نئی دہلی ، ۲۲؍ اگست : جمعیۃ علماء ہند، نئی دہلی میں دینی تعلیمی بورڈ جمعیۃ کی مجلس عاملہ کا اہم اجلاس منعقد ہو۱، جس کی صدارت مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی (مہتمم دارالعلوم دیوبند و صدر دینی تعلیمی بورڈ) نے کی ۔ اس موقع پر جمعیۃ کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی، ناظم عمومی دینی تعلیمی بورڈ مولانامفتی محمد سلمان منصورپوری، صدر مجلس قائمہ ، مولانا رحمت اللہ میر ، ناظم عمومی جمعیۃ مولانا محمد حکیم الدین قاسمی اور معاون ناظم عمومی دینی تعلیمی بورڈ مولانا مفتی محمد عفان منصورپوری سمیت کئی ممتاز شخصیات شریک ہوئیں۔
اجلاس میں مکاتب کے استحکام اور فروغ سے متعلق متعدد اہم تجاویز پر غور ہوا۔ خاص طور پر آئندہ کے لیے ۱۵ سالہ منصوبہ پیش ہوا جسے منظوری دی گئی ۔ اس کے مطابق ایک کروڑ بچوں کو منظم مکاتب میں داخل کرایا جائے گا۔ فی الحال 26 لاکھ طلبہ وطالبات جمعیۃ علماء ہند سے ملحق مکاتب میں زیر تعلیم ہیں۔ اسی کے ساتھ دینی تعلیمی بورڈ کے تعارف کے لیے ایک جامع اور فعال ویب سائٹ کے قیام کی بھی منظوری دی گئی ۔
اس موقع پر اپنے صدارتی خطاب میں مولانا مفتی ابو القاسم نعمانی نے کہا کہ مکاتب دینیہ امت کے بقا و تحفظ کی بنیاد ہیں۔ اگر مکاتب باقی ہیں تو دین باقی ہے اور اگر مکاتب کمزور ہوجائیں تو نئی نسل کے ایمان و عمل میں کمزوری آجائے گی۔ لہٰذا یہ ہماری اولین ذمہ داری ہے کہ مکاتب کو مضبوط اور منظم بنایا جائے اسی کے ساتھ جدید تقاضوں کے مطابق انہیں مؤثر اور فعال بنایا جائے۔ نصاب کو سہل اور مؤثر بنانے اور اساتذہ کی تربیت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہی ملت کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔
صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا محمود اسعد مدنی نے اپنی کلیدی گفتگو میں مکاتب کے فروغ کو ملت کی اہم ترین ذمہ داری بتاتے ہوئے کہا کہ ملک کے ۱۰۰ فیصد بچوں کو بنیادی تعلیم سے وابستہ کیا جائے ۔ اس وقت سب سے بڑی ذمہ داری یہ ہے کہ ہم اپنے بچوں کو دینی تعلیم سے آراستہ کریں تاکہ وہ ایمان و عقیدے کے ساتھ اپنی تہذیب اور روایات کے بھی محافظ بن سکیں۔
دینی تعلیمی بورڈ کے ناظم عمومی مولانا سید محمد سلما ن منصورپوری نے عرض حال پیش کرتے ہوئے کہا کہ خصوصاً ایسے حالات میں جب قومی تعلیمی پالیسی کے تحت عصری اداروں کو ایک مخصوص تہذیب میں رنگنے کی منظم کوششیں جاری ہیں، ملت کے ہر فرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بچوں اور بچیوں کو ایمان پر ثابت قدم رکھنے کے لیے دینی تعلیم و تربیت سے غفلت نہ برتے۔اسی تقاضے کو سامنے رکھتے ہوئے دینی تعلیمی بورڈ جمعیۃ علماءہند ایک عرصے سے پورے ملک میں مکاتب کے قیام اور ان کی تنظیمی و تعلیمی بہتری کے لیے کوشاں ہے۔ ۔ گذشتہ 9 ماہ کے دوران دہلی، یوپی، اتراکھنڈ، راجستھان، ایم پی، گجرات، ہریانہ، بہار، مغربی بنگال، جھارکھنڈ اور آسام کے مختلف علاقوں میں متعدد تربیتی پروگرام منعقد ہوئے، جن میں مجموعی طور پر 90 سے زائد نگراں حضرات اور 2212 معلمین نے شرکت کر کے تربیت حاصل کی۔اسی طرح مختلف مقامات پر معلمات کے تربیتی کیمپ بھی لگائے گئے جن میں 64 معلمات نے تربیت حاصل کی، اور وہ اس وقت مختلف مقامات پر خواتین کے مکاتب کامیابی کے ساتھ چلا رہی ہیں۔فی الحال دینی تعلیمی بورڈ سے وابستہ مکاتب کی تعداد 55 ہزار سے زائد ہے۔ تاہم ملت کی مجموعی ضرورت اور تقاضوں کے مقابل یہ تعداد اب بھی بہت قلیل ہے۔اجلاس میں دیگر کئی اہم تجاویز منظور ہوئیں ۔ مجلس کا آغاز مفتی محمد عفان منصورپوری کی تلاوت سے ہوا جب کہ صدر دینی تعلیمی بورڈ مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی کی دعاء پر مجلس مکمل ہوئی۔











