لکھنؤ:
اترپردیش پولیس نے مشہور شاعر منور رانا کے گھر جمعرات کی دیر رات تلاشی لی۔ یوپی پولیس کی اس کارروائی سے ناراض منور رانا نے کہاکہ پولیس نے سفید غنڈہ گردی کی ہے ۔ پولیس نے وکیل اور میڈیا اہلکاروں کو بھی روک دیا۔ انہوں نے کہاکہ جنگل میں لاش پڑی ملے گی، بیکارو سانحہ کی طرح ،ہنگامہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ اس واقعہ سے دلبرداشتہ منور رانا نے کہاہے کہ پولیس نے زبردستی ان کے گھر میں گھس کر تلاشی لی ہے ۔ اس کے پاس سرچ وارنٹ بھی نہیں تھی۔
رانا کے مطابق پولیس نے مجھ سے کہاکہ آپ ہٹئے آپ سے کچھ بھی لینا دینا نہیں ہے، اس پر میں نے کہاکہ میں اس کا والد ہوں ، جب میں نے پولیس سے پوچھا کہ آپ کے پاس کوئی سرچ وارنٹ ہے، تو انہوں نے کچھ نہیں بولا اور گھر کی تلاشی لینے لگے۔ یہاں تک کہ راستہ بھی روک دیا۔ گھر میں نہ میڈیا کو آنے دیا اور نہ وکلاء کو ۔ یہ غنڈہ گردی نہیں تو اورکیا ہے۔ انہوں نے مزید کہاکہ پولیس کی یہ کارروائی بیکارو سانحہ کی یاد دلاتی ہے۔
اہل خانہ نے پولیس پر بغیر نوٹس کے گھر میں گھسنے کا الزام لگایا ہے۔ اس واقعہ سے منوررانا کے پریوار والے حیران ہیں ۔ منور رانا کی بیٹی سومیہ رانا نے الزام لگایا کہ تقریباً 100 سے زیادہ پولیس اہلکاربغیر کچھ بتائے اچانک گھر میں گھس گئے ۔ الزام ہے کہ پولیس نے دیر رات گھر میں موجود خواتین اور بچوں کا فون چھین کر جبراً پریشان کیا۔منور رانا کی بیٹی کا کہنا ہے کہ انتظامیہ انتقام کے جذبہ سے کارروائی کررہی ہے ۔
جانکاری کے مطابق منور رانا کی بیٹی اور کانگریس لیڈر فوزیہ رانا نے کہاہے کہ ان کے پریوار کو پریشان کیا جا رہاہے ۔ ساتھ ہی پولیس کے ذریعہ ڈرایا جا رہا ہے ۔ فوزیہ رانا نے تمام سے مدد کی اپیل کی ہے ، انہوں نے ایک ویڈیو جاری کرکے کہا ہے کہ میرے بیمار والد کو بھی پریشان کیا گیا ۔ انتظامیہ میرے والد اور ہم لوگوں سے بدلہ لے رہی ہے ۔ پولیس بغیر سرچ وارنٹ کے گھر کے اندر تک پہنچ آئی۔ پولیس نے گھر میں بنی لائبریری کی تلاش لی اور میرے والد منور رانا کو گھر کے باہر بٹھا دیا۔ دعویٰ یہ بھی کیا گیا ہے کہ پولیس کے ذریعہ فوزیہ کی 16 سالہ بیٹی کا موبائل فون ضبط کر لیا گیا ہے ۔









