نئی دہلی— مودی حکومت کی طرف سے میسجنگ ایپ ‘ٹیلی گرام’ پر لگائی گئی عارضی پابندی کے خلاف دائر اپیل پر دہلی ہائی کورٹ کا بڑا اور حتمی فیصلہ سامنے آ گیا ہے۔ عدالتِ عالیہ نے ٹیلی گرام انتظامیہ کو شدید جھٹکا دیتے ہوئے ملک بھر میں لگی عارضی پابندی کو فوری طور پر ہٹانے سے صاف انکار کر دیا ہے۔
‘حکومت کے پاس ہے پاور’ — عدالت کے اہم ریمارکس
کیس کی سماعت کے دوران جب ٹیلی گرام کے وکلاء نے پینل کے سامنے یہ دلیل دی کہ کروڑوں عام صارفین کی رسائی کو روکنا ان کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے، تو عدالت نے سخت لہجہ :اختیار کرتے ہوئے ریمارکس دیے
"ملک کے لاکھوں طلباء کا مستقبل اور امتحانات کی ساکھ کسی بھی سوشل میڈیا ایپ سے زیادہ اہم ہے۔ آئی ٹی ایکٹ کے تحت اگر حکومت کو یہ لگتا ہے کہ کسی پلیٹ فارم کا استعمال امن و امان یا امتحانی عمل کو سبوتاژ کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے، تو حکومت کے پاس یہ عارضی پابندی لگانے کا پورا پاور (اختیار) موجود ہے۔ عدالت اس موقع پر مداخلت نہیں کرے گی۔”
ٹیلی گرام کی دلیل اور عدالت کا جواب
ٹیلی گرام کی جانب سے پیش ہونے والے سینیئر وکیل نے عدالت کو یقین دلانے کی کوشش کی تھی کہ ان کی کمپنی نے مشتبہ چینلز اور جعلی پیپرز شیئر کرنے والے اکاؤنٹس کو بلاک کرنا شروع کر دیا ہے۔ تاہم، وزارتِ اطلاعات و ٹیکنالوجی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ٹیلی گرام کا ‘اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن’ اور ‘میسج ایڈٹنگ فیچر’ تحقیقاتی ایجنسیوں کے لیے پیپر لیک مافیا تک پہنچنے میں بڑی رکاوٹ بن رہا ہے۔
عدالت نے حکومت کے اس مؤقف سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ 21 جون کو ہونے والے نیٹ ری ٹیسٹ کے پیشِ نظر 22 جون 2026 تک اس پابندی کو برقرار رکھنا بالکل جائز اقدام ہے۔










