واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ہونے والی عبوری جنگ بندی کو ختم قرار دیتے ہوئے ایک بڑا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے ایرانی قیادت پر شدید تنقید کرتے ہوئے اسے "جھوٹا، خطرناک، پرتشدد اور بے کار” قرار دیا اور کہا کہ اب ایران کے ساتھ ہونے والا جنگ بندی کا معاہدہ ان کے لیے ختم ہو چکا ہے۔
ٹرمپ کے اس بیان کے بعد عالمی مالیاتی منڈیوں میں بے چینی دیکھنے میں آئی۔ خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا، جبکہ بھارتی شیئر بازار میں سینسیکس اور نفٹی شدید گراوٹ کا شکار ہوئے۔
ٹرمپ نے کیا کہا؟
ترکی میں منعقدہ نیٹو سربراہی اجلاس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا:
"میرے لیے ایران کے ساتھ ہونے والا معاہدہ ختم ہو چکا ہے، اب میں ان کے ساتھ مزید بات چیت نہیں کرنا چاہتا۔”
تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ دونوں ممالک کے مذاکرات کار اگر چاہیں تو مذاکرات جاری رکھ سکتے ہیں، لیکن ان کے مطابق موجودہ حالات میں ان بات چیت کی کوئی خاص اہمیت نہیں رہی۔
فضائی حملوں کے بعد آیا بیان
ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ نے آبنائے ہرمز میں تین تجارتی جہازوں پر حملوں کے جواب میں ایران کے متعدد فوجی ٹھکانوں پر بڑے پیمانے پر فضائی کارروائی کی ہے۔
واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ یہ کارروائی خطے میں امریکی مفادات اور بین الاقوامی بحری راستوں کے تحفظ کے لیے کی گئی، جبکہ ایران نے امریکی حملوں کو اشتعال انگیز قرار دیا ہے۔
عالمی منڈیوں پر فوری اثر
امریکی صدر کے اعلان کے فوراً بعد عالمی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہوگئی۔ خام تیل کی قیمتوں میں تیزی دیکھنے میں آئی کیونکہ آبنائے ہرمز دنیا کی تیل سپلائی کا ایک اہم راستہ ہے۔
اس کے ساتھ ہی سرمایہ کاروں کے خدشات بڑھنے سے ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں میں بھی دباؤ دیکھا گیا، جبکہ بھارتی شیئر بازار میں نمایاں گراوٹ ریکارڈ کی گئی۔









