نئی دہلی:
جوں وکشمیر کے سابق نائب وزیر اعلیٰ مظفر حسین بیگ نے وادی کے لوگوں کو آرٹیکل 371 کے تحت خصوصی التزام دینے کی وکالت کی ہے۔ واضح رہے کہ اس آرٹیکل کے تحت شمال مشرق کے کچھ ریاستوں کو خصوصی ریاست کا درجہ دیا گیا ہے۔ مظفر حسین کے علاوہ کشمیر کے کئی اور لیڈروں نے بھی آرٹیکل 371 لائے جانے کی بات کی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی (Narendra Modi) کے ساتھ جموں وکشمیر کی سیاسی جماعتوں کی اہم میٹنگ جمعرات کو دہلی میں ہوئی۔ تقریباً 3 گھنٹے چلی اس میٹنگ میں کئی اہم موضوعات پر تبادلہ خیال ہوا، جس میں حد بندی سے لے کر انتخابات تک کی بات ہوئی۔
انگریزی اخبار انڈین ایکسپریس سے بات چیت کرتے ہوئے مظفر حسین بیگ نے کہا کہ آرٹیکل 35 اے کے تحت، جموں وکشمیر کے مقامی باشندوں کو ڈومیسائل حقوق دیئےگئے تھے۔ میرا یہ کہنا ہے کہ اگر آپ کو سپریم کورٹ میں آرٹیکل 370 سے متعلق مقدمے کے زیر التوا رہنے کی پریشانی ہے، تو پارلیفمنٹ آرٹیکل 371 کا سہارا لے سکتی ہے۔ ترمیمی دفعہ 35 اے کے تحت پہلے دیئے گئے حقوق کو 371 کے تحت لایا جاسکتا ہے۔
مظفر حسین بیگ نے مزید کہا کہ آرٹیکل 371 میں ترمیم کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 35 اے کے کچھ التزامات کو 371 میں جوڑا جاسکتا ہے۔ ایسے میں جموں وکشمیر کے لوگوں کو خصوصی حقوق مل سکتے ہیں۔ ریاست کے درجہ پر، مظفر حسین بیگ نے کہا کہ آئین کا آرٹیکل 3، جو مرکز کے زیر انتظام ریاستوں کی تعمیر کے موضوع سے متعلق ہے، پوری ریاست کا مرکز کے زیر انتظام ریاست بنانے کے لئے نہیں بلکہ ایک یا ایک سے زیادہ ریاستوں میں سے ایک مرکز کے زیر انتظام ریاست بنانے کا التزام ہے۔










