اسرائیل کی غزہ میں بدترین بمباری کے دوران بھی ہزاروں بے گھر فلسطینیوں نے جمعرات کے روز غزہ کو چھوڑ کے جانے سے انکار کردیا ہے ۔اسرائیلی ریاست کی فوج ان دنوں ایک ایسے جنگی مرحلے میں داخل ہے جس کا مقصد غزہ کو فلسطینیوں سے پاک کرنے کے لیے بمباری کی ہر حد کو عبور کر جانا ہے ۔ تاکہ غزہ سے لاکھوں کی تعداد میں لوگ نکلنے پر مجبور ہو جائیں۔
فلسطینیوں کو غزہ سے نکلنے پر مجبور کرنے کے لیے اسی حکمت عملی کے تحت اسرائیلی فوج نے بدترین ناکہ بندی کر رکھی ہے تاکہ کوئی خوراک کا دانہ اور پانی کی بوند غزہ میں اسرائیلی فوج کی اجازت کے بغیر داخل نہ ہوسکیں ۔ اور بالآخر بھوکے پیاسے فلسطینی غزہ سے نکلنے پر تیار ملیں ۔ لیکن سخت جان فلسطینیوں نے بے گھر ہونے کے باوجود غزہ میں جس طرح پچھلے دو برسوں میں بمباری برداشت کی ہے وہ اب بھی اس بمباری کو برداشت کرنے کے لیے تیار ہیں۔غزہ کی رہائشی ایک بے گھر فلسطینی خاتون ام نادر نے کہا میں اس وقت غزہ سے انخلاء کے لیے بالکل تیار نہیں۔ میں یہیں مرنا چاہتی ہوں میرے لیے زندگی غزہ سے زیادہ اہم نہیں ہے اس کے کوئی معنی نہیں ہے کہ میں غزہ میں مروں یا غزہ سے باہر مروں۔ام نادر نے مزید کہا وہ ہزاروں لوگ جنہوں نے اپنے گھر اور شہر چھوڑ کر جانا قبول کرلیا تھا انہیں بھی اسرائیلی فوج نے بمباری کرکے ہزاروں کی تعداد میں شہید کردیا ہے ۔ اس لیے میں کیوں سوچوں کہ غزہ میں رہنا خطرناک ہے اور غزہ سے باہر رہنا محفوظ ہے ۔ پانچ بچوں کی ماں ام نادر نے اپنا یہ جواب بین الاقوامی خبر رساں ادارے روئٹرز کو ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے اپنے ٹیکسٹ میسج میں کہا ہے۔ام نادر کے علاوہ ہزاروں فلسطینیوں نے بھی اسرائیلی فوج کے انخلاء کے لیے دیے گئے تازہ احکامات کو جمعرات کے روز رد کردیا ہے۔
غزہ کے محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے جمعرات کے روز اسرائیلی ریاست کی فوج نے مزید 28 فلسطینیوں کو قتل کردیا ہے ان میں سے زیادہ تر کا تعلق غزہ شہر سے تھا ۔ یاد رہے غزہ شہر ان دنوں اسرائیلی فوج کے بدترین نشانے پر ہے ۔اور مضافات سے اسرائیلی فوج شہر کے مرکز کی طرف پیش قدمی کرنے کی کوشش میں ہے ۔اسرائیلی فوج نے غزہ شہر کو ہدف بنانے کے لیے اپنی تازہ جنگی مہم کا آغاز 10 اگست سے کیا تھا۔ اسرائیلی ریاست کے وزیراعظم نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ اس نئی جنگی یلغار کے نتیجے میں اسرائیلی فوج حماس کو شکست دینے میں کامیاب ہو جائے گی۔
عالمی برادری نے اسرائیلی ریاست کے غزہ پر ان تازہ بدترین حملوں کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ قحط زدہ فلسطینی عوام کے لیے خوراک کی ترسیل آسان بنانے کے بجائے ان پر بھوک اور بارود دونوں سے موت مسلط کی جارہی ہے ۔ یہ رویہ انسانیت سے دور کا رویہ ہے ۔غزہ کے علاقوں زیتون غزہ شہر شجائیہ اور صبرا کے اضلاع میں ٹینکوں اور جہازوں دونوں سے بارود پھینکنے کا سلسلہ جاری ہے ۔ کوئی اکا دکا بچا ہوا گھر اور پناہ گزینوں کے کیمپ ہر ایک چیز خاکستر کی جارہی ہے۔








