مظفر نگر :
ایک طرف بہوجن سماج پارٹی ( بی ایس پی ) ،بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جےپی) اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) برہمن ووٹوں کو مظبوط کرنے کی کوشش کررہی ہے تو وہیں دوسری طرف راشٹریہ لوک دل (آر ایل ڈی) اپنی نئی قیادت کے تحت مسلم – جاٹ ووٹوں کی کھوئی زمین واپس لانے کی کوشش میں مصروف ہے ۔ اس کے لئے آر ایل ڈی نے ’بھائی چارہ سمیلن ‘ کا بھی کاانعقاد کیا ہے ۔
اس کا مقصد مسلم اور جاٹ برادریوں میں اتحاد لاکران کا ووٹ حاصل کرنا تھا۔ ان دونوں برادریوں کو ریاست کے مغربی حصوں میں بڑے ووٹ بینک سمجھے جاتے ہیں ۔
پارٹی کھل کر کسان آندولن کی حمایت میں بھی آئی۔ انہوں نے زرعی قوانین کی مخالفت میں ریاست بھر میں کئی مہا پنچایت کا انعقاد کیا۔ سابق آر ایل ڈی سربراہ اجیت سنگھ کے انتقال کے بعد ان کے بیٹے جینت چودھری نے پارٹی کی باگ ڈور سنبھال لی ہے۔ اب اگلےسال ہونے والے اسمبلی انتخابات میں ان کابڑا امتحان ہونے جا رہاہے ۔
آر ایل ڈی کا باغپت، مظفر نگر ،شاملی اور میرٹھ سمیت مغربی یوپی کے کئی اضلاع میں دبدبہ مانا جاتاہے ۔ اگلے سال ہونے والے اسمبلی انتخابت میں پارٹی انہیں پر فوکس کرنےکی حکمت عملی بنانے میں مصروف ہے۔
مظفر نگر فساد کی وجہ سے ہوئی پولرائزیشن کو ٹھیک کرنے کی کوشش!
واضح رہے کہ سال 2013 میں یوپی کے مظفر نگر میں زبردست فرقہ وارانہ فسادات ہوئےتھے، جس میں تقریباً60لوگ مارے گئے اور ہزاروں اس سے متاثر ہوئے تھے۔ اس سے آر ایل ڈی کے روایتی ووٹ بینک کو بھی دھچکا لگا ہے ۔ فسادات کے بعد پولرائزیشن نے بی جے پی کو فائدہ پہنچایا اور 2014 میں پارٹی نے مغربی یوپی کی تمام سیٹیوپر جیت حاصل کی۔ آر ایل ڈی یہاں اچھی کارکردگی نہیں کرپائی تھی۔
2019 کے اسمبلی انتخابات میں بھی پارٹی کو زیادہ کامیابی نہیں ملی۔ کیرانہ سیٹ پر 2018کے لوک سبھا ضمنی انتخابات میں پارٹی کی واحد جیت رہی جہاں پارٹی کے امیدوار تبسم حسن نے بی جے پی کے حریف کوشکست دی۔
پارٹی نے حال ہی میں ہوئے پنچایت انتخاب میں اچھی کارکردگی کرنے کی کوشش کی ہے ۔ پارٹی نے باغپت کی 20 میں سے 9 ،مظفر نگر کی 40 میں سے 7، میرٹھ کی 33 میں سے 6 ، بلند شہر کی 52 میں سے 7، علی گڑھ کی 47 میں سے 7 اورمتھرا کی 33 میں سے 9 سیٹیں جیتی ہے ۔
سیاسی ماہرین ا ن کامیابیوں کا سہرا پارٹی کے ذریعہ کسان آندولن کی حمایت کو دے رہے ہیں ۔ حال ہی میں پارٹی نے کسان آندولن کی حمایت میں کئی مہاپنچایت کی ہے ۔
دونوں برادریوں کو اپنے پالے میں لانے کی کوشش کرتے ہوئے آر ایل ڈی نے بھائی چارہ کی شروعات کردی ہے۔ بھائی چارہ سمیلن کا انعقاد میرٹھ کے ڈانڈو پور گاؤں اور مظفر نگر کے کھتولی میں انعقاد کیا جاچکا ہے ۔
واضح رہے کہ ریاست میں جاٹ 2 فیصد ہیں،جو کم سے کم 55 سیٹوں مںی متاثر کن رول ادا کرتے ہیں ۔ اس کے ساتھ ریاست میں 19 فیصد آبادی والے مسلمان برادری کا اتحاد پارٹی کے لئے مضبوط ووٹ بینک ثابت ہوسکتا ہے ۔











