غزہ میں حماس کے خلاف اسرائیل کا ساتھ نہ دینے پر فلسطینیوں کی ٹارگٹ کلنگ کا انکشاف ہوا ہے۔
اسرائیلی میڈیا نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ غزہ میں فلسطینیوں کو حماس کے خلاف استعمال کرنےکی اسرائیلی کوششیں جاری ہیں اور اسرائیلی فوج فلسطینیوں کو حماس کے خلاف لڑنےکےلیے اسلحہ اور بھاری رقوم دینےکی کوششیں کررہی ہے۔رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے غزہ میں آباد معروف فلسطینی قبیلے حمائل کے سربراہان کو خریدنے کی کوشش کی مگر فلسطینی قبیلے کے انکار پر اسرائیلی فوج نےان کے 50 سے زائد افراد کوقتل کیا۔
اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہےکہ غزہ میں حماس کے متبادل انتظامی ڈھانچہ کھڑا کرنے کی اسرائیلی کوششیں تاحال جاری ہیں اور حمائل کے انکار کے بعد دیگر قبائل کو خریدنے کی کوشش کی جارہی
دریں اثنا غزہ پٹی کے رہائشیوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیش امن منصوبے پر شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہوئے اسے “تماشہ” قرار دیا ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق جنوبی غزہ کے علاقے المواسی میں 39سالہ ابراہیم جودہ نے اپنے شیلٹر میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ بالکل واضح ہے کہ یہ منصوبہ غیر حقیقی ہے۔ رفح شہر کے رہائشی کمپیوٹر پروگرامر ابراہیم جودہ نے کہا کہ یہ ایسی شرائط کے ساتھ تیار کیا گیا منصوبہ ہے جسے امریکا اور اسرائیل جانتے ہیں کہ حماس کبھی قبول نہیں کرے گا، ہمارے لئے اس کا مطلب ہے کہ جنگ اور تکالیف جاری رہیں گی۔








