••اصل کھیل سے پردہ اٹھ گیا••غزہ کو چٹیل میدان بناکر 165بلین ڈالر کی سرمایہ کاری سے نیا شہر بنےگا •امریکی منصوبے میں اسرائیل،سعودی،یواے ای معاون ••غزہ بندرگاہ گیٹ وے آف یورپ بنے گی ••حماس سے بڑی رکاوٹ ••اس کا خاتمہ ضروری •
فلسطین پر اسرائیلی حملوں کا مقصد نہ صرف حماس ا خاتمہ ہے بلکہ اس کے اثرات و نتائج بہت گہرے ہیں۔ اس میں امریکہ کے اپنے مفادات بھی پوشیدہ ہیں وہ غزہ کو سونے کے انڈے دینے والی مرغی بنانے کی تیاری کر رہا ہے۔اس کھیل میں اس کے دوست عرب ملک بھی شریک ہیں
ٹرمپ انتظامیہ نے غزہ کی ‘تعمیر نو’ کے حوالے سے 38 صفحات پر مشتمل رپورٹ تیار کی تھی جسے لیک کر دیا گیا ہے۔ Gaza Reconstitution, Economic Acceleration and Transformation (GREAT) ٹرسٹ نامی اس دستاویز کے مطابق، اگلے 10 سالوں میں، امریکہ غزہ کو ترقی دینا اور اسے انڈیا-مڈل ایسٹ یورپ اکنامک کوریڈور (IMEC) سے جوڑنا چاہتا ہے سال 2023 میں دہلی میں ہونے والے جی 20 سربراہی اجلاس میں بھارت، امریکہ، یورپی یونین، سعودی عرب اور یو اے ای نے بھی آئی ایم ای سی معاہدے پر دستخط کرنے سے اتفاق کیا ہے۔
امریکہ غزہ میں 165 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کے لیے تیار ہے۔ اس کے تحت غزہ کو ایک سمارٹ ہائی ٹیک مرکز کے طور پر تیار کیا جانا ہے۔ غزہ میں مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا سینٹرز، لگژری ریزورٹس اور ڈیجیٹل آئی ڈی سٹیز بنائے جائیں گے۔ یہاں کے سمارٹ شہروں میں صحت کی خدمات سے لے کر کاروبار اور روزگار تک سب کچھ ڈیجیٹل آئی ڈی کے ذریعے کیا جائے گا۔ امریکی حکومت کی جانب سے اس میں 100 بلین ڈالر تک اور نجی سرمایہ کاروں کی جانب سے 65 بلین ڈالر تک سرمایہ کاری کا منصوبہ ہے۔
اس بلیو پرنٹ میں خاص بات غزہ بندرگاہ کی ترقی کے بارے میں بھی ہے جسے یورپ کا گیٹ وے کہا جائے گا۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے گزشتہ سال غزہ کی بحالی کے لیے ‘غزہ 2035’ کے نام سے ایک منصوبہ تیار کیا تھا، جس میں غزہ کو لاجسٹک ہب کے طور پر ترقی دینے کا تصور تیار کیا گیا تھا، جس کے بارے میں کہا گیا تھا کہ یہ سعودی عرب کے نیوم میگا پروجیکٹ سے منسلک ہے۔ لیکن امریکہ نے اس منصوبے کو ایک بڑی جہت دی اور اسے IMAC جیسے پرجوش منصوبے سے جوڑ دیا۔
ہندوستان کے راستے وسطی ایشیا سے یورپ کو جوڑنے والے اکنامک کوریڈور میں بندرگاہوں، ریلوے، پائپ لائنوں اور ڈیجیٹل کیبل نیٹ ورکس کا جال بچھایا جائے گا۔ یہ راہداری سمندری راستے سے ہندوستان کو متحدہ عرب امارات سے جوڑے گی۔ متحدہ عرب امارات سے سعودی عرب، مصر، اردن اور اسرائیل تک سڑک اور ریلوے نیٹ ورک تعمیر کیا جائے گا۔ کوریڈور کا آخری سرا اسرائیل کی بندرگاہ سے یونان تک سمندری راستے سے منسلک ہوگا۔
اس وقت اسرائیل کی حیفہ بندرگاہ یورپ کا گیٹ وے ہے۔ غزہ کی ترقی کے بعد یہ یورپ کے لیے گیٹ وے بن سکتا ہے۔ امریکہ چین کے بی آر آئی کے جواب میں اس راہداری کو تیار کرنا چاہتا ہے۔
دوسری جانب یورپ اس منصوبے کو نہر سویز اور روسی پائپ لائن سے تحفظ کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ اس کے علاوہ خلیجی ممالک خود کو تجارت اور نقل و حمل کے درمیان میں پا رہے ہیں جس کا انہیں فائدہ یقینی ہے۔ فی الحال، اسرائیل حیفہ بندرگاہ کو یورو ایشیائی تجارت کے لیے گیٹ وے کے طور پر فروغ دے رہا ہے۔ غزہ بندرگاہ کی تعمیر کے بعد اسے مزید فوائد حاصل ہوں گے۔
خیال کیا جاتا ہے کہ اس اقتصادی راہداری کی تعمیر کے بعد تجارت میں تیزی آئے گی، اخراجات میں کمی آئے گی اور دنیا کو نئی توانائی اور ڈیٹا کوریڈور سے فائدہ پہنچے گا۔
اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کھیل کتنا بڑا ہے ،حماس اس راہ کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے اور اس کے رہتے یہ ناممکن ہے یہی وجہ ہے کہ کیا اسرائیل کیا امریکہ حتی کہ اس کے نام نہاد دوست عرب ملک بھی اس کا خاتمہ چاہتے ہیں ، سیاسی و سفارتی حلقوں کا ایک حصہ اس تھیوری کو مانتا ہے دوحہ میں حماس قیادت کے اجتماعی قتل کے ناکام منصوبے میں قطر کا بھی ہاتھ بتایا جارہا ہے







