جاوید اختر (مرلی کرشنن، نئی دہلی)
بھارت تیرہ سالہ خانہ جنگی کے بعد دوبارہ تعمیر کے خواہاں جنگ زدہ ملک شام میں عبوری قیادت کو تسلیم کرنے کے معاملے میں امریکہ اور ترکی کے ساتھ شامل
بھارت نے شام کی ترجیحات اور منصوبوں کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے جولائی کے آخر میں پہلی مرتبہ ایک سرکاری وفد کو دمشق بھیج کر عبوری حکومت سے رابطہ قائم کیا۔بھارت کی وزارتِ خارجہ کے جوائنٹ سیکریٹری سریش کمار نے شامی وزیرِ خارجہ اسعد الشیبانی سمیت اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کیں، جو اس بات کی غمازی کرتی ہیں کہ بھارت شام کے اندرونی سیاسی حالات سے قطع نظر مضبوط تعلقات برقرار رکھنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔
اعلیٰ سطحی سفارت کاری
ان ملاقاتوں میں صحت کے شعبے میں تعاون، تکنیکی و تعلیمی اشتراک، اور انسانی امداد و مستقبل کی تعمیر نو کی بنیاد رکھنے جیسے موضوعات پر بات چیت کی گئی۔
شام کے طویل عرصے سے اقتدار میں رہنے والے آمر بشار الاسد کو دسمبر میں ایک باغی اتحاد نے اقتدار سے ہٹا دیا، جس کی قیادت بنیادی طور پر ہیئت تحرير الشام (ایچ ٹی ایس ) کر رہا تھا، اور جسے شامی نیشنل آرمی اور ترکی کی حمایت یافتہ دیگر تنظیموں کا تعاون حاصل تھا۔
⁶اب شام کی عبوری قیادت ایچ ٹی ایس کے سابق رہنما احمد الشرع کے ہاتھ میں ہے، جسے سعودی عرب، ترکی، متحدہ عرب امارات، قطر اور امریکہ جیسے علاقائی و عالمی طاقتوں کی حمایت حاصل ہو چکی ہے۔ایک خودمختار تحقیقی فورم، منترایا، کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر شانتی ماریٹ ڈی سوزا نے کہا کہ بھارت کے شام میں کئی اسٹریٹجک مفادات ہیں، جن میں وہاں موجود بھارتی شہریوں کے مفادات کا تحفظ بھی شامل ہے، اور یہ تبھی ممکن ہے جب نئی حکومت سے تعلقات برقرار رکھے۔
ڈی سوزا نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، نئی حکومت اب بھی شدید غیر استحکام کا شکار ہے، اور تعمیر نو و انسانی امداد کی شکل میں کوئی بھی مدد اس کے لیے قابلِ قبول ہو گی۔
انہوں نے مزید کہا، ’’بھارت کا نئی حکومت سے رابطہ علاقائی استحکام کو مضبوط بنانے کی ایک کوشش بھی ہے، تاکہ نئی حکومت کو شدت پسند گروہوں سے شام کو محفوظ رکھنے کے قابل بنایا جا سکے۔‘‘ڈی سوزا نے کہا کہ بشار الاسد کے بعد کی شام سے تعلقات جلد قائم کر کے بھارت نہ صرف اپنے مفادات کا تحفظ کر رہا ہے بلکہ اس اسٹریٹیجک خلا کو بھی پُر کر رہا ہے جسے دیگر قوتیں استعمال کر سکتی تھیں۔
کیا یہ بھارت کے لیے دروازہ کھولے گا؟
بھارت کی وزارتِ خارجہ کے حکام نے اشارہ دیا ہے کہ شام کی خانہ جنگی کے دوران، جب عملہ کم کر دیا گیا تھا، تب بھی دمشق میں اپنا سفارت خانہ برقرار رکھنا بھارت کی طویل المدتی اسٹریٹجک سوچ کا مظہر تھا۔
سابق بھارتی سفارت کار انیل تریگونایَت نے ڈی ڈبلیو کو بتایا ’’بھارت نے ہمیشہ شام اور اس کے عوام کے ساتھ تاریخی اور تہذیبی تناظر میں بھی اچھے تعلقات قائم رکھے ہیں۔ بھارت نے ہمیشہ مکالمے اور سفارت کاری کے ذریعے شامی قیادت میں مسائل کے حل کی حمایت کی ہے۔‘‘تریگونایَت، جو نئی دہلی کے تھنک ٹینک ’ویویکانند انٹرنیشنل فاؤنڈیشن‘ میں مغربی ایشیا کے ماہرین کے گروپ کی سربراہی کرتے ہیں، نے کہا کہ بھارت کے شام کے ساتھ تعلقات دو طرفہ تعلقات کا حصہ ہیں جیسے کہ وہ دیگر ممالک سے رکھتا ہے۔انہوں نے شام کے عبوری رہنما کا حوالہ دیتے ہوئے کہا،’’ایران شام میں کمزور پوزیشن پر ہے، لیکن ترکی کا الشرع پر مضبوط اثر و رسوخ ہے، اور وہ سمجھداری سے بھارت سمیت مغربی اور عرب ممالک کے ساتھ بھی روابط بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘‘ڈی ڈبلیو











