دہرادون :
اتراکھنڈ کے وزیر اعلیٰ تیرتھ سنگھ راوت نے استعفیٰ دینے کی پیش کش کی ہے۔ تیرتھ سنگھ کو دو دن پہلے ہی اچانک دہلی بلایا گیا تھا اور تب سے ریاست کے اندر قیاس آرائیوں کا بازار گرم ہوگیا تھا۔
دہرادون میں کل بی جے پی بی جے پی لیجسلیچر پارٹی کی میٹنگ بلائی جائے گی اور اس میں نئے سی ایم کا انتخاب کیا جائے گا۔ کہا جا رہا ہے کہ راوت گورنر سے بھیں ملیں گے اور انہیں اپنا استعفیٰ سونپ دیں گے۔ مرکز سپروائزر کے طور پر وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر کو دہرا دون بھیجا جا رہاہے ۔
ذرائع کے مطابق تیرتھ سنگھ راوت نے بی جے پی صدر جے پی نڈا کو استعفیٰ کا لیٹر بھیج دیا ہے ۔ لیٹر میں راوت نے لکھا ہے کہ عوامی نمائندگی ایکٹ کے سیکشن 151 اے کے تحت اب ضمنی انتخابات ممکن نہیں ہیں ، لہٰذا وہ وزیر اعلیٰ کے عہدے سے استعفیٰ دے رہے ہیں۔
دھن سنگھ ، ستیہ پال کا نام آگے
نئے وزیر اعلیٰ کے طور پر دھن سنگھ راوت ، ستیہ پال مہاراج کا نام آگےبتایا جا رہا ہے ۔ جب ترویندر سنگھ راوت کو ہٹایا گیا تھا ، تب بھی ان دونوں لیڈروں کے نام پر تبادلہ خیال ہو ا تھا، لیکن اس وقت پارٹی نے تیرتھ سنگھ راوت پر داؤ لگایا تھا۔ اس بات کا اندازہ بی جے پی ہائی کمان کو بھی نہیں رہا ہوگا کہ اتنا جلد اسے تیرتھ سنگھ راوت سے استعفیٰ دینے کے لیے کہنا ہوگا۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ہائی کمان اب موجودہ ایم ایل اے میں سے ہی کسی کو وزیر اعلیٰ بنائے گی۔
تیرتھ سنگھ آئینی مشکلات کا سامنا کررہے تھے۔ عومی نمائندگی ایکٹ کے آرٹیکل 151 اے کے مطابق چونکہ وزیر اعلیٰ تیرتھ سنگھ راوت ایم ایل اے نہیں ہیں، اس لئے انہیں اس عہدہ پر بنے رہنے کے لیے وزیر اعلیٰ منتخب کئے جانے کے دن سے چھ مہینے کے اندر اسمبلی کے رکن منتخب ہونا لازمی تھا اور یہ مقررہ وقت 9 ستمبر کو ختم ہورہا ہے تھا۔









