انہیں مسلسل ہراساں کر رہے ہیں۔ وہ وزیر اعظم نریندر مودی اور ریاست کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ اور ضلع کے انتظامی افسران کے سامنے اپنا درد بیان کرتے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں۔ اس میں وہ اپنے ساتھ ہونے والی ہراسانی کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں ۔
انیرودھ اچاریہ کے پتا کی بنائی گئی اس ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد ہلچل مچ گئی ہے۔ لوگ پوچھ رہے ہیں کہ جب لوگوں کو کھانا کھلانے، بیوہ بے سہارا ماؤں اور گایوں کی خدمت کا دعویٰ کرنے والے کتھاواچک انیرودھ اچاریہ کے پتا گوری گوپال آشرم میں اذیت میں ہیں اور آشرم کے لوگوں کی طرف سے ہراساں کیا جا رہا ہے، تو وہاں رہنے والے دوسرے لوگوں کی کیا حالت ہو گی۔ویڈیو وائرل ہونے کے بعد لوگ سوال اٹھا رہے ہیں اور مطالبہ کر رہے ہیں کہ پولیس اس معاملے میں انیرودھا آچاریہ سے پوچھ گچھ کرے اور ان کا بیان ریکارڈ کرے تاکہ پوری حقیقت سامنے آسکے۔ آشرم میں رہنے والی بیوہ بے سہارا ماؤں سے بھی پوچھ گچھ کی جانی چاہیے تاکہ آشرم کی حقیقت سامنے آسکے۔ اس وقت انیرودھا آچاریہ بیرون ملک ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ وہ 5 اگست کے بعد بھارت واپس آجائیں گے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ کتھا واچک انیرودھا آچاریہ اپنے والد کے الزامات پر کیا وضاحت دیتے ہیں۔







