اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی جمعے کو ’’نیویارک اعلامیے‘‘ پر ووٹنگ کر رہی ہے، جس کا مقصد اسرائیل اور فلسطین کے درمیان دو ریاستی حل کو ازسرنو فعال بنانا ہے۔ تاہم اس ریاست میں حماس کا کوئی کردار نہیں ہو گا۔
اس اعلامیے کا مسودہ فرانس اور سعودی عرب نے پیش کیا ہے اور اس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حماس کے حملوں کی مذمت کی جاتی ہے، جبکہ حماس کے قبضے میں موجود اسرائیلی یرغمالیوں کی فوری رہائی پر بھی زور دیا گیا ہے۔
اعلامیے میں غزہ میں جنگ کے خاتمے، پائیدار امن کے قیام اور دو ریاستی حل پر مؤثر عملدرآمد کی اپیل کی گئی ہے۔
اعلامیے کے مطابق جنگ کے خاتمے کے بعد غزہ میں حماس کی عمل داری ختم کی جائے گی اور اسے اپنے ہتھیار فلسطینی اتھارٹی کے حوالے کرنا ہوں گے، تاکہ ایک خودمختار فلسطینی ریاست قائم کی جا سکے۔
عرب لیگ پہلے ہی اس اعلامیے کی حمایت کا اعلان کر چکی ہے اور اس پر متعدد عرب ممالک سمیت اقوام متحدہ کی سترہ رکن ریاستوں کے دستخط موجود ہیں۔یہ بات اہم ہے کہ بائیس ستمبر کو نیویارک میں ریاض اور پیرس ایک سربراہی کانفرنس میں منعقد کرنے جا رہے ہیں، جس میں ممکنہ طور پر فرانس فلسطینی کو ایک ریاست کے بہ طور تسلیم کر سکتا ہے۔
قرارداد 142 ممالک کی اکثریت سے منظور ہوئی بھارت نے بھی اس کے حق میں ووٹ دیا جبکہ مخالفت میں 10 ووٹ پڑے۔ امریکا اور اسرائیل سمیت 12 ممالک نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔عرب میڈیا کے مطابق 7 صفحات پر مشتمل یو این اعلامیہ جولائی میں سعودیہ، فرانس کی میزبانی میں بین الاقوامی کانفرنس کا نتیجہ ہے۔فلسطین کی وزارت خارجہ نے دو ریاستی حل کے لیے “قابل عمل لائحہ عمل” بنانے کے لیے سعودی فرانس کی کوششوں کا خیر مقدم کیا۔ وزارت نے “اسرائیلی استعماری قبضے کے خاتمے کے لیے تمام میکانزم کو فعال کرنے” اور “فلسطینی عوام کے جائز حقوق کے حصول” پر بھی زور دیا۔








