نئی دہلی: دہلی کی ایک عدالت نے کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے رہنماؤں سَورَو داس اور آشوتوش رانکا کو پانچ دن کی عدالتی حراست میں بھیجنے کا حکم دیا ہے۔ دونوں رہنماؤں کو 13 اکتوبر کو جنتَر منتر کے ممنوعہ احتجاجی علاقے میں مبینہ طور پر بغیر اجازت داخل ہونے کے الزام میں حراست میں لیا گیا تھا۔ بدھ، 14 اکتوبر کو انہیں اسپیشل ایگزیکٹو مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا، جہاں سے انہیں پانچ روزہ عدالتی حراست میں بھیج دیا گیا۔ پارٹی کے ایک اور رہنما اجنکیا شندے کو ذاتی مچلکے پر رہا کر دیا گیا ہے۔
یہ کارروائی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب CJP اور دیگر سیاسی و سماجی گروپ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے اور ووٹر لسٹوں کی خصوصی جامع نظرثانی (SIR) کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔
جنتَر منتر میں داخل ہونے کا الزام
پولیس کے مطابق، سَورَو داس، آشوتوش رانکا اور پارٹی کے دیگر کارکنوں نے جنتَر منتر میں داخل ہونے کے لیے بند دروازوں اور بیریکیڈز کو عبور کیا۔ اس دوران مظاہرین کے ہاتھوں میں قومی پرچم تھے اور وہ نعرے لگا رہے تھے۔ پولیس نے انہیں روک کر حراست میں لے لیا۔
حکام کے مطابق، جنتَر منتر کو حال ہی میں احتجاج کے لیے مقررہ مقام کی فہرست سے ہٹا دیا گیا تھا۔ پولیس نے اسی بنیاد پر مظاہرین کے داخلے کو غیر قانونی قرار دیا۔ اس معاملے میں مبینہ طور پر غیر قانونی اجتماع، سرکاری حکم کی خلاف ورزی، امن برقرار رکھنے کے لیے دیے گئے مچلکے کی خلاف ورزی اور سرکاری اہلکاروں کے کام میں رکاوٹ ڈالنے جیسے الزامات شامل ہیں۔
پانچ دن کی عدالتی حراست، تہاڑ جیل بھیجے گئے رہنما
اسپیشل ایگزیکٹو مجسٹریٹ کی عدالت نے سَورَو داس اور آشوتوش رانکا کو پانچ روزہ عدالتی حراست میں بھیجنے کا حکم دیا۔ دونوں رہنماؤں کو تہاڑ جیل منتقل کیا گیا ہے۔
پولیس کی کارروائی کے بعد CJP کے رہنما اجنکیا شندے کو ذاتی مچلکے پر رہا کر دیا گیا۔ شندے کی رہائی کے بعد پارٹی نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنے احتجاجی پروگرام سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔
پولیس کا مؤقف: مچلکے کی خلاف ورزی اور سرکاری کام میں رکاوٹ
پولیس کے مطابق، دونوں رہنماؤں کو اس سے قبل بھی احتجاج کے دوران حراست میں لیا گیا تھا اور انہیں امن برقرار رکھنے کی یقین دہانی کے ساتھ مچلکے پر رہا کیا گیا تھا۔ پولیس کا الزام ہے کہ جنتَر منتر میں دوبارہ داخل ہونے کی کوشش کرکے انہوں نے ان شرائط کی خلاف ورزی کی۔
پولیس نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ مظاہرین نے ڈیوٹی پر تعینات اہلکاروں کے کام میں رکاوٹ ڈالی۔ اسی بنیاد پر ان کے خلاف کارروائی کی گئی۔ تاہم یہ الزامات ہیں اور ان کی قانونی حیثیت کا تعین متعلقہ عدالتی کارروائی کے ذریعے ہوگا۔
CJP کا الزام: وکلا تک رسائی میں رکاوٹ ڈالی گئی
CJP کی قانونی امور کی سربراہ رتنا سنگھ نے الزام لگایا ہے کہ حراست میں لیے گئے رہنماؤں کو رات گئے تک اپنے وکلا سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔ ان کے مطابق، رہنماؤں کو رات تقریباً تین بجے ایک نجی گاڑی میں پارلیمنٹ اسٹریٹ پولیس اسٹیشن لایا گیا۔
رتنا سنگھ نے پولیس کی کارروائی کو من مانا قرار دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی قانونی راستہ اختیار کرے گی۔ CJP کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کا مقصد احتجاج کو روکنا اور کارکنوں کو خوف زدہ کرنا ہے۔ پولیس کی جانب سے وکلا تک رسائی سے متعلق ان الزامات پر تفصیلی جواب سامنے آنے تک انہیں پارٹی کے دعوے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔
جنتَر منتر کو احتجاجی مقام کی فہرست سے کیوں ہٹایا گیا؟
دہلی انتظامیہ نے جنتَر منتر کو احتجاج کے لیے مقررہ مقام کی فہرست سے ہٹانے کے بعد مظاہروں کے لیے متبادل مقامات کی نشاندہی کی ہے۔ ان میں رام لیلا میدان، بُراری گراؤنڈ اور مشرقی دہلی کا سی بی ڈی گراؤنڈ شامل ہیں۔
انتظامیہ کے مطابق، احتجاجی مقامات کا تعین سکیورٹی، بھیڑ کے انتظام اور بنیادی سہولتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔ دوسری جانب CJP کا اصرار ہے کہ جنتَر منتر طویل عرصے سے عوامی احتجاج کا اہم مرکز رہا ہے اور وہاں مظاہروں پر پابندی سے احتجاج کے حق پر اثر پڑتا ہے۔
گیانیش کمار کے استعفے اور SIR کے خلاف احتجاج
CJP چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کر رہی ہے۔ پارٹی اور دیگر ناقدین کا الزام ہے کہ ووٹر لسٹوں کی خصوصی جامع نظرثانی (SIR) کے دوران بڑی تعداد میں نام حذف کیے گئے، جس سے اہل ووٹروں کے حقوق متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
الیکشن کمیشن اور حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی ان الزامات کو مسترد کرتے رہے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ ووٹر لسٹوں کی نظرثانی انتخابی فہرستوں کو درست اور تازہ رکھنے کے لیے کی جاتی ہے۔
سَورَو داس اور آشوتوش رانکا کو عدالتی حراست میں بھیجے جانے کے بعد دہلی میں احتجاج، پولیس کی پابندیوں اور جنتَر منتر کی حیثیت پر تنازع مزید بڑھنے کا امکان ہے۔ CJP نے اپنے احتجاج کو جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے، جبکہ دونوں رہنماؤں کے خلاف مقدمے میں آئندہ قانونی کارروائی اہم ہوگی۔










