اردو
हिन्दी
مئی 3, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

اب سکھ بنام مسلم فرقہ وارانہ سیاست

5 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ مضامین
A A
0
اب سکھ بنام مسلم فرقہ وارانہ سیاست
29
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

ایڈووکیٹ ابوبکرسباق سبحانی

کشمیر کی تاریخ میں مسلم اکثریتی قوم اور سکھ اقلیت ہمیشہ پیار محبت سے ایک ساتھ رہی ہے،  سخت حالات میں بھی دونوں قومیں اتحاد و اتفاق کے ساتھ ایک دوسرے سے اعتماد و بھروسے کے رشتوں سے جڑی رہی ہیں۔اگر ایک طرف کشمیر خانہ جنگیوں کا شکار رہا وہیں دوسری طرف مختلف مذاہب و قوموں کے باہمی تعلقات اور ایک دوسرے کے ساتھ اتحاد و یکجہتی کی مثال بھی رہا ہے، لیکن گزشتہ کچھ دنوں سے دونوں قوموں کے درمیان نفرت کی سیاست کی بیج بونے کی خبریں نہ صرف کشمیر میں بے چینی پیدا کررہی ہیں بلکہ پورے ہندوستان میں ایک نفرت کی فضا ہموار کرنے میں کامیاب ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔

حالیہ دنوں میں ہونے والے تنازعہکا سبب ایک شادی ہے جو ایک 19 سالہ سکھ لڑکی اور ایک 29 سالہ مسلم کشمیری کے باہمی رضامندی سے ہوئی شادی کے بعد کھڑا ہوگیا، کشمیر میں یا دیگر کسی بھی جگہ دو مذہبی فرقوں کے درمیان شادی یا تبدیلی مذہب کا واقعہ ہمارے سماج کے لئے کوئی نیا واقعہ نہیں ہے، لیکن موجودہ حالات میں ایک مخصوص سیاسی نظریے کے حامل افراد ایسے واقعہ کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کی فراق میں رہتے ہیں، اس میں کوئی شک نہیں کہ بین المذاہب شادی یا محبت کو نا تو دونوں فریقین کے خاندان کی تائید حاصل ہوتی ہے اور نا ہی سماج کی، لیکن ایک ہی سماج یا معاشرے میں اس قسم کے واقعات ہوتے رہے ہیں نیز ان پر مکمل پابندی نافذ کرنا کسی بھی ملک یا سماج میں ممکن نہیں ہوسکا ہے، البتہ ایسے واقعات میڈیا یا عوام کے لئے عموما موضوع بحث بھی نہیں ہوتےہیں۔

کشمیر میں ہونے والے واقعہ پر اگر نظر ڈالیں تو سرینگر کی منمیت کور جس کی عمر عدالتی ریکارڈ کے مطابق 19 سال ہے، جس نے ایک کشمیری مسلم کے ساتھ شادی کی، شادی کے بعد لڑکی کے گھر والوں نے جبریہ تبدیلی مذہب کا الزام لڑکے پر عائد کیا، وہیں ایک دوسری لڑکی 28 سالہ دنمیت کور جس نے 2014 میں اپنے کلاس میٹ مسلم لڑکے سے شادی کی تھی، اس کے اوپر بھی جبریہ مذہب تبدیلی اور ذبردستی شادی کا الزام لگاتے ہوئے کشمیر کے ساتھ ساتھ ملک کے دیگر مقامات پر بھی احتجاجات ہونے لگے۔ دنمیت کور نے بندوق کی نوک پر شادی و تبدیلی مذہب کے الزامات کو سراسر خارج کردیا ہے، جب کہ منمیت کا عدالت میں دیا گیا بیان ابھی تک منظر عام پر نہیں آیا ہے لیکن اس کو اس کے اہل خانہ کے حوالے کردیا گیا جس کی بعد میں ایک سکھ لڑکے سے شادی کرادی گئی، جب کہ شاہد نظیر بھٹ کو پولیس تحویل میں بھیج دیا گیا، منمیت کور کی فیملی کا الزام ہے کہ کورٹ میں بیان درج ہونے کے درمیان ان کو کورٹ روم میں نہیں جانے دیا گیا جبکہ سیکڑوں سکھ عدالت کے باہر نعرے بازی کررہے تھے۔

تنازعہ اس وقت فرقہ وارانہ سیاست کا شکار ہوگیا جب دہلی سے دہلی سکھ گرودوارہ مینیجمنٹ کمیٹی کے صدر منجندر سنگھ سرسا ایک وفد کے ساتھ 27 جون کو سرینگر پہنچے اور وہاں ایک احتجاجی پروگرام منعقد کیا جس میں مسلم کمیونٹی کے خلاف نفرت آمیز بھڑکاو بیانات دیے گئے، ساتھ ہی بی جے پی اتحاد میں شامل شریمنی اکالی دل کے صدر سکھبیر سنگھ بادل اور نیشنل سکھ فرنٹ کے چیئرمین وریندرجیت سنگھ جیت نے بھی سخت بیانات جاری کئے، اکال تخت جتھیدار نے بھی مرکزی حکومت کو خط بھیج کر اترپردیش و مدھیہ پردیش کے طرز پر تبدیلی مذہب مخالف قانون بنانے کی گزارش کی۔ باہری دباو اور واقعہ کو فرقہ وارانہ سیاست کا رنگ دینے کی ناپاک کوششوں کو دیکھ آل پارٹیز سکھ کوآرڈینیشن کمیٹی کے چیئرمین جگموہن سنگھ رائنا نے پریس کانفرنس کرکے صفائی پیش کی کہ کشمیر میں جبریہ تبدیلی مذہب کا کوئی بھی حادثہ پیش نہیں آیا ہے اور دہلی کے لیڈران بھڑکانے والے بیانات دے کر ایک معمولی واقعہ کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش کررہے ہیں، کشمیر میں مسلم اور سکھ قومیں ہمیشہ میل محبت سے رہی ہیں جن کے درمیان نفرت کے بیج بونے کی ناپاک کوشش ہورہی ہے اور ایسے تمام ہی سماج دشمن عناصر کے خلاف سخت قانونی کاروائی ہونی چاہیے۔

بین المذاہب شادی کے واقعات میں عموما لڑکی کے گھر والے پولیس تھانے میں رپورٹ درج کروانے اور لڑکی کو واپس حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، لڑکی کے اہل خانہ اپنی لڑکی کو بہلا پھسلا کر یا ذبردستی اغوا کرنے کی دفعات میں مقدمہ درج کرواتے ہیں، اگر لڑکی اور لڑکا دونوں بالغ ہوں تو پولیس اپنی تفتیش میں باہمی رضامندی کے پہلو پر اطمینان حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہے، لڑکی کو مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا جاتا ہے، لڑکی کے بیان کے بعد مجسٹریٹ کو اگر لڑکی کی رضامندی سے شادی یا مذہب کی تبدیلی ہونا ثابت ہوتا ہے تو معاملہ وہیں ختم ہوجاتا ہے، لڑکی اپنی مرضی سے لڑکے کے ساتھ چلی جاتی ہے، عدالت ایسی صورت میں دونوں کو تحفظ فراہم کرنے کی درخواست پر پولیس و انتظامیہ کو احکامات دیتی ہے تاکہ ان کو کسی بھی قسم کے خطرات سے محفوظ رکھا جاسکے۔

اگر پولیس تفتیش یا مجسٹریٹ کو دیے گئے بیان کے دوران کسی بھی قسم کے دباو یا طاقت کے استعمال کی بات سامنے آتی ہے، یا لڑکی کا نابالغ ہونا ثابت ہوتا ہے تو لڑکی کو اس کے اہل خانہ کے حوالے کرتے ہوئے، لڑکے کو پولیس کے حوالے کردیا جاتا ہے، زور ذبردستی یا طاقت کے استعمال کے ذریعے کسی لڑکی کو اغوا کرنے اور اس کے مذہب کو غیرقانونی طریقے سے تبدیل کرانے کے الزام میں اینڈین پینل کوڈ کی دفعات کے ساتھ ہی دیگر مروجہ قوانین کے تحت پولیس اپنی تفتیش مکمل کر کے عدالت میں چارج شیٹ داخل کرتی ہے اور ملزم لڑکے کو قانون کے مطابق عدالت میں اپنا دفاع کرنے کا دستوری موقع فراہم کیا جاتا ہے۔

عدالت میں مجسٹریٹ کے سامنے ہونے والے بیانات اس پورے مقدمہ میں سب سے زیادہ اہم ہوتے ہیں، مجسٹریٹ کی قانونی ذمہ داری ہوتی ہے کہ جب وہ کرمنل پروسیجر کوڈ کی دفعہ 164 کے تحت کسی کے بھی بیان درج کرے تو کورٹ روم میں بیان دینے والے کے علاوہ صرف مجسٹریٹ اور اس کا اسٹینو (تحریر کرنے والا) ہی موجود ہو تاکہ بیان دینے والا کسی بھی قسم کے دباو یا ڈر سے پوری طرح آزاد ہو نیز کسی کی موجودگی کا اس کے ذہن و دماغ پر کوئی اثر یا دباو نا ہو، مجسٹریٹ پورا بیان درج کرنے کے بعد وہ بیان پڑھ کر سنائے گا اور اس پر توثیق کے لئے بیان دینے والے کے دستخط کے بعد اپنے دستخط اور مہر تصدیق کے لیے ثبت کرے گا۔ 

ہمارے ملک کو کثیرالمذاہب ہونے کے ساتھ ساتھ ایک سیکولر ملک ہونے کی انفرادیت حاصل رہی ہے، لیکن ایک خاص ذہنیت کی سماجی و سیاسی طاقتیں سماج میں نفرت کی سیاست کرکے اپنے سیاسی مقاصد کو پورا کرنے کی کوشش کررہی ہیں، کچھ دنوں پہلے کیرلا میں الیکشن ہونے والے تھے اور کیرلا میں سیاسی مقاصد حاصل کرنے کی غرض سے لو جہاد کی سیاست کو ہوا دی گئی، ہادیہ کا مقدمہ ہمارے سامنے ہے، کس طرح این آئی اے کو ہادیہ کے معاملے میں تفتیش دی گئی اور ایک عام واقعہ کو ملک کی سلامتی کا مسئلہ بنانے کی حکومت و میڈیا دونوں نے پوری تگ و دو کیں، اب پنجاب اور اترپردیش میں الیکشن ہونے والے ہیں، ملک کے وزیراعظم نے جموں کشمیر کی تمام سیاسی پارٹیوں کے ساتھ حالیہ دنوں میں ہی میٹنگ کرکے جموں و کشمیر میں بھی سیاسی ڈھانچے میں دوبارہ روح پھونکنے کی امید ہی جتائی ہے لیکن اب دوبارہ ہندو مسلم نفرت کے پرندے کے ساتھ مسلم بنام سکھ پرندے کو بھی پنجرے سے باہر نکال دیا گیا ہے، آخر یہ نفرت کی سیاست ہمارے سماج کو کتنا کھوکھلا کرنا چاہتی ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ بین المذاہب شادی کو سماج کے کسی طبقے کی تائید حاصل نہیں ہے لیکن کسی ایک مسلم لڑکے کی کسی ایک سکھ یا ہندو لڑکی سے شادی کو ایک دوسری قوم کےخلاف صف آرا کرنے کی سیاسی کوششیں ایک ایسا سماج بنادے گا جہاں حکومت تو فرقہ پرست طاقتوں کو مل سکتی ہے لیکن سماج نفرت کی آگ میں جھلس جائے گا۔

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN