محمد باقر قالیباف نے ایران اور امریکہ کے درمیان جاری مذاکرات کے حوالے سے کہا ہے کہ کچھ پیش رفت ضرور ہوئی ہے، تاہم دونوں فریقوں کے درمیان اہم امور پر اختلافات اب بھی موجود ہیں اور حتمی معاہدہ ابھی دور ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر قالیباف کے مطابق مذاکرات کا عمل جاری ہے اور فریقین بعض نکات پر قریب آئے ہیں، لیکن بنیادی مسائل پر اتفاق رائے تاحال نہیں ہو سکا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران اپنے قومی مفادات اور خودمختاری پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا-
یہ مذاکرات بنیادی طور پر ایران کے جوہری پروگرام اور اس سے متعلق پابندیوں کے خاتمے کے معاملات پر مرکوز ہیں۔ ماضی میں بھی Joint Comprehensive Plan of Action (جے سی پی او اے) کے تحت ایک معاہدہ طے پایا تھا، تاہم بعد میں امریکہ کی علیحدگی کے بعد صورتحال پیچیدہ ہو گئی تھی۔
ایران کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز اس وقت تک بند رہے گا جب تک امریکہ ایرانی بندرگاہوں پر سے اپنی ناکہ بندی نہیں ہٹاتا، جسے وہ "جنگ بندی کی خلاف ورزی” قرار دیتا ہے – اس کا مزید کہنا ہے کہ وہ واشنگٹن کی جانب سے پیش کی جانے والی نئی تجاویز کا "فی الحال جائزہ لے رہا ہے”۔
تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ مذاکرات میں پیش رفت ایک مثبت اشارہ ہے، لیکن دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی کمی اور پیچیدہ سفارتی مسائل کے باعث کسی بڑے بریک تھرو میں ابھی وقت لگ سکتا ہے۔








