اردو
हिन्दी
مئی 5, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

مسلمانوں کوسیاسی غلامی سے آزادی حاصل کرنے کا یہی وقت ہے

5 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ مضامین
A A
0
مسلمانوں کوسیاسی غلامی سے آزادی حاصل کرنے کا یہی وقت ہے
39
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

کلیم الحفیظ۔نئی دہلی

بھارت آزاد ہوا تو بھارتیوں کو بھی آزادی کا دن دیکھنا نصیب ہوا ۔مگر یہ آزادی ہر بھارت واسی کے لیے مفید ثابت نہیں ہوئی۔مزدور،کسان ،غریب اور بد حال لوگوں کے حصے میں 15؍اگست کا دن صرف ایک قومی تیوہار بن کر رہ گیا ۔74سال گزرجانے کے بعد بھی بھارت واسیوں کو وہ آزادی نہیں ملی جس کے لیے انھوں نے قربانیاں دی تھیں۔ایسا محسوس ہوا کہ آزادی کے نام پر صرف اتنی تبدیلی آئی کہ گورے انگریزوں کی جگہ کالے انگریز حکمراں ہوگئے۔وہی جبرو استبداد جو برٹش راج میں تھا آج بھی ہے۔اس وقت انگریز حاکم کے خلاف کچھ لکھنا اور بولنا ناقابل معافی جرم تھا آج بھی حکومت پر تنقید کرنا ملک سے غداری ہے۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ غلامی لباس بدل کر باقی رہی ۔خاص طور پر جس طبقے کو سب سے کم آزادی ملی وہ مسلمان ہیں۔وہ ملک میں ایسے رہ رہے ہیں جیسے کوئی کرائے دار مالک مکان کے رحم و کرم پر رہتا ہے۔اس کے باوجود بعض دانشور کہتے ہیں کہ’’ مسلمان اس ملک میں نہ حاکم ہیں اورنہ محکوم بلکہ وہ اقتدار میں برابر کے شریک ہیں۔‘‘مگر ان کا یہ قول ’’دل کو خوش کرنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے‘‘ کے مصداق ہے ۔ اقتدارمیںبرابرکی شرکت کی بات تو چھوڑیے آپ اپنی آبادی کے تناسب میں بھی کہیںنہیں ہیں۔ دانشوران قوم جسے اقتدار میں حصے داری کانام دے رہے ہیں وہ ایک ’سراب‘ کے سوا کچھ نہیںہے۔

اقتدار کامطلب ہوتا ہے کہ صاحب اقتدار اپنے اختیارات کا استعمال آئین کی حدود میں اپنے من کی آزادی اور ضمیر کی آواز پر کرسکے۔جس ملک میں مسلمانوں کو دستر خوان پر مینو کے انتخاب کی بھی آزادی نہ ہو اسے آپ اقتدار میں برابر کی حصے داری کی بات کہہ کرمغالطے میںہیں؟ ،جہاں داڑھی اور ٹوپی دیکھ کر لنچنگ ہورہی ہو ،جہاں اذانوں کی صدائیں بار گوش ہورہی ہوں ،وہاں آزادی ہی خطرے میں ہے کجا کہ اقتدار میں حصے داری۔تعلیمی میدان میں آپ پر زعفرانی نصاب مسلط،بازار میں آپ کے ساتھ تعصب ،سرکاری نوکریوں میں مسلسل گرتی ہوئی شرح،پرموشن میں آپ کے ساتھ دھاندھلی،عبادت گاہیں غیر محفوظ،عزت و ناموس دائوں پر،سیاست میں پارٹی وہپ کی مجبوری ،اس کے باوجود بھی اگر آپ کو لگتا ہے کہ بھارت میں مسلمان غلام نہیں آزاد ہے بلکہ اقتدار میں برابر کا شریک ہے تو یہ سہانے خواب آپ کو مبارک ہوں۔جس قوم کی پانچ سو سالہ عبادت گاہ دن کے اجالے میں گرادی جائے اور پھر طویل عدالتی کارروائی کے بعد ’’بھویہ رام مندر‘‘بنادیا جائے۔جس کے پرسنل لا ء میں مداخلت کے دروازے کھول دیے جائیں ،جس کے وجود پر ہی سوالیہ نشان لگ جائے۔اگر اس قوم کے دانشور خودکو آزاد سمجھتے ہیں اور اقتدار میں برابر کا شریک گردانتے ہیں تو اس قوم کو غلامی کی مزید دل دل میں جانے سے کون روک سکتا ہے۔؟

مجھے لگتا ہے کہ شاید الیکشن میں حصہ لینے کی آزادی کو ہم اقتدار میں شرکت سمجھ رہے ہیں ۔اس سلسلے میں یاد رکھنا چاہیے کہ ہم جس پارٹی کے امیدوار ہوتے ہیں ہماری آزادی اس پارٹی کے پاس گروی رکھی ہوتی ہے۔گزشتہ ستر سالوں میں کتنے ہی مواقع ایسے آئے جب پارلیمنٹ میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف قانون سازی ہوئی مگر ہمارے مسلم ممبران پارلیمنٹ نے پارٹی وہپ کے پابند ر ہتے ہوئے یا تو اس بل کے حق میں ووٹ دیا ،یا زیادہ سے زیادہ غیر حاضر رہے یا بیمار ہوگئے ۔ طلاق ثلاثہ کی ووٹنگ کے دن ایک صاحب ریش ممبر پارلیمنٹ کاپیٹ خراب ہوگیا تھا۔کانگریس کے ایک ممبر پارلیمنٹ جو بغل میں جائے نماز رکھتے تھے ،بابری مسجد انہدام پر جب ان سے کہا گیا کہ مسلم ممبران پارلیمنٹ کو کم سے کم استعفیٰ دے دینا چاہیے تو ان کا جواب تھا کہ ہم مسلمانوں کے نمائندے نہیں بلکہ کانگریس کے نمائندے ہیں۔کیااسے ہم اقتدار میں برابر کی حصے داری کہہ رہے ہیں؟

تمام سیاسی جماعتوں کی تاریخ پڑھ لیجیے جن کی قیادت برادران وطن کررہے ہیں ۔ان کے دربار میں مسلم رہنمائوں کی وقعت صرف اتنی ہے کہ وہ مسلم ووٹوں کے بیوپاری سمجھے جاتے ہیں۔سماج وادی پارٹی کئی بار اقتدار میں آئی لیکن مسلمانوںکو کیا ملا؟وہ اعظم خاں جس کے نام پر مسلم ووٹ حاصل کیے جاتے رہے آج جیل میں اپنے دن گن رہے ہیں اور پارٹی کے مکھیا باپ اور بیٹے یوگی جی کے ساتھ ناشتے اڑا رہے ہیں۔وہی ڈاکٹرشہاب الدین(اللہ غریق رحمت کرے) جن کے بل پر لالو یادو حکومت کے مزے لوٹتے رہے جب وقت آیا تو تسلی کے دو بول بھی نہ بول سکے۔کتنے ہی یعقوب قریشی،کوکب حمید،نسیم صدیقی،منقاد علی اپنی اپنی پارٹیوں میں منصب پر رہتے ہوئے بھی قوم کے لیے کچھ نہ کر سکے ۔آج بھی ایس ٹی حسن،کنور دانش علی،شفیق الرحمان برق جیسے ذی شعور لوگ موجود ہیں مگر اپنی اپنی سیاسی جماعت کی پالیسی کے پابندہیں ۔ کنور دانش علی نے طلاق ثلاثہ اور کشمیر پر ضمیر کی آواز پردو لفظ بول دیے تو بہن جی نے ان کوپارلیمنٹ میں پارٹی لیڈر کے عہدے سے برطرف کردیا ۔یوپی میں مختار انصاری کی اوردہلی میں طاہر حسین کی خبر لینے والا کوئی نہیں، ایسا نہیں ہے کہ مسلم سیاسی لیڈران اپنی اوقات نہ سمجھتے ہوں ۔وہ سب جانتے ہیں ،ان میں سے ہر ایک کو معلوم ہے کہ پارٹی کے فیصلوں میںان کا کتنا رول ہے۔وہ اپنے محلہ میں ایک اسکول نہیں بنواسکتے ،ایک اسپتال نہیں کھلوا سکتے۔اس دردکا تنہائی میں وہ اظہاربھی کرتے ہیں۔مگر پارٹی میں رہ کر اپنی بات منوانے کا ان میں دم خم نہیں اور نہ کسی مسلم قیادت کو تسلیم کرنے کی ہمت ہے۔غیروں کو ہاتھ جوڑ کر نمستے کرنے والے اپنوں کو سلام کرنے سے ہچکچاتے ہیں،اپنوں کی حمایت سے انھیں جمہوریت خطرے میں پڑتی دکھائی دیتی ہے۔ملک میں مسلمانوں کی بدترین صورت حال کے لیے یہی مسلم قیادت ذمہ دار ہے جس نے اپنے ووٹوں کا سودا کیااوراپنی قوم کو بیچ ڈالا۔پوری پارلیمنٹ میں کون ہے جو مسلم اور مظلوم اقوام کے مسائل پر کھل کر بات کرتا ہے۔جو دن کو دن اور رات کو رات کہتا ہے ؟ پہلے وہ اکیلا تھا،حسن اتفاق کہ اب وہ ایک سے بڑھ کر دو ہوگئے ہیں ۔ جو اپنے ضمیر کی آواز پر اس لیے بول جاتے ہیں کہ وہ پارٹی وہپ سے زیادہ آئین کے وفادار ہیں۔

میرے عزیزو :تم نے ستر سال تک کانگریس کو خون دے کر سینچا ،تم نے اپنے ووٹوں اور نوٹوں سے لالو،ملائم،نتیش،کیجریوال،ممتا،اور مایا کو مالا مال کیا اور مضبوط کیا جس کے بل پر انھوں نے اپنی برادریوں کو طاقت وربنا دیا اور تمہیں سیاسی دیوالیہ کردیا ۔صرف ایک بار کسی اپنے کو بھی مضبوط کرکے دیکھ لو آ خر وہ بھی تمہارا بھائی ہے ۔مثل مشہور ہے کہ’’ غیر مارے دھوپ میں ڈالے اور اپنا مارے چھائوں میںڈالے‘‘۔اس بات پر یقین رکھو کہ تمہاری اپنی قیادت کبھی ظلم کے ساتھ کھڑی نہیں ہوسکتی ،کبھی اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نہیں جاسکتی ۔ہماری سیاسی غلامی اسی طرح ختم ہوسکتی ہے ۔اپنی سیاسی غلامی سے آزادی حاصل کرنے کایہ بہت اچھا وقت ہے کیوں کہ ہم نے سب کو آزما کر دیکھ لیا ہے ۔ہم پر کسی کا ووٹ ادھار نہیں ہے۔کوئی ہم سے شکوہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے اور کوئی یہ کہنے کی پوزیشن میں نہیں ہے کہ ہمیں ووٹ دو ورنہ بی جے پی آجائے گی ۔کیوں کہ ان کو ووٹ دینے کے بعد بھی بی جے پی آچکی ہے ۔

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN