آگرہ: اتر پردیش میں قانون ساز کونسل (ایم ایل سی) کی 11 نشستوں کے لیے جمعہ، 23 اکتوبر کو ہونے والی ووٹنگ کے دوران آگرہ ٹیچر حلقے سے سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے امیدوار ڈاکٹر آکاش اگروال کا ایک ویڈیو سامنے آیا ہے، جس میں وہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جذباتی ہو کر رو پڑے۔ انہوں نے انتخابی عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں، بوتھ پر قبضے اور اپنے حامیوں کو ہراساں کیے جانے کے الزامات لگائے۔ اسی دوران انہوں نے کہا کہ وہ اگلے ماہ لکھنؤ کی شاہی عیدگاہ جا کر اسلام قبول کر لیں گے۔
آکاش اگروال نے دعویٰ کیا کہ انتخابی عمل کے دوران ان کے ساتھیوں، اہل خانہ اور مختلف اضلاع میں موجود حامیوں کے ساتھ نامناسب سلوک کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ معاملہ صرف انتخاب میں ہار یا جیت کا نہیں، بلکہ ان کے بقول ان کے ساتھ ہونے والے سلوک کا ہے۔
’اگلے ماہ اسلام قبول کرلوں گا‘
میڈیا سے گفتگو کے دوران آکاش اگروال نے کہا کہ وہ موجودہ حالات سے مایوس ہیں اور اگلے ماہ لکھنؤ کی شاہی عیدگاہ جا کر مذہب تبدیل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ ایسے حالات میں نہیں رہنا چاہتے جہاں، ان کے بقول، سناتن دھرم کے نام پر ان کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ کس سیاسی جماعت سے انتخاب لڑیں گے یا نہیں لڑیں گے، اس کا فیصلہ خود کریں گے۔ ان کے مطابق انتخابی نتیجے سے زیادہ اہم یہ ہے کہ ان کے ساتھیوں اور اہل خانہ کو مبینہ طور پر پریشان نہ کیا جائے۔
بوتھ پر قبضے اور انتخابی بے ضابطگیوں کے الزامات
آکاش اگروال نے الزام لگایا کہ آگرہ خطے کے کھیرگڑھ میں بوتھ نمبر 20 اور چھاتا میں بوتھ نمبر 40 پر انتخابی عمل میں گڑبڑی ہوئی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض مقامات پر ووٹنگ کے عمل کو متاثر کرنے کی کوشش کی گئی اور اس سلسلے میں انہوں نے متعلقہ حکام کو ویڈیو بھی بھیجی ہے۔
انہوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ ان کے حامیوں اور تعلیمی اداروں سے وابستہ افراد کو مختلف طریقوں سے ہراساں کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کئی اضلاع میں ان کے ساتھیوں کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے اور ان کے ساتھ توہین آمیز رویہ اختیار کیا گیا۔
تاہم، ان الزامات کی آزادانہ تصدیق فی الحال دستیاب اطلاعات سے نہیں ہوتی۔ بوتھ پر قبضے یا انتخابی عمل میں جان بوجھ کر مداخلت کے دعوؤں کی حقیقت جاننے کے لیے متعلقہ انتخابی حکام کی جانچ اور باضابطہ ردعمل اہم ہوگا۔
اتر پردیش میں 11 ایم ایل سی نشستوں پر ووٹنگ
اتر پردیش قانون ساز کونسل کی 11 نشستوں کے لیے ہونے والے انتخابات میں پانچ گریجویٹ اور چھ ٹیچر حلقے شامل ہیں۔ ان میں لکھنؤ، وارانسی، آگرہ، میرٹھ اور الٰہ آباد-جھانسی کے گریجویٹ حلقے، جبکہ مختلف علاقوں کے ٹیچر حلقے شامل ہیں۔
ان انتخابات میں رجسٹرڈ گریجویٹ اور اساتذہ ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں۔ ووٹنگ کے دوران مختلف مقامات سے انتخابی بے ضابطگیوں کے الزامات سامنے آئے، تاہم ہر دعوے کی تصدیق متعلقہ شواہد اور انتخابی حکام کے موقف کی بنیاد پر ہی کی جا سکتی ہے۔
اب آگے کیا ہوگا؟
آکاش اگروال کے بیان نے انتخابی عمل کے دوران سیاسی بحث کو تیز کر دیا ہے۔ ان کی جانب سے لگائے گئے الزامات اور مذہب تبدیل کرنے کے اعلان کو الگ الگ سمجھنا ضروری ہے: ایک جانب انہوں نے انتخابی بے ضابطگیوں اور مبینہ ہراسانی کی شکایت کی، دوسری جانب اپنی ذاتی مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے مذہب تبدیل کرنے کی بات کہی۔
فی الحال یہ واضح نہیں کہ وہ اپنے اعلان پر عمل کریں گے یا نہیں۔ اسی طرح انتخابی بے ضابطگیوں سے متعلق ان کے دعوؤں پر کسی حتمی نتیجے کے لیے متعلقہ حکام کی تصدیق یا مزید شواہد درکار ہیں۔











