ناگپور: ایودھیا کے شری رام جنم بھومی مندر میں چندے کی رقم میں مبینہ چوری اور بے ضابطگیوں کے معاملے پر پہلی بار آر ایس ایس (RSS) کے سربراہ موہن بھاگوت کا ردِعمل سامنے آیا ہے۔ انہوں نے اس حساس معاملے پر مختصر مگر واضح انداز میں کہا کہ اس حوالے سے آر ایس ایس کے سرکاری مؤقف کو ہی دیکھا جائے۔
ناگپور میں منعقدہ ‘سنمارگ مائنڈ ویلنیس’ پروگرام کے افتتاح کے بعد صحافیوں نے جب موہن بھاگوت سے رام مندر چندہ تنازع پر سوال کیا تو انہوں نے براہِ راست تبصرہ کرنے سے گریز کرتے ہوئے کہا، "کل آر ایس ایس کے سرکاریہ واہ دتاتریہ ہوسبولے نے ایک بیان جاری کیا ہے، آپ وہی دیکھ لیجیے۔”
آر ایس ایس نے پہلے ہی سخت مؤقف اختیار کیا تھا
موہن بھاگوت کے اس بیان سے واضح اشارہ ملا کہ آر ایس ایس اس معاملے میں اپنے جنرل سیکریٹری دتاتریہ ہوسبولے کے مؤقف کی مکمل حمایت کرتی ہے۔ ہوسبولے نے اپنے بیان میں رام مندر میں چندے سے متعلق بے ضابطگیوں پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر کسی بھی سطح پر بدعنوانی ثابت ہوتی ہے تو ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے۔
انہوں نے یہ بھی زور دیا تھا کہ شری رام جنم بھومی تیرتھ ٹرسٹ کو مالیاتی نظام اور انتظامی شفافیت کو مزید مضبوط بنانا چاہیے تاکہ کروڑوں عقیدت مندوں کا اعتماد برقرار رہے۔
تحقیقات پر سب کی نظریں
رام مندر چندہ معاملے کی تحقیقات اس وقت مختلف سرکاری ایجنسیاں کر رہی ہیں۔ کئی ملزمان گرفتار ہو چکے ہیں جبکہ مزید افراد سے پوچھ گچھ جاری ہے۔ ایسے میں موہن بھاگوت کا یہ پہلا عوامی ردِعمل سیاسی اور سماجی حلقوں میں اہم سمجھا جا رہا ہے۔









