اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس نے غزہ شہر کی متعدد بلند عمارتوں اور رہائشی ٹاوروں کی تصاویر جاری کی ہیں جنھیں آئندہ دنوں میں نشانہ بنایا جائے گا، تا کہ شہر میں اپنی کارروائیوں کو وسعت دی جا سکے۔
آج جمعے کے روز اسرائیلی طیاروں نے غزہ کے مغربی حصے میں واقع ایک رہائشی ٹاور "مشتھی 6” کو مکمل طور پر تباہ کر دیا، جبکہ دیگر عمارتوں کے رہائشیوں کو انخلا کی ہدایات دی گئی ہیں۔شہر میں کئی ہفتوں سے جاری شدید بم باری نے وسیع تباہی اور انسانی جانوں کا بھاری نقصان پھیلایا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق زیادہ تر شہری اپنے گھروں سے بے گھر ہو چکے ہیں، لاکھوں لوگ انروا ایجنسی کے اسکولوں یا عارضی خیموں میں پناہ لیے ہوئے ہیں اور وہاں خوراک، پانی اور طبی سہولیات کی شدید قلت ہےاسرائیل کے مطابق ان حملوں کا مقصد حماس اور دیگر گروہوں کے "فوجی ڈھانچے” کو تباہ کرنا ہے، تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں شہریوں کو نشانہ بنا رہی ہیں اور بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی ہیں۔ وزیر دفاع یسرائیل کاتز نے کہا کہ کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک حماس اسرائیل کی شرائط نہ مان لے، جن میں تمام یرغمالیوں کی رہائی اور غیر مسلح ہونا شامل ہے۔
فلسطینی ذرائع کے مطابق اسرائیلی فوج نے شمالی غزہ کے علاقے جبالیا میں بھی شہریوں کو جنوبی علاقوں کی طرف انخلا کا حکم دیا ہے۔ فوجی بیانات کے مطابق ابتدائی مرحلہ بلند عمارتوں کی تباہی پر مشتمل ہے، جنھیں مبینہ طور پر حماس کے مراکز کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔








